چیف جسٹس قومی خزانے کے بڑے محافظ کے طور پر سامنے آئے

  • جناب ثاقب نثار نے درست کہا کہ قومی خزانے کے اربوں روپے درخت کے پتوں کی طرح اڈا دئیے گے
  • وطن عزیز کا المیہ یہ ہے کہ یہاں طاقتور افراد نے ہمیشہ خود کو قانون سے بالاتر بن کر دکھایا
  • پاکستان جیسے ملک میں متحرک عدلیہ کی ضرورت ماضی کے برعکس کئی گنا بڑھ چکی
  • جناب ثاقب نثار کی کارکردگی سرکاری عہدے پر فائز ہر چھوٹے بڑے عہدیدار کے لیے مشعل راہ ہے

zaheer-babar-logo

چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ کہنا فکر انگیز ہے کہ قومی خزانے کے اربوں روپے درخت کے پتوںکی طرح اڈا دئیے گے، اب اکھٹے کررہے ہیں تو معلوم ہورہا ہے کہ ارب روپے کیا ہوتا ہے۔ جناب جسٹس ثاقب نثار نے مذکورہ ریمارکس تھرکول پاور پراجیکٹ کے دوران دیئے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب ڈاکڑ ثمر مبارک مند نے مفت بجلی پیدا کرنے کے دعوی کیے تو منصوبہ سے رومانس ہوگیا مگر چار ارب روپے خرچ کیے جانے کے باوجود کوئی کامیابی نہیں ملی۔عدالت نے منصوبہ کی تحیقیقات نیب کے سپرد کرتے ہوئے 15دنوں میں رپورٹ طلب کرلی۔“
وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ یہاں قومی خزانے کو مال مفت دل بے رحم کی شکل میں استمال کرنے کا رجحان نیا نہیں۔ سالوں سے نہیں دہائیوں سے یہ سلسلہ چلا آرہا جس کا مسقبل قریب تدارک ناممکن نہیںتو مشکل ضرور دیکھائی دے رہا۔ بنیادی وجہ یہ کہ ہمارے ہاں اکثر وبیشتر وہی افراد خیانت کے مرتکب پائے گے جن کی زمہ داری تھی کہ وہ قومی خزانے کی حفاظت کریں۔ مقام شکر ہے کہ ماضی کے برعکس آج صورت حال نسبتا بہتر ہے۔ فعال عدلیہ اور متحرک میڈیا کی بدولت بدعنوانی کا مکمل خاتمہ تو نہیں ہوا مگر کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں رکاوٹ ضرور آئی۔
کہا جاتا ہے کہ سرمایہ دارنہ نظام میں کرپشن کے مکمل خاتمہ کا خواب دیکھنا وقت کے ضیاع کے مترادف ہے مگر اب چین اور روس میں جس طرح کی مالی بدعنوانیوں کے واقعات سامنے آرہے اس کے بعد یہ کہنا غلط نہ ہو کہ عصر حاضر کا کوئی بھی نظام بدعنوانی سے پاک نہیںکہا جاسکتا۔ بادی النظر میں مسلہ کا حل ایک ہی ہے کہ معاشرے میں انصاف کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے ، کمزور اور طاقت ور سے یکساں سلوک ہی خرابیوں پر قابو پانے میںمددگار ہوسکتا ہے۔سمجھ لینا چاہے کہ انصاف محض عدالتوں میں ہی نہیں ہوا کرتا بلکہ سرکاری دفاتر، درسگاہوں ، بازاروں حتی کہ خاندان میں بھی انصاف پسندی کا بولا بالا ہونا مشکلات پر قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے۔
درحقیقت ترقی پذیر اور ترقی یافتہ معاشروں میں بنیادی فرق قانون اور انصاف کی نظر میں سب کا برابر ہونا ہی ہے۔ آج ہم میں سے کون ہے جو دل پر ہاتھ رکھ کر گواہی دے کہ ارض وطن پر بااثر اور کمزور سے یکساں سلوک کیا جارہا۔ یعنی نظام انصاف کی تاریخ میںایسی کتنی مثالیں ہیں جہاں صاحب ثروت اور غریب ایک صف میں کھڑے نظر آئے۔یقینا حضرت علی کا کہنا ہمیں آج بھی دعوت فکر دے رہا کہ ریاست کفر پر تو قائم رہ سکتی ہے ناانصافی پر نہیں“۔ اس سے ملتی جلتی بات دوسری جنگ عظیم میں چرچل نے اس وقت کہی جب اسے برطانیہ کو لاحق خطرات سے ڈرا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ اگر ہماری عدالتیں انصاف دے رہی ہیں تو پھر ملک کو کوئی خطرہ نہیں۔ “
