پانی کے مسئلے پر 40 سال تک مجرمانہ غفلت برتی گئی ، چیف جسٹس

  • ضروری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو خشک سالی کا سامنا کرناپڑ سکتا ہے، پانی کے بغیر زندگی کا وجود نا ممکن ہے، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں، جسٹس ثاقب نثار کا پانی بحران کے حل سے متعلق بین الاقوامی سمپوزیم سے خطاب
  • ملک میںمحض30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجودہے ،بڑے ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ،پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پرحل کرنا ہوگا، کم خرچ توانائی کے ذرائع کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، صدر مملکت عارف علوی کا اظہار خیال
اسلام آباد:۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی پانی بحران کے حل سے متعلق بین الاقوامی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد:۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی پانی بحران کے حل سے متعلق بین الاقوامی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کے خاتمے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو 2025 میں پاکستان کو خشک سالی کا سامنا کرنا ہوگا۔ملک میں پانی بحران کے حل سے متعلق بین الاقوامی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پانی زندگی کے لیے ضروری ہے، پانی کے بغیر زندگی کا وجود نا ممکن ہے، انسان خوراک کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو پانی کی قلت کا سامناہے اور اگر اس حوالے سے اقدامات نہ کیے گئے تو 2025 میں پاکستان کو خشک سالی کا سامنا ہوگا، پانی کے وسائل خطرناک حد تک کم ہورہے ہیں لہذا پانی کی قلت کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پانی کی کمی دور کرنے کیلئے وسائل پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے، ملکی معیشت کا زیادہ انحصار دریاں اور نہری نظام پر ہے، ہمارے پاس ڈیموں کی تعمیر کیلئے سرمایہ نہیں تاہم بڑے ڈیموں کی تعمیر کے لیے فنڈ قائم کیا، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کے لیے بھی ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں جب کہ ڈیمز فنڈ کیلئے پینشنرز اور بچوں نے بھی حصہ ڈالا۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ہر شہری کو پانی بچانے کے لیے اپنے طور پر اقدامات کرنا ہوں گے، پانی کے مسئلے پر 40 سال سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا تاہم ہم نے اپنی نسلوں کو قحط اور خشک سالی سے بچانا ہے، ابھی وقت ہے کہ ہم اپنی ماضی کی کوتاہیوں پر قابو پالیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے، مستقبل میں پاکستان آبی قلت کا شکار ہوسکتا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آبی ذخائر میں اضافے کے لیے عدلیہ بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے، لیکن آبی پالیسی کے نفاذ میں انتظامیہ کا کلیدی کردار ہے۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمپوزیم میں شرکت پر صدر مملکت کے شکر گزار ہیں، صدر مملکت عمرہ ادائیگی کے لیے جا رہے تھے، ہماری درخواست پر انہوں نے اپنا شیڈول تبدیل کیا۔ ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں آبی مسائل سے متعلق نشاندہی کی ہے، ڈیم فنڈز کے لیے بچوں اور پنشنرز نے بھی عطیات دیئے ہیں، سپریم کورٹ کی ڈیم فنڈز کیلئے کوشش ایک مہم میں بدل گئی، قوم بھی آبی مسئلے کی سنگینی سے آگاہ ہوگئی ہے۔۔ انہوں نے کہا مستقبل میں خشک سالی اور قحط سنگین صورتحال اختیار کر سکتے ہیں، سندھ طاس معاہدے پر عمل اور دریائے سندھ کا پانی بچانا ناگزیر ہے، ڈیمز اور دیگر آبی ذخائر کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے، واٹر سمپوزیم سے ڈیمز کی تعمیر کیلئے اقدامات میں مدد ملے گی،اپنے خطاب میں صدر عارف علوی نے کہا کہ ‘اللہ تعالی نے پاکستان کو وسائل سے مالا مال کیا، پاکستان کو بہترین نہری نظام ملا تھا لیکن قیام پاکستان کے بعد منگلا اور تربیلا سمیت چند ہی ڈیم بنائے گئے اور وقت کے ساتھ پانی کے استعمال میں اضافہ اور ذخائر میں کمی ہوئی۔’انہوں نے کہا کہ ‘پانی کو محفوظ اور ذخیرہ کرنا بنیادی مسئلہ ہے اور آبی ذخائر بنانا وقت کی ضرورت ہے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی پانی کے حساس مسئلے کو اجاگر کیا، پاکستان میں 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے لہذا اس وقت فوری طور پر بڑے ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے پانی کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، ضرورت ہے کہ کم خرچ توانائی کے ذرائع کو بروئے کار لایا جائے، سورج اور ہوا کے ذریعے توانائی کے حصول پر بھی کام ہونا چاہیے، تھرپارکر میں پانی کی کمی کے باعث بچے موت کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ قومی آبی پالیسی موجود ہے جس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔’صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے مذاکرات ضروری ہیں، جبکہ قلت آب پر قابو پانے میں شجر کاری بھی کردار ادا کرسکتی ہے۔’انہوں نے کہا کہ 14 اکتوبر تک 6 ارب روپے سے زائد رقوم ڈیم فنڈ میں جمع ہوچکی ہے۔اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پانی جیسی عظیم نعمت کو محفوظ بنانے کے لیے آبی ذخائر کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس کا افتتاح کیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی ہدایت پر پاکستان لا اینڈ جسٹس کمیشن کے زیر اہتمام ہونے والی اپنی نوعیت کی اس پہلی کانفرنس میں غیر ملکی آبی ماہرین بھی شریک ہیں۔کانفرنس میں کم مدت میں پانی کے ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے آبی ماہرین اپنی تحقیقی خدمات کے بارے بتائیں گے،اس کانفرنس کے مجموعی طور پر 5 سیشنز ہوں گے

Scroll To Top