” اس نظام میں ہر شخص نوازشریف ہے ` کوئی چھوٹا اور کوئی بڑا !“

aaj-ki-baat-new
میں مرحوم ریاض نقوی کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ وہ اُس زمانے میں ایف بی آر کے چیئرمین تھے جب جنرل (ر)پرویز مشرف نے اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیا تھا اور شوکت عزیز نے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالا تھا۔۔۔
تب میڈاس ایک ہی کمپنی تھی اور اس کا کنٹرول میرے ہاتھ میں تھا۔ ہم نے تب جو ایڈورٹائزنگ کمپین کی تھی وہ میرے اور نقوی مرحوم کے اشتراکِ فکروعمل کا نتیجہ تھی۔۔۔
اس کمپین کے دو مرکزی مقاصد تھے۔۔۔
پوری اکانوی کو Documentکیا جائے یعنی سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایاجائے۔ دوسرے الفاظ میں ملک کے ہر فرد کی کیا کیا ملکیت ہے وہ حکومتی ریکارڈ کا حصہ بن جائے اور جہاں جہاں جوبھی املاک جس صورت میں بھی موجود ہیں ان کے اصل مالکان سامنے آجائیں۔۔۔
کمپین کا دوسرا نکتہ یہ تھا کہ Tax evasionکی ترکیب کی بجائے Tax theftکی ترکیب استعمال کی جائے۔ یعنی اس شخص کو بھی ” چور “ قرار دے دیا جائے جو کسی بھی حیلے بہانے سے ٹیکس نہ ادا کرنے کے راستے نکالتا ہے۔۔۔
یہ کمپین بڑے دھواں دار انداز میں چلی۔ مگر پھر ایک دن آگیا کہ نقوی صاحب نے مجھے بلا کر کہا۔
” آپ کا خواب ٹوٹ گیاہے۔۔۔ اور میر ی سوچ ہار گئی ہے۔۔۔“
” کیا ہوانقوی صاحب ۔۔۔؟“ میں نے پوچھا۔۔۔
” چور چوری کے حق سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں۔ اور املاک کے مالکان اپنی مالداری کا حساب دینے کو انسانی حقوق کی تذلیل سمجھتے ہیں۔ مجھے یہ حکمنامہ ملا ہے کہ فی الحال جو کچھ جیسا ہے ویسا ہی رہنے دیا جائے۔۔۔“
میں ایکدم سکتے میں آگیا۔۔۔
” تو کیا واقعی جو کچھ جیسا ہے ہمیشہ ویسا ہی رہے گا۔۔۔؟“ میں نے پوچھا۔۔۔
” اکبر صاحب۔۔۔ اِس نظام میں ہر شخص نوازشریف ہے ۔۔۔ کوئی چھوٹا کوئی بڑا۔۔۔۔“

Scroll To Top