وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس: 10برسوں میں لیے گئے قرضے کہاں خرچ ہوئے؟تفصیلات طلب

  • وفاقی کابینہ اجلاس میں کرپٹ عناصر کی نشاندہی کے وسل بلور ایکٹ پر آرڈیننس لانےکا فیصلہ ، ایئر مارشل(ر) ارشد محمود ملک چیئرمین پی آئی اے، محمد میاں سومر و چیئرمین نجکاری کمیشن اور عون عباس چیئرمین پاکستان بیت المال مقرر کرنے کی منظوری
  • عمران خان کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس میںآئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے معاملے پرعوام کوحقائق سے آگاہ کرنے، 50 لاکھ گھروں اور گرین پاکستان منصوبوں کو نمایاں انداز میں اجاگر کرنے، سابقہ حکومت کے عوام دشمن اقدامات کو بے نقاب کرنے اورضمنی انتخابات بارے حکمت عملی پر تفصیلی غور
اسلام آباد:۔ وزیر اعظم عمران خان کابینہ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

اسلام آباد:۔ وزیر اعظم عمران خان کابینہ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

اسلام آباد(الاخبار نیوز) وفاقی کابینہ نے کرپٹ عناصر کی نشاندہی کے نئے قانون وسل بلور پر آرڈیننس لانےکا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں معاشی صورت حال کی بہتری کے اقدامات اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی حکمت عملی پر کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا۔کابینہ کے اجلاس میں ای سی ایل میں نام شامل کرنے اور نکالنے کی لسٹ پر تفصیلی غور کیا گیا اور وزارت داخلہ نے ای سی ایل میں نام شامل کرنے اور نکالنے کی پالیسی پر بریفنگ دی جس پر وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے شفاف نظام بنانے کی جامع پالیسی بنانے کی ہدایت دی۔کابینہ کو وزیراعظم کو نیا پاکستان ہاو¿سنگ منصوبے کی تفصیلات پر بریفنگ دی گئی اور کابینہ نے وزارت ہاو¿سنگ سمیت تمام وزارتوں اور اداروں کو منصوبے سے متعلق امور جلد نمٹانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے بھی بریفنگ دی، کابینہ نے کرپٹ عناصر کی نشاندہی کے نئے قانون وسل بلور پر آرڈیننس لانےکا فیصلہ کیا ہے، آرڈیننس کو موجودہ نیب اور ایف ا?ئی اے کے قوانین سے ہم ا?ہنگ کیا جائے گا، کرپٹ عناصر کی نشاندہی کرنے والے کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا، کرپشن کی نشاندہی اور غیر قانونی اکاو¿نٹس سے حاصل رقوم کا 20 فی صدملے گا۔کابینہ نے عطیہ کی جانے والی گاڑیوں کے لیے انکم ٹیکس اور سیلز کے آئی آر او میں چھوٹ کی سمری کی منظوری دی۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت پر تنقید کرنے والوں کی جرات پر حیران ہوں جبکہ پاکستان کے موجودہ حالات کے ذمہ داروں پر مقدمہ چلنا چاہیے، ان لوگوں نے جو کچھ پاکستان کے ساتھ کیا ہے، میرے خیال سے تو انہیں 6 ماہ تک گھر سے ہی نہیں نکلنا چاہیے تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے پارلیمانی کمیشن بننا چاہیے کہ گزشتہ 10 سال میں ملک کی معاشی حالت کا ذمہ دار کون ہے۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اجلاس کے دوران بعض افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے یا نکالنے سے متعلق غور ہوا۔فواد چوہدری کے مطابق 3 ہزار کے لگ بھگ لوگوں کے نام ای سی ایل پر ہیں، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو کہا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کہیں ایسے لوگ تو نہیں ہیں جنہیں انتقامی کارروائیوں کے سبب ای سی ایل پر ڈالا گیا ہو۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے وائس چیف آف ایئر اسٹاف ایئر مارشل ارشد محمود ملک کو چیئرمین پی آئی اے اور عون عباس کو چیئرمین پاکستان بیت المال کی تقرری کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چیئرمین پی آئی اے کو کہا گیا ہے کہ وہ ادارے کی مالی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یوریا کھاد درآمد کے لیے پیپرا رولز 35 میں نرمی کی سمری پر بھی غور کیا گیا جب کہ عطیہ کی جانے والی گاڑیوں کے لیے انکم ٹیکس اور سیلز کے آئی آر او میں چھوٹ کی سمری بھی پیش کی گئی۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے شروع کی گئی ہاو¿سنگ اسکیم کے حوالے سے فواد چوہدری نے بتایا کہ سرکار کی زمین کولیٹرل ہوگی، بینک قرضہ دے گا، جس پر لوگ گھر بنائیں گے۔فواد چوہدری نے بتایا کہ اسمگل شدہ موبائل فون کے حوالے سے بھی طریقہ کار طے کرلیا گیا ہے اور آئندہ برس تک اسمگل شدہ موبائل فون ملک میں کام نہیں کریں گے۔وزیراعظم نے وزارت خزانہ سے دس سالوں میں لیے گئے قرضے کی تفصیلات طلب کرلیںاس سے قبل کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے وزارت خزانہ سے گزشتہ دس برسوں میں لیے گئے قرضوں کی تفصیلات طلب کیں۔وزیراعظم نے کہا کہ لیے گئے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضوں کی ضرورت پڑ رہی ہے، دس سال میں پاکستان کا قرضہ 6 ہزار سے 30 ارب روپے ہوگیا ہے، وزارت خزانہ سے قرضوں سے متعلق تفصیلات پوچھی ہیں، وزارت خزانہ بتائے دس برسوں میں لیا گیا قرضہ کن منصوبوں پر خرچ ہوا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ اورنج ٹرین میں تو خسارہ ہے اس کے لیے مزید قرضے لینے ہوں گے۔نیا پاکستان ہاو¿سنگ اسکیم سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہاو¿سنگ پراجیکٹ سے تعمیراتی صنعت میں ترقی ہوگی۔ دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی رہنماو¿ں کا مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں میڈیا پرحکومتی اور پارٹی مو¿قف بھرپور انداز میں اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فواد چوہدری، فیصل واوڈا، نعیم الحق، افتخار درانی شریک ہوئے. اجلاس میں شبلی فراز، فیصل جاوید، عثمان ڈار نے بھی شرکت کی.پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت کی کارکردگی سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی.اس موقع پر اپوزیشن کا احتجاج اور شہباز شریف کی گرفتاری کے معاملات بھی زیر بحث آئے.اجلاس میں حکومت کے بیانیے کو بھر پور انداز سے اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے. ساتھ ہی قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے متعلق بھی حکمت عملی پر مشاورت ہوئی.اس موقع پر عمران خان نے وزرا کو ہدایت کی کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے معاملے پرعوام کوحقائق سےآگاہ کیا جائے.انھوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف میری جدوجہد جاری رہے گی، قومی دولت لوٹنے والےچہروں کوبےنقاب کیاجائے.وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 50 لاکھ گھر اور گرین پاکستان منصوبوں کو نمایاں انداز میں پیش کیا جائے اور میڈیا پرحکومتی اور پارٹی مو¿قف بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے.

Scroll To Top