اربوں کی اراضی قبضہ مافیاز سے واگزار کر الی گئی

  • مغلوں اور انگریزوں نے وڈیرہ شاہی کے ذریعے اپنا اقتدار مستحکم کیا
  • بھٹونے کہا جام صادق اپنی قبضہ گردی میں قائد اعظم کے مزار کو نہ چھیڑنا
  • اندرون سندھ مقتدر پارٹیوں کی سرپرستی میں چھوٹو گینگ پروان چڑھتا رہا
  • اصلاح احوال کے لئے مفادات یافتہ طبقات کا گٹھ جوڑ توڑنا ہوگا
  • حکمرانوں کے غالب حصے ملک کے اعلیٰ و ارفع نظریاتی تشخص سے یکسر نابلد

gulzar-afaqi
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سندھ کے تب وزیراعلیٰ جام صادق کی کرپشن اور قبضہ گردی سے بہت نالاں تھے۔ طنز میں لپٹی کاٹ دار تنقید ان کی مخصوص انفرادیت تھی۔
ایک روز انہوں نے جام صادق سے کہا
”جام تم جہاں چاہے قبضہ گردی کرو مگر قائد اعظم کے مزار کو نہ چھیڑنا“۔
یہ تلخ حقیقت اس امر کی غماز ہے کہ نہ صرف بھٹو دور حکومت میں بلکہ اس سے بہت پہلے پچاس کی دہائی سے ہی ملک ہی مقتدر طبقہ بد معاشیہ نے سرکاری املاک اور اثاثوں کی لوٹ کھسوٹ کا دھندہ شروع کر رکھا تھا۔ اور اس حکمران طبقے میں وڈیرے، جاگیردار، نوکر شاہی کے کل پرزے، سرمایہ دار، کٹھ ملائیت اور دیگر اندرونی و بیرونی گماشتے شامل تھے اور یہ گھٹ جوڑ آج بھی کسی نہ کسی درجے پر موجود ہے۔
میں نے قیام پاکستان کے حوالے سے پچاس کی دہائی سے اپنے ہاں سرکاری املاک پر جاری قبضہ گردی کا حوالہ دیا تھا۔ وگرنہ اس وبائی جرم کا پچھلا سرا تو مغل دربار اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بر صغیر پر استحصالی قبضے سے جڑا ہوا ہے۔مغل اور انگریز اجنبی سر زمینوں سے ہمارے ہاں وارد ہوئے تھے اور انہیں اس حقیقت کا پورا پورا دراک تھا۔ انہیں کھٹکا لگا رہتا تھا کہ مقامی آبادیاں کسی بھی وقت ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہو سکتی ہیں چنانچہ انہوں نے برصغیر میں اپنے ناجائز قبضے سے تراشیدہ حاکمیت کو دوام بخشنے کے لئے آبادی کے ان طبقوں کو اپنے مفاداتی حصار میں شامل کر لیا جن کا اوپر کی سطروں میںحوالہ دیا گیا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد جب ملک میں مہاجرین سے بھارت میں چھوڑی گئی جائیدادوں کی روشنی میں متبادل کے طور پر ملک کے مختلف حصوں میں زمینی قطعات اور مکانات اور کارخانے الاٹ کئے جانے لگے تو اس سارے عمل میں قبضہ گردی کی پرانی روائت کا بہت زیادہ رنگ ڈھنگ نظر آتا ہے۔
قائداعظم ، لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر جیسے بانیان مملکت جہان فانی سے رخصت ہو چکے تھے اور اب اقتدار جن کے ہاتھوں میں تھا وہ قیام پاکستان کے اعلیٰ و ارفع نظریاتی تشخص سے یکسر لا تعلق تھے۔ چنانچہ ہمارے سماج میں وڈیرہ شاہی، سرمایہ شاہی نوکر شاہی اور ملا شاہی کا گٹھ جوڑ اپنے اپنے مفادات کی سانجھے داری کے ساتھ پوری قوت اور چالاکی سے متحرک ہوگیا۔ وڈیرہ شاہی اور جاگیر شاہی چونکہ زمین کے ساتھ اپنے شتہ و تعلق کو اپنا ازلی و ابدی حق سمجھتی ہے سو اس نے اپنی طبقاتی پوزیشن کو مضبوط ، مربوط اور موثر بنانے کے لئے نوکر شاہی اور ملا شاہی اس میں پیر اور گدی نشین بھی شامل ہیںکو ساتھ ملا کر اپنے اپنے زیر اثر علاقوں میں کمزور طبقات کی زمینوں اور اثاثوں پر ناجائز قبضہ گردی شروع کر دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک بھر میں قبضہ گردی کی شکل میں چھوٹے چھوٹے راجواڑے وجود میں آگئے۔ دیہی آبادی نے شہری چکاچوندی سے متاثر ہو کر اور کمائی کے نئے امکانات کو قابو کرنے کی غرض سے جب شہروں کا رخ کرنا شروع کیا تو زمینوں پر قبضے اور ہر دولت آفرین ذریعے کو اپنی تحویل میں لینے کی روش نے پورے سماج ہی کو جرم کی ایک جداگانہ دلدل میں دھکیلنا شروع کر دیا۔
