نواز شریف کے معاشی جرائم بہت جلد قوم کے سامنے ہوں گے

  • قیام پاکستان کے وقت قومی خزانے میں صرف20کروڑ روپے تھے
  • صرف25برسوں میں طبقہ بدمعاشیہ نے کھربوں کے بنک قرضے معاف کروائے
  • پیداواری مقاصد کے لئے لیا گیا نفع بخش قرضہ اچھا معاشی حل سمجھا جاتا ہے
  • اہم ترین ریاستی ادارے اربوں روپے کے قرضے تلے دبے سسک رہے ہیں
  • ہم نے 50اور60کے عشروں میں جرمنی اور جنوبی کوریا کو بالترتیب قرضہ اور
  • پنج سالہ منصوبے کا بلیو پرنٹ دیا
  • نون غنوں کا نیا بیانیہ”انہوں نے کھایا ہے تو بگایا بھی ہے“
  • آئی ایم ایف۔۔۔۔۔ زندگی بچانے کے لئے وقتی طور پر حرام بھی جائز

gulzar-afaqi

قدرت اللہ شہاب اپنی سوانح عمری شہاب نامہ کے 301صفحہ پر رقمطراز ہیں
”تقسیم کے وقت حکومت ہند کے پاس چار ارب روپے کا کیش بیلنس تھا۔ بڑی طویل تکرار محبت اور مول تول کے بعد پاکستان کو75کروڑ روپے دینا طے ہوا ۔20کروڑ روپے کی ایک قسط ادا کرنے کے بعد بھارت نے اپنا ہاتھ روک لیا۔14اگست 47کو جب پاکستان وجود میں آیا تو اس نئی حکومت کے پاس بس یہی نقد اثاثہ تھا۔کوشش بسیار کے بعد15جنوری1948کو بھارت سے بقایا رقم وصول ہوئی۔
نئے وطن کے ساتھ اعلیٰ نظریاتی رشتہ وتعلق ، جوشش کار اور سب سے بڑھ کر قائد اعظم کی بے مثل اور ولولہ انگزیز قیادت ، نتیجہ بے سروسامانی کے باوصف پاکستان کی گاڑی رواں دواں ہوگئی۔
اور تو اور 50ہی کے عشرے میں پاکستان نے جرمنی جیسے ملک کو قرضہ دیا اور 60کے عشرے میں جب ہمارا پنج سالہ منصوبہ سامنے آیا تو جنوبی کوریا نے اسے مستعار لے لیا اور اس پر ایسا عمل پیرا ہوا کہ آج وہ ملک مشرق بعید کی ایک مضبوط معیشت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
مگر پھر کیا ہوا کہ ہماری ترقی پذیر معیشت کو بتدریج تنزلی کی وائرس نے آن لپیٹا۔ گو کہ ایوب خان کے عہد میں ہمارے ہاں ترقیاتی منصوبے بہت روبہ عمل آئے۔ منگلا اور تربیلہ ڈیم جیسے عظیم آبی ذخائر تعمیر ہوئے مزید براں اسی دور میں درجن بھر چھوٹے بڑے دوسرے ڈیمزبھی بنائے گئے ان تعمیرات کا فرمان آج بھی اہل پاکستان تک پہنچ رہا ہے۔ مگر بعد کے زمانوں میں ہمارے معاشی حالات بتدریج دگرگوں ہوتے چلے گئے۔
ایوب دور کے پلاننگ کمیشن کے ایک اہم محقق ڈاکٹر محبوب الحق کی تحقیق کے مطابق تب پاکستان کی ساری دولت اور وسائل رزق ملک کے بائیس امیر ترین خاندانوں کے تصرف میں تھے۔ سال ہا سال کے نشیب و فراز کے بعد آج وہی خاندان بڑھ پھل کر دوہ اڑھائی ہزار کے ہندسے تک پہنچ چکے ہیں۔ ملک کی ساری دولت ، وسائل رزق، کارخانے، شوگر ملیں، بنک انشورنس کمپنیاں ، سٹیل ملز، کھاد فیکٹریاں اجناس کی آڑھتیں اور رئیل اسٹیٹ بزنس پر ان خاندانوں کا اجارہ ہے۔ اپنے اسی اجارے کو برقرار رکھنے اور اسے تسلسل دینے کے لئے یہ خاندان اپنے ساجھے دار وڈیروں ، جاگیرداروں، کٹھ ملاو¿ں اور سرکاری بابوو¿ں کی معاونت سے سیاست پر قابض ہو چکے ہیں۔
یہ ان خاندانوں کی مکاری اور چالاکی ہے کہ یہ بالعموم ان پڑھ، کم فہم اور ہیرو پرست عوام کو ورغلا کر جمہوریت کے نام پر فریب جمہوریت کے ذریعے ان پر حکمرانی قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ گاہے زرداری کمپنی بسا اوقات شریف برادران کے سائن بورڈوں کے ساتھ۔
