سی پیک معاہدوں پر کوئی نظر ثانی نہیں ہو رہی، ترجمان دفتر خارجہ

  • خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہیں، بھارت کوہتھیاروں کی فراہمی سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑے گا
  • بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، ا پنی سرزمین کے دفاع کےلئے ہمہ وقت تیار ہیں، چین سے ڈرونز خریداری بارے علم نہیں ، ڈاکٹر فیصل کی ہفتہ وار بریفنگ

مسلسل بھارتی اشتعال انگیزی ‘بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی

اسلام آباد(صباح نیوز)ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ سی پیک معاہدوں پر کوئی نظر ثانی نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے وزیراعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، موجودہ حکومت کے آنے کے بعد امریکا کے ساتھ رابطے کافی زیادہ ہوگئے ہیں، پاکستان اور چین کے درمیان ڈرونز کی خریداری کا علم نہیں ، ہم خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہیں، جو ممالک بھارت کو ایسے ہتھیار فراہم کر رہے ہیں، اس سے طاقت کا توازن متاثر ہوگا، بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، ہم پنی سرزمین کے دفاع کے لیے تیار ہیں، جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پربھارت مذاکرات کی حامی بھرنے کے باوجود پیچھے ہٹ گیا، پاکستان کسی بات سے نہیں بھاگ نہیں رہا، پاکستان نے سب سے بات چیت کرنی ہے، ہماری خارجہ پالیسی میں کوئی ابہام نہیں،پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کوئی خفیہ پالیسی نہیں۔ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی این جی اوز کے کام کرنے پر پابندی نہیں، پاکستان نے حال ہی میں 141 بین الاقوامی این جی اووز کے معاملات دیکھے جن میں سے 74کو کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ سی پیک معاہدوں پر کوئی نظر ثانی نہیں ہو رہی، سی پیک معاہدوں پر نظر ثانی سے متعلق وزیراعظم کے بیان کو درست رپورٹ نہیں کیا گیا، پاکستان اور چین اسپیشل اکنامک زونز میں تیسرے شراکت دار کی شراکت کیلئے پر امید ہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سی پیک کی شراکت داری پر بات چیت ہوئی ہے، اس سے متعلق حتمی معاملات ابھی طے پانے ہیں ،ہم دیگر ممالک کو بھی سی پیک کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری پرخوش آمدید کہتے ہیں۔ بریفنگ کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان ڈرونز کی خریداری کے معاملے کے حوالے سے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ انہیں اس کا علم نہیں ۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہیں اور کسی قسم کی ہتھیاروں کی دوڑ میں نہیں پڑنا چاہتے، تاہم جو ممالک بھارت کو ایسے ہتھیار فراہم کر رہے ہیں، اس سے طاقت کا توازن متاثر ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، ہم پنی سرزمین کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر شیڈول پاک-بھارت وزرائے خارجہ ملاقات کی منسوخی کے حوالے ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ہم نے وزرائے خارجہ کی ملاقات کی درخواست کی تھی،لیکن بھارت مذاکرات کی حامی بھرنے کے باوجود پیچھے ہٹ گیا، پاکستان کسی بات سے نہیں بھاگ نہیں رہا، پاکستان نے سب سے بات چیت کرنی ہے، ہماری خارجہ پالیسی میں کوئی ابہام نہیں،پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کوئی خفیہ پالیسی نہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و بربریت کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھاکہ بھارتی قابض افواج کشمیریوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے حریت قیادت کی غیر قانونی حراست کے دوران سختیوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انتخابات جعلی ہیں جن کا بھارت کو فائدہ نہیں ہوگا۔ ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے پاک افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان کے مطابق اس دوران دونوں ممالک نے باہمی طور پر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا امریکا،افغان حکومت اور دیگراسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے اور اسی وجہ سے زلمے خلیل زاد باقی ممالک کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔

Scroll To Top