وزیر اعظم عمران خان نے ایک اور وعدہ پورا کردیا

  • 28 جولائی کے عام انتخاب میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے 30 رکنی کمیٹی قائم
  • وطن عزیز کے اب تک کے کسی بھی انتخاب کو سب ہی فریقین نے غیر جانبدار قرار نہیں دیا
  • بظاہر سیاسی جماعتیں انتخابی عمل کو شفاف ، غیر جانبدار اور اثر رسوخ سے پاک کرنے کو تیار نہیں
  • سیاست دان عوام کی خدمت کرنے کی بجائے رائج نظام کو مفاد کے لیے استمال کرنے کے عادی ہوچکے

zaheer-babar-logo

خوش آئند ہے کہ 28 جولائی 2018کے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے لیے 30رکنی کمیٹی قائم کردی گی جس میں 15حکومتی اراکین اور 15اپوزیشن کے ممبران شامل ہونگے ۔مذکورہ معاملہ کا روشن پہلو یہ ہے کہ اس تنازعہ کو حزب اقتدار اورحزب اختلاف کے اراکین نے باہمی مشاورت سے حل کرنے کی ٹھان لی ہے۔وطن عزیز میں اب تک جو بھی انتخاب ہوا اس کے بارے پورے یقین سے یہ کہنا مشل ہے کہ اس میں کسی قسم کی دھاندلی نپ ہوئی یا پھر یوں کہا جائے کہ اب تک ہونے والے کسی الیکشن کو ہارنے اور جیتنے والے خوش دلی سے تسلیم نہیں کیا ۔بظاہر ارض وطن میں ایسی روایات پختہ نہیں ہوئیں جن پر عمل کرتے ہوئے سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کیا گیا ہو۔ اس ضمن میں یہ کہنا بھی خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں کہ کسی بھی انتخاب میں کسی فریق نے دھاندلی کی کو شش نہیں کی۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں سیاست مال و دولت کے حصول کا ایسا زریعہ بن چکا جس سے طاقتور مذید مضبوط جبکہ کمزور اور مذید ناتواں ہورہا ۔
امید افزاءیہ ہے کہ رائج نظام کو اپنے مفادات کی شکل دینے کے لیے ہر کوئی کردار ادا کررہا۔ سرمایہ دار ہو،یا جاگیردار ہو یا پھر بیووو کریٹ شاذ ہی کوئی ایسا ملے گا جو اختیار اور اقتدار عام آدمی کے مسائل حل کرنے کے لیے استمال کرے ۔ یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ مذکور ہ شعبوں میں درد رکھنے والے لوگ موجود نہیں البتہ یہ سچ ہے کہ اہم محکموں میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کو تیار نہیں۔
تاریخ پر نظر رکھنے والے کسی شخص کے لیے یہ کہنا مشکل نہیں کہ بہتری کا عمل کسی سماج میں اچانک شروع نہٰیں ہوا کرتا ،اس کے لیے طویل منصوبہ بندی اور پھر انتھک جدوجہد لازم ہے۔وطن عزیز میں اب تک کئی نظام آزمائے گے ان میں سے چند ایک کی خوبیان ظاہر ہوئیں مگر مکمل طور پر خامیوں سے پاک کوئی بھی ثابت نہ ہو۔ آج کا جمہوری نظام بھی مسائل سے مبرا نہیں مگر یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے ماہ وسال میں اس کی خوبیاں خامیوں پر سبقت لے جائیں گئیں۔ حقیقت میں تقیسم ہند کے بعد عروج پانے والے دیسی حکمرانوں نے اپنے انفرادی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر کم ہی سوچا۔ چنانچہ ایسے واقعات سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے جس میں ملک وملت کا مفاد اپنی انا پر قربان کرتے ہوئے ذرا بھر تامل کا مظاہرہ نہ کیا گیا۔ سانحہ مشرقی پاکستان میں جہاں دیگر کئی عوامل کارفرما تھے وہی سیاست دانوں کی ہوس اقتدار نے بھی پاکستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ۔ کہتے ہیں کہ تاریخ کا سبق ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا مگر ہاں یہ محاورے سو فیصد درست ثابت ہوتا نظر آرہا۔ مثلا اہل اقتدار نے ایسے بہت سے کام کیے جن سے ان کی ذات کو تو فائدہ ہوا مگر ملک کا خسارہ ہوا۔
بادی النظر میں اب تک ہمارے ہاں جمہوری ادارے اسی لیے بھی مضبوط نہیں ہوئے کہ اس کے نتیجے میں طاقتور لوگوں کے اقتدار کو خطرات لاحق ہوسکتے تھے ۔ الیکشن کمیشن کو مضبوط بنانا ہو یا انتخابی اصلاحات کی شکل میں ٹھوس اقدامات اٹھانا کہیں بھی خلوص کے ساتھ کچھ کرنے کی کوشش نہیںکی گی۔ وطن عزیز کے مسائل حل کرنے کے لیے بے چین ہونے والوں کو یہ بھی زھن نشین کرنا ہوگا کہ تاریخ میں ایسا کم ہی ہوا جب طاقتور طبقہ رضاکارانہ طور پر اپنے اختیارات سے سبکدوش ہوئے۔پاکستان میں بھی ایسا نہیں ہوگا ۔ کئی دہائیوں کی ملکی سیاست کو جاننے والے آگاہ ہیں کہ عوام کو ہمیشہ بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا گیا، ان کے اختیارات سلب کیے گے ،یوں بھی ہوا کہ انھیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا مگر بہتری کا عمل پھر بھی رکا نہیں۔
سابق صدر پرویز مشرف کے اس کارنامے کو نظرانداز نہیںکرنا چاہے کہ انھوں نے پرائیوٹ میڈیا کی شکل میں درجنوں ٹی وی لائنس جاری کیے ۔ آج کے پاکستانی میڈیا میں ایسا نہیں کہ صحافت کے اعلی و ارفع اصولوں پر عمل درآمد ہورہا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کہیں نہ کہٰیں عام آدمی کی آواز ضرور سنائی دے رہی۔ ملک میں شفاف انتخابات کا مطالبہ پورا کرنا اس لیے بھی لازم ہے کہ یہ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق سے منسلک ہے ۔ ایسا ہونا ہرگزانصاف کے اصولوں کے مطابق نہیںکہ لوگ ووٹ کسی اور کو دیں اور جیت کوئی اور جائے۔ دراصل 28 جولائی کو ہونے والے عام انتخاب کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس میں بڑی حد تک شفافیت رہی۔ خبیر تا کراچی کہیں سے بھی ایسی خبر دیکھنے اور سننے کو نہیں ملی جس کو بنیاد بناتے ہوئے دہائی دی جاسکے کہ الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ۔ مسلم لیگ ن اور پاکستان ییپلزپارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمیت علماءاسلام ف جیسی جماعتوں کا معاملہ یہ ہے کہ حالیہ الیکشن میں کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ پی ایم ایل این تو اب تک دہائی دے رہی کہ اس کا مینڈیٹ چوری کرلیا گیا، اس سے ملتی جلتی شکایت پی پی پی کو بھی ہیں۔ دونوں نشستوں سے ہارنے والے مولانا فضل الرحمن کا معاملہ تو یہ رہا کہ وہ قومی وصوبائی اسمبلی میںدرجنوں سیٹیس لینے والی جماعتوں کو بھی حلف اٹھانے سے باز رکھنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ اس پس منظر میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا مبینہ دھاندلی کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا وعدہ پورا کرنا ہر لحاظ سے اطمنیان بخش ہے۔

Scroll To Top