یہ اسی ملک بھگت کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کا مقتدر طبقہ امیر سے امیر تر اور غریب طبقہ غریب سے غریب ترہوتا جا رہا ہے۔
مقتدر طبقے کی حرام پائیوں کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مختلف حیلوں بہانوں سے کاغذی ترقیاتی منصوبے، کار خانے اور فیکٹریاں کھڑی کرتا ہے پھر عوامی مفاد کے نام پر بنکوں سے بہت نرم شرائط پر قرض لیتا ہے قرض کی اس رقم کو دوسرے بنکوں میں جمع کروا کر گھر بیٹھے اس پر گرا نقدر منافع وصول کیا جاتا ہے اور پھر ایک روز سکرپٹ کے مطابق اس دکھاوے کے کارخانے، مل، فیکٹری یا آفس کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ اس طرح ایک طرف تباہ کردہ املاک پر انشورنس کی موٹی تازی رقم وصول کرلی جاتی ہے اور دوسرا اہم کام یہ کیا جاتا ہے کہ بنکوں سے لئے گئے خطیر قرضے معاف کر وا لئے جاتے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق صرف1990سے2015کے25سالوں میںملک کے بے ضمیر اور حریص سرمایہ داروں نے4کھرب 30ارب روپے کے قرضے معاف کروالئے۔ ان میں بتایا جاتا ہے کہ شہباز شریف نمایاں ہیں۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ جمہور یعنی عوام کے نام پر یہاں کے مقتدر اور متمول طبقوں نے ہمیشہ کھلواڑ ہی کیا ۔ کبھی” اسلام خطرے میں ہے“ کے نعرے کے ذریعے گاہے روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر اور حالیہ دنوں میں نون غنوں کی طرف سے ” ووٹ کو عزت دو“ کے مبہم نعرے کی آڑ میں، انہی ایام میں نون لیگ کا ہی ایک ورکر ووٹ کو عزت دو کا پلے کارڈ اٹھائے بڑے جذباتی انداز میں نعرہ زنی کرتے ہوئے شریفوں کے جلسے میں ڈائس پر پہنچنے کے چاو¿ میں منتظمین سے ڈنڈے کھاتا رہا۔ اور ووٹ کو عزت دو کے نعرے بھی لگاتا رہا۔ یہ ہے جذباتی استحصال بے شعور یا کم فہم ووٹرز کا ۔ ہمارے سیاستدان اور حکمرانوں کے نزدیک ووٹر کی کوئی عزت نہیں اور وہ تو ہے ہی چھترول کے لائق۔ عزت ہے تو اس کے اس ووٹ کی جو وہ ان کے حق میں کاسٹ کر لے۔
عام ووٹروں اور کم فہم عوام کی ذہنی اور جذباتی سطح کو ایکسپلائٹ کرنے کا ہی نتیجہ ہے کہ اس وقت ہمارے ہاں کے روائتی مقتدر طبقے نے ملک کو30ہزار ارب روپے کے خطیر قرضے کا اسیر بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہاں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کی اتنی بڑی رقوم آخری لگی کہاں؟ اپنی کرپشن کو چھپانے اور عوام کی نظروں میں اس کی سنگینی ، حدت اور شدت کو کم دکھانے کی غرض سے نون غنوں کے بھونپوو¿ں نے یہ محاورہ فلوٹ کر رکھا ہے۔ ”پھر کیا ہوا وہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے“
واقفان حال کا کہنا ہے کہ بیرونی قرضوں کا ایک قابل لحاظ حصہ ماضی کے حکمرانوں نے کمیشن کے طور پر باہر کے ممالک میں ہی محفوظ پناہ گاہوں میں چھپا رکھا ہے۔ اس کا ایک بڑا ثبوت حال ہی میں سامنے آیا ہے جس کی رو سے پاکستانیوں نے خلیجی ریاستوں اور مغربی ممالک میں کم وبیش دس ہزار قیمتی پراپرٹیز، محلات اور پلازے خرید رکھے ہیں جن کی مالیت اربوں کا ہندسہ چھو رہی ہے۔ اسی طرح حکومت نے اسے300ارب پتی سرمایہ کاروں کا سراغ لگایا ہے جو ایک دھیلے کا بھی ٹیکس نہیں دیتے۔ ذرائع کے مطابق پچھلے ہفتے ایسے ایک سو افراد کو اپنے سرمایے اور دیگر متعلقہ معلومات کے سلسلے میں نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں۔
