بات پاکستان کے راج کمار کی 08-03-2014

kal-ki-baat

راجکمار بلاول بھٹو زرداری یا پھر بلاول زرداری بھٹو نے گزشتہ ماہ سندھ کی ثقافت کو فروغ دینے کے لئے میلے بھی منعقد کئے اور رقص و سرور کی محفلیں بھی سجائیں۔ میں نے ” شہزادہ “ کی اصطلاح کی جگہ ” راجکمار“ کا لفظ اس لئے منتخب کیا ہے کہ جس ثقافت کو بلاول بھٹو زرداری زندہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں اس کا تعلق راجکماروں کے زمانے سے ہے۔ اُس ثقافت کو جلابخشنے کا ایک موثر طریقہ یہی ہوگا کہ بلاول بھٹو زرداری اپنے نام میں ” راجکمار“ کے لفظ کا اضافہ کرلیں۔ اس لحاظ سے بختاور صاحبہ اور آصفہ صاحبہ راجکماریاں کہلائیں گی۔
ایک اندازے کے مطابق ماضی کے کھنڈرات کو خراج عقیدت اور تحسین پیش کرکے سندھی ثقافت کا پرچم بلند کرنے کی مشق پر دو تین ارب روپے خرچ ہوئے۔ صحیح اعداد و شمار میرے پاس موجود نہیں لیکن بات اربوں کی ہی ہے۔
اِس موضوع کی طرف آج میرا دھیان تھرپارکر میں درجنوں بچوں کے لقمہ ءاجل بن جانے کی خبر پڑھ کر گیا ہے۔ اگر اِن بچوں کو روٹی کے چند لقمے میسر آجاتے تو یہ خود موت کا لقمہ نہ بنتے۔
راجکمار بلاول بھٹو زرداری کے عشقِ ثقافت پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ مگر جس سرزمین پر معصوم بچے بھوک اور پیاس سے بلک بلک کر موت کے منہ میں جارہے ہوں اس سرزمین پر ناچ گانے کی محفلیں منعقد کرنے پر اربوں کی رقم خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کے قہر کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
ایک ثقافت وہ بھی تھی جس میں حضرت عمر ؓ نے کہا تھا : ” اگر فرات کے کنارے بھی کوئی کتاتک بھوک سے مر جائے تو عمر خدا کے سامنے جوابدہ ہوگا۔۔۔“

Scroll To Top