پاکستان اگر قالب ہے توروح اس کی اسلام ہے 23-09-2008

یہ دہشت گرد کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ کیوں آگ اور خون کا کھیل کھیل رہے ہیں؟ کیوں معصوم لوگوں کو قبروں میں اتار کر ان گنت گھرانوں کو ماتم کدوں میں تبدیل کررہے ہیں؟ پاکستان سے ان کی کیا دشمنی ہے؟ پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے اوراس کے اقتصادی مستقبل کو تاریک کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟ اور یہ مقصد انہیں اتنا عزیز کیوں ہے کہ اس کی تکمیل کے لئے انہیں اپنی جانیں دینے سے بھی کوئی گریز نہیں؟ کیا انہیں واقعی جنت کی تلاش ہے جیسا کہ مغربی میڈیا زور دے کر کہتا رہتا ہے؟ کیا ان کی جنت انسانی جانوں کانذرانہ مانگتی ہے؟ کیا وہ واقعی مسلمان ہیں؟ اگر ہیں تو انہیں قرآن اور رسول کی تعلیمات سے اتنی لاتعلقی اور ناآگہی کیوں ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو اہل پاکستان کے ذہنوں میں گونج رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ لاوے کی طرح پک رہے ہیں۔
ان سوالات کاجواب حاصل کئے بغیر ہم کوئی واضح حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکتے۔
ان سوالات کی اہمیت سے انکار نہیں۔ مگر زیادہ اہم میرے نزدیک ان دانشوروں کا رویہ ہے جو اپنے ”افکار“ اور ”اپنی گفتار“ کے ذریعے اس مغربی پروپیگنڈے کو درست ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ فساد کی اصل جڑ معاملات حکمرانی اور ریاستی ڈھانچے میں اسلام نام کے مذہب کا عمل دخل ہے۔
میں نہیں جانتا کہ ان اصحاب کے ذہنوں میں کون سا ”اسلام“ ہے۔ جس اسلام کو میں جانتا ہوں اور جس سے میری وابستگی ہے وہ اسلام بنی نوع انسان کی فلاح کے لئے ایک نظام کے طورپر خالق کائنات نے روئے زمین پر بھیجا تھا۔ جس عظیم ہستی کے ذریعے یہ بھیجا گیا اور جس عظیم ہستی نے اسے آئین خداوندی کے طورپر پہلی اسلامی ریاست (مدینہ) میں نافذ کیا اس کا نام حضرت محمد تھا۔
اگر حقیقی اسلام یہی ہے اور اگر ہماری مسلمانی اسی اسلام پر ایمان لانے سے جڑی ہوئی ہے، تو یہ پاکستان کے قالب میں زندہ وجاوید روح بن کر ضرور دھڑکے گا۔

Scroll To Top