ایک جج پر یومیہ55 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں:ججز کا بھی احتساب ہوگا،مقدمات نمٹانے میں تاخیر ناسور بن چکی: چیف جسٹس پاکستان

  • کفرکا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے بے انصافی کا نہیں،خفیہ اداروں نے لاپتہ افراد بارے مثبت جواب نہیں دیا، منشا بم جیسے لوگ اراضی پر قبضہ کر لیتے ہیں کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ؟موجودہ قوانین کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا
  • بابا رحمتے کا کردار معاشرے میں منصف کا کردار ہے، جو اپنی ذہانت اور ایمانداری سے فیصلہ کرتا ہے ،ملک میں سب سے زیادہ تنخواہ ججز کی ہیں،ججز کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا ، ملک میں درجہ بندی پر مبنی نظام تعلیم ہے ،غربت میں جنم لینے والے بچے کو تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،خطاب
لاہور:۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار ، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس یاور سعید اور بار کے نمائندے سٹیج پر موجود ہیں

لاہور:۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار ، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس یاور سعید اور بار کے نمائندے سٹیج پر موجود ہیں

لاہور(آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کفرکا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے بے انصافی کا نہیں،خفیہ اداروں نے لاپتہ افراد بارے مثبت جواب نہیں دیا، منشا بم جیسے لوگ اراضی پر قبضہ کر لیتے ہیں کیا یہ پاکستان کے انسانی حقوق کےخلاف ورزی نہیں ؟موجودہ قوانین کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اگر یہ کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو ہمارے بے انصافی پر مبنی معاشرہ قائم نہیں رہ سکے گا، بابا رحمتے کا کردار معاشرے میں منصف کا کردار ہے، جو اپنی ذہانت اور ایمانداری سے فیصلہ کرتا ہے،ملک میں سب سے زیادہ تنخواہ ججز کی ہیں،ججز کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا ،یومیہ فی جج پر 55 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں،مقدمات کو نمٹانے میں تاخیر ایک ناسور بن چکا ہے ، ملک میں درجہ بندی پر مبنی نظام تعلیم ہے ،غربت میں جنم لینے والے بچے کو تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔لاہور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کفر کا معاشرہ قائم رہ سکتا لیکن جہاں بے انصافی کا عروج وہاں معاشرے کی بنیادیں کھڑی نہیں رہ سکتیں۔ان کا کہنا تھا کہ بابا رحمتے کا کردار وہ ہے جو ایک معاشرے میں منصف کا کردار ہے، جس کے پاس لوگ جاکر اپنا مسئلہ بیان کرتے ہیں اور وہ بابا رحمتے اپنی ذہانت اور ایمانداری سے فیصلہ کرتا ہے۔چیف جسٹس نے متعدد مثالیں پیش کی جس میں مقدمات میں غیر ضروری طولت برتی گئی۔انہوں نے واضح کیا کہ جس نظام کا خد وخال جھوٹ اور بددیانتی پرمبنی ہوگا تو وہاں کیا کارکردگی دکھائی جا سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قوانین کا ازسرنوجائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ 61 برس تک انصاف کی متلاشی خاتون کو ہم نے 15 دن میں انصاف دیا جب جج ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو انصاف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ بار عدلیہ کا لازم و ملزوم حصہ ہے، ججز جتنی تنخواہ لیتے ہیں اتنا کام بھی کریں لیکن افسوس کہ کئی کئی دن مقدمات کی شنوائی نہیں کی جاتی کیا یہ بے انصافی نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا ہو کہ وہ آنے والی نسل کو کیا دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی جانب سے ایک اسپتال کے یونٹ کو ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے فراہم کیے جارہے ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے رقم فراہم نہیں کی جارہی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک فلاحی ریاست کا حق نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کرے۔چیف جسٹس نے ملک میں درجہ بندی پر مبنی نظام تعلیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غربت میں جنم لینے والے بچے کو تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قوانین کا تحفظ صرف عدلیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں کو بھی چاہیے کہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم قوانین کو سادہ اور عام فہم نہیں بنائیں گے تب تک بروقت انصاف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ منشا بم جیسے لوگ آپ کی اراضی پر قبضہ کر لیتے ہیں کیا یہ پاکستان کے انسانی حقوق کے خلاف ورزی نہیں ہے؟۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے لاپتہ افراد کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سمیت چاروں صوبوں کے آبی بی حکام سے لاپتہ افراد سے متعلق دریافت کیا لیکن انہوں نے مثبت جواب نہیں دیا۔ان کا کہناتھا کہ خفیہ اداروں نے جواب دیا کہ ان کے پاس کوئی شخص زیر حراست نہیں ہے، جس پر میں نے ان سے حلف نامہ طلب کیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ نے جو کچھ کیا وہ انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کے خاطر کیا اور اسی وجہ سے لاپتہ افراد کے لیے ایک بینچ مختص کردیا گیا ہے۔انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ انسان کے بنیادی حقوق ہوتے ہیں جس کی پاسداری نظر نہیں آرہی، ایک ڈاکٹر گزشتہ کئے برسوں سے اپنے بیٹے کی تلاش میں مصروف ہے لیکن اسے کوئی جواب نہیں ملتا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بطور جج ہماری ذمہ داری قانون کی ترجمانی ہوتی ہے اور ترجمانی کے دوران ہی ہم مزید قانون کی تشریح کر سکتے ہیں لیکن ہم قانون سازوں کے محتاج ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ قوانین کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اگر یہ کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو ہمارے بے انصافی پر مبنی معاشرہ قائم نہیں رہ سکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کیا آپ اپنی نسل کو اس دور میں چھوڑیں جہاں انصاف بروقت نہ ملے سکے۔دوران خطاب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جعلی گواہوں اور دستخط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جعلی دستخط کرنا کوئی مشکل عمل نہیں ہے۔ساتھ ہی انہوں نے باقاعدہ جعلی دستخط کا طریقہ بھی بتایا کہ ایک چراغ کے اوپر شیشہ رکھیں پھر اصلی دستخط والا پیپر رکھیں اور پھر کسی بھی صحفے پر اس کو ٹریس کرلیں۔انہوں نے کہا کہ جدید دور میں متعدد ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے جعلی اور اصلی کاغذات کی شناخت باآسانی ہو سکتی ہے لیکن ججز اپنی ذمہ داری سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔

Scroll To Top