دوسری طرف زرداریوں اور نون غنوں کی دس سالہ کم و بیش ایک جیسی لوٹ کھسوٹ کرنے والی حکومتوں کی گھاتوں اور وارداتوں کا نتیجہ آج یہ ہے کہ2016میں ہمارے زر مبادلہ کے14ارب ڈالر یک بیک6ارب کی پست ترین سطح تک کیسے پہنچ گئے ۔ متعلقہ ادارے اس کا بابت بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔
سابقہ حکومت کی معاشی دہشتگردی کا ایک پہلو ہمارے بیشتر قومی اداروں کی پست معیشت ہے۔ یہ ادارے بھاری بھر کم قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔اس کا اجمالی جائزہ کچھ یوں ہے
ریڈیوں پاکستان ایک ارب 25کروڑ روپے ریلویز 37ارب روپے ، سٹیل ملز187ارب روپے، پی آئی اے360ارب روپے
پاکستان پر مسلط مقتدر طبقوں نے اپنے ذاتی، گروہی اور طبقاتی مفادات کی خاطر قوم اور اس کی معیشت کے ساتھ ہمیشہ کھلواڑ ہی کیا۔ اس ضمن میں ملکی اور غیر ملکی وسائل سے بھاری بھر کم شرائط پر خطیر قرضوں کے حصول کاوطیرہ ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں یہودی شائی لاکھوں پر مشتمل آئیل اینڈ آرمامنٹ مافیا اور کرنسی سے وابستہ کارپوریٹ سیکٹر کی اجارہ داری ہے۔ غریب اور مفلوک الحال قوموں کو ناروا قرضوں کے جال میں پھنسا کر سود کی مد میں ان کا خون تک نچوڑ لینا ان عالمی مافیاز کا دیرینہ شیوہ ہے۔ انہوں نے عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور انٹر نیشنل مانٹری فنڈ آئی ایم ایف کے نام سے تیسری دنیا کو قرضوں کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔
پچھلے ستر سال کے دورانیے میں ہماری سابقہ حکومتیں درجن بھر بار آئی ایم ایف سے مختلف سطحوں کے قرضے حاسل کرتی آئی ہیں۔
اگر قرضہ ایسے اسلوب اور منصوبوں کی تکمیل کے لئے لیا جائے جو نفع بخش ہو تو ایسا قرضہ معاون ثابت ہوتا ہے۔ اور معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
زندگی بچانے کے لئے وقتی طور پر حرام بھی جائز سمجھا جاتا ہے۔
مگر جو قرضہ ماضی کی حکومتوں کی طرح اللے تللوں پر ضائع کر دیا جائے وہ قوم کے لئے وبال جان بن جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ دوسری صورت حال پیش آتی رہی ہے۔ اسی لئے آج پاکستانی قوم تیس ہزار ارب کی مقروض ہے اور اس قرضے کے سود کی ادائیگی کے لئے بھی ہم تہی دامن ہیں۔ یہیں وجہ ہے کہ اقتدار سے پہلے عمران خان ان قرضوں کے کلچر کے سخت مخالف رہے ہیں۔ مگر تب تک انہیں اپنی معیشت کی حقیقی ناگفتہ بہ حالت کا ادراک نہ تھا۔ آج جب وہ خود اپنے سابقہ موقف سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں تو مخالفین انہیں اپنی شدید تنقید اور استہزا کے نشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ زرداری اور نواز شریف ٹولے کے معاشی جرائم بابت قوم کو کھل کر صاف صاف بتا دیں۔ قوم ان کی دیانت امانت اور اصابت پر یقین رکھتی ہے اور اس بھرتے ہوی کامیاب ٹھہرے گے۔

Scroll To Top