آپ لوگوں نے پارلیمنٹ کو سپریم کہا ہے اور ذاتِ باری تعالیٰ کو یہ شرک ناگوار گزرا ہے ۔۔۔

aaj-ki-baat-new

یہ فرمانِ خدا فرشتوں سے ہے ۔۔۔اسے قلمبند علامہ اقبال ؒ نے کیا ہے۔۔۔
سید خورشید شاہ یا جناب بلاول زرداری بھٹو نے پڑھا نہیں تو سنا ضرور ہوگا۔۔۔
جوکچھ میں لکھناچاہتا ہوں اس سے پہلے پورا فرمان یہاں درج کرنا ضروری ہے ۔۔۔
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امراءکے درودیوار ہلا دو !
گرماﺅ غلاموں کا لہو سوزِ یقین سے
کُنجشک نرومایہ کو شاہیں سے لڑادو
سلطانی ءجمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش ِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ ءگندم کو جلادو
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیران ِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو !
اگر چہ اس فرماں میں چھ مصرعے اور بھی ہیں لیکن جو بات میں یہاں کہنا چاہتا ہوں اس کے لئے فرماں کا اِتنا ہی حصہ کافی ہے۔۔۔
دوسرے مصرعے میں کاخِ امراءکے در ودیوار ہلانے کی بات ہوئی ہے ۔۔۔ تو جس پارلیمنٹ کو سید بادشاہ اور بلاول بھٹو صاحب سپریم کہتے ہیں وہ بھی دراصل ” کاخِ امرائ“ ہے۔۔۔اگر اللہ تعالیٰ کی دنیا کے غریب جاگ اٹھے تو اِس ” کاخِ امراء“ کے درودیوار کی بھی خیر نہیں۔۔۔
پھر بات کی گئی ہے سلطانیء جمہور کے آنے کی۔۔۔ تو جب بھی جمہور کی سلطانی آئی تو سارے نقوش ِ کہن مٹا دیئے جائیں گے۔۔۔
گزشتہ ایک تہائی صدی کے دوران جو نام بھی ” عملِ حکمرانی “ کے ساتھ جڑے رہے ہیں انہیں نقوشِ کہن کے زمرے میں ہی رکھنا ہوگا۔۔۔
پھر بات کلیسا سے پیرانِ کلیسا کو اٹھانے دینے کی ہوئی ہے۔۔۔
جس پارلیمنٹ کو یہ لوگ سپریم کہہ رہے ہیں وہی دراصل کلیسا ہے۔۔۔ اور جو اس کلیسا کے ثنا خواں ہیں وہی دراصل پیرانِ کلیسا ہیں۔۔۔
تو اللہ کا فرمان ہے کہ پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو۔۔۔
سید خورشید شاہ صاحب۔۔۔! آپ اور آپ کے ساتھیوں کو خروج کا راستہ دیکھ لینا چاہئے۔۔۔ اب آپ لوگوں کے اٹھنے کا وقت آگیا ہے۔۔۔یہ بات بھی آپ سب لوگ مت بھولئے گا کہ اللہ کا حکم ہے کہ جس کھیت سے فصل اگانے والے کسان کو روٹی نہیں مل رہی اس کے ہر خوشہ ءگندم کو جلا ڈالنا ہوگا۔۔۔
آپ لوگوں نے پارلیمنٹ کو سپریم کہا ہے اور ذاتِ باری تعالیٰ کو یہ شرک ناگوار گزرا ہے۔۔۔
سپریم وہی ہے جو ہے۔۔۔
جس کی بادشاہی مشرق سے مغرب تک اور جس پارلیمنٹ میں آپ لوگ بیٹھے ہیں وہ تو قہرالٰہی کے پہلے ہی وار میں ڈھیر ہوجائے گی۔۔۔

Scroll To Top