اوباما انسانیت کیلئے مزید بھی کرسکتے تھے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں بارک اوباما نے ممکن حد تک کوشیش کی کہ وہ تاریخ میں ایسے امریکی صدر کے طور پر یاد رکھے جائیں جو اپنے دور اقتدار میں اعلی اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں رہا۔ اپنی تقریر میں بارک اوباما سیاست دان سے کہیں بڑھ کر مدبر بنے کی سوچی سمجھی کوشیش کرتے رہے تاکہ کل کا مورخ آج ان کی جانے والی پیشن گوئیوں کا حوالے دے سکے۔ مثلا بارک اوباما کا کہنا تھا کہ اسرائیل زیادہ عرصے تک فلسطین پر قابض نہیں رہ سکتا۔ امریکی صدر نے کثیر ملکی تجارت اور عالمی ادارے کے ساتھ اپنی ٹھوس حمایت کے عزم کا ارادہ بھی کیا۔بارک اوباما نے اپنے آٹھ سال دور کی کامیابیوں کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شدید غربت کو کم کیا ،ایران کے جوہری تنازعہ کو حل کیا،کیوبا کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور موسیماتی تبدیلی کے معاملے میں بین الاقوامی سمجھوتے پر متفق ہونا ان کی بڑی کامیابیان ہیں۔ صدر اوباما نے متنبہ کیا کہ انتہاپسندی کے شعلے بھڑکتے رہیں گے تاہم دیوار تعمیر کرنے سے دنیا کے مسائل حل نہیں ہونگے۔ ایسا کرنے سے معاشرے پر پڑنے والے اثرات سے نہیں بچا جاسکتا۔“
بظاہر امریکی صدر کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر سے کسی صورت اختلاف نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں شک نہیں کہ بارک واباما نے اپنے پیشرو سابق صدر بش کے مقابلے میں بڑی حد تک مہم جوئی سے اجتناب برتا مگر بعض حلقے اس بدلی ہوئی پالیسی کو امریکی کی مجبوری سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔
دنیا کی اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست خطے میں امن ، خوشحالی،مساوات کے لیے یقینا اس سے بڑھ کر کردار ادا کرسکتی تھی جس کی نشاندہی بارک اوباما نے کی۔یہ بھی درست ہے کہ مذہبی انتہاپسندی کے فررغ میں امریکہ کا کردار کلیدی نوعیت کا رہا۔ اپنے روایتی حریف روس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے اس نے دنیا کے مسلم وغیر مسلم ہزاروں نوجوانوں کو عسکری تربیت دے کر افغانستان میں جھونک دیا۔ پاکستان کے بے پناہ تعاون کی بدولت یہ معجزہ تو یقینا رونما ہوگیا کہ متحدہ روس تاریخ کا حصہ بن گیا مگر اس کے نتیجے میں اسامہ بن لادن جسے لوگ سامنے آئے جنھوں نے تشدد کو بطور ہتھیار بنایا۔ القائدہ، طالبان ، بوکوحرام اور اب داعش جیسے گروہ اسی نظریاتی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں جنھیں امریکہ نے ڈالر اور مسلح تربیت سے پروان چڑھایا۔ سات سمندر ہونے کے سبب امریکہ بڑی حد تک اس تباہی سے محفوظ رہا جو پاکستان اور افغانستان کے عوام کا مقدر بنی۔ امریکی صدراتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے حال ہی میں اس کوتاہی کو تسلیم کیا کہ افغانستان میں روس کی شکست کے بعد ان جگنجو عناصر کو معمول کی زندگی میں واپس لانے کے لیے کچھ نہ کیا گیا جنھیں امریکہ استمال کرتا رہا۔
اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ روس اففانستان لڑائی ماضی کا قصہ ہے تو آج کے افغانستان ، عراق،لبییا اور شام میں جو تباہی رونما ہوئی اس کا زمہ دار کون ہے۔ اگر مگر کے باوجود اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر اب کوئی چارہ کار نہیں کہ امریکہ بہادر نے کل کی طرح آج بھی اپنے مخصوص مفادات کے حصول لے لیے دیگر ملکوں میں مسلح مداخلت کی پالیسی جاری وساری رکھی ہوئی ہے۔ Might is right کا قانون اگر دنیا میں گذشتہ دور میں رائج تھا تو آج بھی صورت حال ہرگز مختلف نہیں ۔
افسوس کہ مغرب ممالک کی اکثریت اس دوہری پالیسی پر عمل درآمد کررہی کہ سرحدوں کے اندار آئین اور قانون کی بالادستی پرکوئی سمجھوتے کرنے کو تیار نہیں مگر سرحدوں سے باہر ان کے لیے سب سے بڑھ کر اپنا مفاد ہے۔ شام ، افغانستان اور عراق میں ہونے والا بدترین قتل عام بھی” مہذب دنیا “کو اس پر مجبور نہیں کرسکا کہ وہ وقتی طور پر ہی سہی اپنے مفادات سے بالائے طاق رکھ کر انسانیت کو بچا لے۔ امریکی صدر سے پوچھا جاسکتا کہ کیا یہ سچ نہیں کہ اسرائیل اور بھارت جیسے ممالک کی ریاستی دہشت گردی پر سپرپاور کی خاموشی مجرمانہ فعال ہے۔
آج طاقتور مغربی دنیا نے عالمی سیاست میں اپنی گرفت اس انداز میں مضبوط کرلی ہے کہ عملا سچ اسے ہی سمجھا جاتا ہے جسے بااثرممالک تسلیم کریں۔ دانشور سمجھے جانے والے امریکی صدر کا جنرل اسمبلی سے خطاب ایسے وقت میں کیا گیا جب مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج ظلم ستم کے نئے ریکارڈ بنا رہی۔ اب تک درجنوں کشمیریوں کو شہید کرنے کے علاوہ کئی ہفتوں کے کرفیو کے نفاز سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گی مگر دنیا کی سب سے” بڑی جمہوریت“ کہلانے والے بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں بدترین استحصال پر بارک اوباما ایک لفظ تک نہ کہہ سکے۔
عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں کہ مسقبل قریب میں دنیا میں حقیقی امن وامان کی بحالی ممکن نہیں۔ مفادات اور صرف مفادات کی بالادستی آنے والے ماہ وسال میں کمزور کو مذید کمزور اور طاقتور کو مذید طاقتور کردے گی۔ جس چیز کی عالمی سیاست میں ضرورت ہے وہ انصاف ہے یعنی وہ دور جب طاقتور اور کمزور ریاستوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں پایا جانے والا فرق خود بااثر ممالک ختم کرنے کو تیار نہیں۔ کراہ ارض پر سیاسی اور معاشی طاقت کے حصول کے لیے ایسا نہ نظر آنے والا تصادم جاری ہے جس میں نقصان انسانوں کے اس گروہ کا ہورہا جو بنیادی ضرورت زندگی سے محروم ہے۔ بارک اوباما کی اس بات کو من وعن تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ انھوںنے دنیا میں غربت کم کی ۔ افریقہ اور جنوبی ایشیا میں ایسے ممالک اب بھی موجود ہیں جہاں آبادی کا معقول حصہ پیٹ بھر کر کھانا کھانے کو مسلسل ترس رہا ہے ۔

Scroll To Top