چیف جسٹس آف پاکستان کو پسند نہ کرنے والے بھی اس کی گواہی دینے پر خود کو مجبور پاتے ہیںکہ جناب ثاقب نثار آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے کوشاں ہیں۔ چاروں صوبوں کے سرکاری ہسپتالوں میں خود دورے کرکے انھوں نے اپنے طور پر کوشش کی کہ غریب شہریوں کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے ۔ توقعات کے عین مطابق سٹیس کو کی حامی قوتوں نے یہ کہہ کر جناب ثاقب نثار کو نشانہ بنایا کہ ہسپتالوں کے دورے کرنا چیف جسٹس کا کام نہیں۔ “
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جوڈشیل ایکٹیوازم کی اہمیت سے صرف نظر نہیںکیا جاسکتا۔ گذشتہ ماہ وسال میں اس کا مظاہرہ افتخار محمد چوہدری کے دور میں سامنے آیا تو آج جناب جسٹس ثاقب نثار نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔واضح رہے کہ پڑوسی ملک میں بھی بعض جج صاجبان نے ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں براہ راست عام آدمی کو ریلیف ملا ۔
کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میںدل نہیں ہوتا۔ مذکورہ محاورے کو یوں بھی دیکھنا چاہیں کہ اہل سیاست کی اکثریت ہر معاملہ کو محض نفع ونقصان کی کسوٹی پر جانچا کرتی ہے۔ انھیں اس سے کوئی سروکار نہٰیں ہوتا کہ ان کے اس اقدام سے شہریوںکی زندگیوں میںکس حد تک بہتری آئی۔ اس کو بنیاد بنا کر پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی کارکردگی کا بجا طور پر تقابل کیا جاسکتا ہے۔ یعنی گذشتہ سالوں میں دیکھنا چاہے کہ منتخب ایوان میں عوام کے کتنے مسائل اجاگر ہوئے اور ان کو حل کرنے کے لیے کیا کیا اقدمات اٹھائے گے ۔ دوسری جانب عدالت عظمی اور کسی حد تک عدالت عالیہ میں پیش ہونے والے مقدمات کے فیصلوں سے بھی اندازہ لگایا جائے کہ کب اور کہاں عوام کو ریلیف ملا۔ ابھی کل کی بات ہے کہ سپریم کورٹ نے غیر ملکی شہریت کے حامل دو بااثر سینیٹرز کا انتخاب کالعدم قرار دے ڈالا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پارلیمنٹ کا کام نہ تھا کہ وہ قانون سازی کرے کہ کوئی بھی ایسا شخص سرکاری عہدہ نہیں رکھ سکتا جو دوہری شہریت کا حامل ہو۔ بعض حوالوںسے عدالتوں کی فعالیت منتخب ایوانوںکو اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر مجبور کررہی ۔ قوی امکان ہے کہ آنے والے ماہ سال میں میں عوام کے ووٹوںسے منتخب ہونے والوں میں چند ایسے بھی ایوانوں میں آموجود ہو جن کی ترجیح اول صرف اور صرف لوگوں کی فلاح وبہبود کہلائے۔ یقینا چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کی کارکردگی ہر سرکاری عہدے پر براجمان شخص کو پیغام دے رہی کہ وہ اپنے عہدے سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے دلجمی سے کوشش کرے۔

Scroll To Top