دخترِ آدم جسے رول ماڈل بنایاجارہا ہے ! 13-03-2014

kal-ki-baat

توبہ اور معافی کے دروازے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کھلے رکھے ہیں لیکن فرمان اس سلسلے میں یہ ہے کہ توبہ کے بعد گناہ یا گناہوں کا دوبارہ زندگی میں داخل ہونا ذاتِ باری تعالیٰ کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں۔ اگر خدا کے بندے توبہ کو ایک سٹرٹیجی یا حکمت عملی کے طور پر استعمال کریں اور کرتے رہیں تو قہرِ خداوندی کو دعوت دینے کا اس سے زیادہ یقینی طریقہ کیا ہوگا۔؟ انسان خطا کا پتلا ہے۔ شیطان اس کے نفس کے ساتھ اس طرح چمٹا رہتا ہے جس طرح مقناطیس مقناطیس کے ساتھ چمٹتا ہے۔ شیطان کے حملوں کا مقابلہ انسان صرف ارادے کی قوت کے ساتھ کرسکتا ہے ۔ اگر ارادہ ہی خدا اور خلقِ خدا کو دھوکہ دینا ہو تو اس سے بڑی کامیابی شیطان کو کیا حاصل ہوسکتی ہے۔
میں سیاستدانوں کی بات نہیں کررہا اور نہ ہی میرے سامنے اِس وقت وہ دین دار نظر آنے والے لوگ ہیں جن کی زندگی دین اور ایمان کی تجارت کرتے گزرتی ہے۔
یہ تحریر میں اس روش کو دیکھ کر قلمبند کررہا ہوں جو ہمارے ٹی وی چینلز نے وینا ملک نام کی ایک ” دخترِ آدم“ کو پاکستان کی بیٹیوں اور خواتین کے لئے ایک ” رول ماڈل “ بنانے کے لئے اختیار کررکھی ہے۔ میں نے موصوفہ کے لئے ” دخترِآدم “ کی ترکیب اس لئے استعمال کی ہے کہ ” اقلیمِ ابلیس “ کی رعایا میں صرف شیاطین نہیں ہوتے اولادِ آدم بھی ہوتی ہے۔
کوئی دن نہیں گزرتا جب موصوفہ ٹی وی کیمروں کے سامنے اپنے شرعی شوہر کے ساتھ چپکی نظر نہیں آتی اور قوم کو ایک کامیاب زندگی گزارنے کے درس نہیں دے رہی ہوتی۔
وینا ملک صاحبہ کیا کرتی ہیں اور کیا نہیں کرتیں یہ معاملہ ہم خدا پر چھوڑ دیتے ہیں مگر جس جرم کا ارتکاب ہمارے ٹی وی چینلز کررہے ہیں وہ ناقابلِ معافی ہے۔
اِن چینلز کے مالکوں اور منتظمین کے گھروں میں بھی بہو بیٹیاں ہوں گی ۔ کیا وہ یہ نہیں سوچتی ہوں گی کہ ہم بھی وہ سب کچھ کر سکتی ہیں جو کچھ کرنے کے بعد اس ” دخترِ آدم “ پر شہرت کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔۔۔؟

Scroll To Top