جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا عہدے سے ہٹایا جانا حیران کن نہیں

  • چیف جسٹس کی سربراہی میںسپریم جوڈشیل کونسل کے اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ سنایا
  • حیران کن ہے کہ بسا اوقات اہم عہدوں پر براجمان شخصیات حب الوطنی سے عاری دکھائی دیں
  • زمہ داروں کو ایسے الفاظ کے استمال سے بہرکیف اجتناب برتنا چاہے جو محض دشمن کو ہی زیبا ہیں

zaheer-babar-logo
بعض حضرات کے لیے سپریم جوڈشیل کونسل کی ہدایت پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جناب شوکت عزیز صدیقی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ حیران کن نہیں۔ جمعرات کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈشیل کونسل کے پانچ اراکین نے متفقہ طور پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ضابطہ اخلاق کی خلا ف وزری کا مر تکب قرار دیتے ہوئے انھیں ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی جسے وزارت قانون وانصاف نے منظور کرلیا ۔سفارشات کے مطابق 21 جولائی 2018 کو جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ملکی اداروں کے خلاف جو تقریر کی اس کے سبب وہ ججز کے لیے بنائے گے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ۔ “
یقینا وطن عزیز میں یہ افسوسناک رججان بدستور موجود ہے کہ اپنے ہی ملک کے اہم اداروں کے خلاف ایسا لب ولہجہ اختیار کیا جائے جو حب الوطنی کے بنیادی تقاضوں کے خلاف دکھائی دے۔ ستم ظریفی یہ کہ اکثر وبیشتر ایسا بھی ہوا کہ جو زمہ دار لوگ اس رجحان میں ملوث پائے گے وہ اہم سرکاری عہدوں پر تعینات نظر رہے ۔ اس ضمن میں نمایاں مثال سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی ہے جنھوں نے بدعنوانی کے عالمی سکینڈل پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد اسے سازش کا نام دیا ۔ کئی مہینوں تک عدالتوں میں پانامہ کیس کی سماعت کے بعد بھی لندن میں نواز شریف فیملی اپنے قیمتی فیلٹس کی منی ٹریل تو نہ دے سکی مگر اپنا قصور ماننے کوبھی تیار نہ ہوئی ۔ میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی نے خالصتا مالی معاملہ کو سیاسی بنانے کی بھرپور کوشش کی حتی کہ سابق وزیر اعظم کا یہ بیان سامنے آیا کہ ان کا مقابلہ کسی اور سے نہیں ”آسمانی مخلوق “ سے ہے۔ میاں نوازشریف ایک طرف عدلیہ کے خلاف سخت جملے استمال کرتے رہے تو دوسری جانب قومی اداروں کے حوالے سے بھی ان کے لب ولہجہ میں نرمی نہ آئی ۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے میاں نوازشریف جس انداز میںقومی اداروں کے خلاف مورچہ زن رہے وہ افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ تشویشناک بھی رہا۔ 28جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل میاں نوازشریف اور مریم نواز کو لندن سے وطن واپسی پر جیل منتقل کردیا گیا۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بظاہر حیران کن انداز میں سابق وزیر اعظم اور ان کی بیٹی اور داماد کی ضمانت منظورکرلی ۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جیل سے رہائی پانے کے بعد میاں نوازشریف اور مریم نواز مسلسل خاموش ہیں جو خاصا معنی خیز ہے ،چنانچہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ تاثر مضبوط ہورہا کہ کہیں نہ کہیں کسی نے کسی شکل میں سابق وزیر اعظم کے معاملات اس طرح طے پاگے کہ وہ عملا سیاسی سرگرمیوں سے لاتعلق دکھائی دے رہے۔ 14 اکتوبر کو ملک میں ضمنی انتخاب ہونے جارہا ایسے میںمیاں نوازشریف ہی نہیںمسلم لیگ ن بھی بھرپور انتخابی مہم چلانے سے مسلسل گریزاں ہے۔ شوکت عزیز صدیقی ہوں یا کوئی بھی اور زمہ دار شخصیت یہ سوال بہرکیف اہم ہے کہ دفاعی اداروں کے خلاف ایسا لب ولہجہ کیوں اختیار کیا جاتا جسے کم سے الفاظ میں بھی قابل مذمت کہا جائے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہے کہ ہمارے دور اور نزدیک کے دشمن سرحد کے باہر ہی نہیں بلکہ ملک کے اندر بھی ہے جو مختلف شکلوں میں اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھا رہے۔ اس میں دوآراءنہیںکہ وطن عزیز کو مسائل میں الجھانے میں دشمنوں کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنوں کا کردار بھی کم نہیں رہا۔ ہم میں سے ایسے بھی ہیںجو تعمیر کی بجائے تخریب پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سوال کو جواب ڈھونڈنا مشکل نہیں کہ آخر کیوں ہم ایسے تنازعات میں اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں جو انفرادی طور پر ہی نہیں اجمتاعی سطح پر خسارے کا باعث بن رہیں۔
وطن عزیز آج جن مسائل کا شکار ہے وہ ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتے کہ بطور قوم ہم باہم دست وگربیاںرہیں۔یاد رہے کہ قومی سطح پر اتفاق واتحاد سے محروم ہوجانا ہماری مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے ۔اختلافات سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر اس طریقہ کی حمایت کیسے کی جائے کہ ایسے الفاظ سرعام استمال ہوں جس کی خواہش صرف اور صرف پاکستان کے دشمنوںکی ہے۔ جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے معاملہ میں سپریم جوڈشیل کونسل کا فیصلہ کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ بادی النظر میں فیصلے کا پیغام بڑی حد تک واضح ہے کہ ہر اہم منصب پر فائز شخص کو اپنی حدود وقیود کا پاس رکھنا ہوگا۔ یعنی اسے یہ بھی سمجھ لینا ہوگا کہ اس کے منصب کا تقاضا کیا ہے ، حدود وقیود کہاں تک ہیں۔ مطلب آئین وقانون کے معاملات کہاں تک ہیںاور کس مقام سے فرائض منصبی کی خلاف وزری ہوسکتی ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ ترقی پذیر معاشرے میں اداروں کے درمیان اختیارات کے استمال پر اختلاف حیران کن نہیں ۔تیسری دنیا کے ملک کی حثیثت سے پاکستان میں حکومتی نظام تاحال پختگی کی معراج کو نہیں پہنچا ۔ عام آدمی ہی نہیں بسا اوقات ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی اس کا احساس نظر نہیںآتا کہ ان کی اصل زمہ داریاں کیا ہیں۔ یقینا حالیہ سالوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے مگر حتمی کامیابی کے لیے وقت درکار ہے۔کہا جاسکتا ہے کہ ارض وطن کو محفوظ اور خوشحال بنانے کے عزم سے سرشار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا تو ناممکن نہیں کہ آنے والے ہماری مشکلات میں ڈرامائی کمی واقعہ ہوجائے۔

Scroll To Top