دو قسم کے طالبان 28-02-2014

kal-ki-baat
اچھے اور بُرے طالبان کی ترکیبیں بڑی کثرت کے ساتھ استعمال ہوتی رہی ہیں۔ زیادہ تر اِن کا استعمال طنز اور تمسخّر کے لئے ہوا ہے ۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اصل طالبان وہ تھے جنہوں نے افغانستان میں ” وارلارڈز“ کو شکست دے کر کابل میں ایک ایسی حکومت قائم کی تھی جو ملک کے طول و عرض میں ریاست کی عملداری (The State Writ)قائم کرنے میں بڑی حد تک کامیاب رہی۔ یہی وہ طالبان تھے جن کو کچلنے اور ختم کرنے کے لئے امریکہ نے 7اکتوبر2001ءکو افغانستان پر بھرپور حملہ کیا تھا۔اور اِن ہی طالبان نے امریکی جارحیت اور قبضے کے خلاف مزاحمت کی ایک یادگار جنگ لڑی ہے۔
دوسری قسم کے طالبان وہ ہیں جنہوں نے نہایت پراسرار حالات میں جنم لے کر اپنی اُن بندوقوں کا رخ پاکستان اس کے عوام ` اس کی افواج اور اس کے اداروں کی طرف موڑ دیا جو اُن کے ہاتھوں میں ایسی قوتوں نے تھمائی تھیں جن کے لئے پاکستان کا استحکام ناقابلِ قبول ہے۔ اِن طالبان کے ہاتھوں میں نفاذِ شریعت یا اسلامائزیشن کا) narrativeجواز(بھی ہمارے دشمنوں نے دیا۔ مقصد ایک تیر سے دو شکار کرنا تھا۔ پاکستان بھی عدم استحکام کا شکار ہو جائے اور اسلام کا امیج بھی خود اس کے اپنے پیروکاروں کی نظروں میں بھی گِر جائے۔
آج فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ جو طالبان واقعی اسلام سے محبت کرتے ہیں اور جنہوں نے پاکستان کے خلاف بندوقیں گمراہ یا بدگمان ہو کر اٹھائی تھیں ` اُن کے لئے بہترین موقع ہے کہ غیر مشروط طورپر جنگ بندی کا اعلان کردیں اور اپنے آپ کو اُن طالبان سے الگ کرلیں جو درحقیقت کرائے کے سپاہی ہیں۔

Scroll To Top