سو آج عالم یہ ہے کہ ستر سال کے دورانیے میں ہمارے ہاں کے طاقتور طبقات نے قبضہ گردی کے ذریعے زندگی کا ایک یکسر مختلف کلچر متعارف کر ادیا ہے۔ جس کے خاتمے کے لئے بعض باشعور حلقے اور سوشل ایکٹو یسٹس منظر عام پر آئے ہیں۔ جو گائے بگاہے معاشرے کو قبضہ گردی کی لعنت کے خلاف شعور فہمی کا اہتمام کرتے ہیں۔مقام مسرت ہے کہ اس ضمن میں ہماری عدالت عالیہ نے ذمہ داروں کو حکم دیا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے اپنے دائرہ اختیار کے علاقوں میں قبضہ مافیا سے ناجائز ہتھیائی ہوئی زمین جائیداد اور دیگر اثاثہ جات واگزار کرائیں۔
تعجب خیز امر یہ ہے کہ ملک بھر میں ہر نوع کے قبضہ مافیا نے سیاسی جماعتوں کی بالواسطہ یا بلا واسطہ سرپرستی حاصل کر رکھی ہے۔ سندھ میں کراچی، حیدر آباد اور سکھر جیسے بڑے شہروں میں چائنا کٹنگ، کوریا کٹنگ، اور کلکتہ کٹنگ جیسی بدنام زمانہ اصطلاحوں کے ساتھ دوسروں کی زمین، جائیداد یا پلاٹ ہتھیانے کے لئے مختلف ہتھکنڈوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ سندھ کے مذکورہ شہروں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت کے دور میں ”مہاجر خدمت فاو¿نڈیشن“ اور پیپلز امن کمیٹی کے پلیٹ فارموں سے غنڈہ گردی، مارکٹائی، بوری بند لاش گردی، اور چائنا کٹنگ کے ذریعے قبضہ گردی جیسی قبیح وارداتوں کا چلن عام رہا۔ ایم کیو ایم (الطاف) بابت تو مشہور ہے کہ اس کے کارندے کمزور لوگوں کی زمین(جائیداد) ہتھیانے کے لئے بدترین تشدد کا مظاہرہ کرتے اور پستول کی نوک پر دستخط کروا کر کسی بھی شخص کی جائیداد ہڑپ کر سکتے تھے۔
مذکورہ دونوں بابت مشہور ہے کہ انہوں نے اندرون سندھ اپنی سیاسی پوزیشن وسیع و مضبوط کرنے کی غرض سے ڈاکوو¿ں کے جتھے بھی تیار کر رکھے ہیں۔ دریائے سندھ کے کچے کے علاقے میں ایک عرصے سے ڈاکو راج قائم ہے۔ اور ان کی راجدھانی میں ریاست پاکستان کا کوئی قانون ، کوئی ضابطہ اور کوئی رٹ نہیں چلتی، چند ماہ پہلے اسی علاقے میں ڈاکو غلام رسول کا ”چھوٹو گینگ“ اپنی چیرہ دستیوں کے سبب میڈیا کی زینت بنتا رہا۔ سندھ پولیس کئی ہفتے اس کی بیخ کنی کے لئے ”سرگرم“ رہی مگر ناکام رہی۔ مبصرین کے مطابق توقع بھی ایسے ہی نتیجے کی تھی کیونکہ اندر خانے تو دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں ایک دوسرے کی ملی بھگت سے مال پانی بناتے ہیں اور اس میں سے اپنے سرپرست وڈیرے اور جاگیردار کی بھی مٹھی گرم کرنا لازم ہوتا ہے۔ یہ تو ہماری بہادر اور دلیر فوف کا کارنامہ ہے کہ جب پولیس ناکام ہوگئی تو پھراس نے بذریعہ قوت چھوٹوگینگ کو دھول چٹا کر رکھ دی تھی۔
یہاں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہی سندھ کے اندرونی علاقوں میں مقتدر پارٹی یعنی پی پی پی ، پیروں گدی نشینوں اور وڈیروں جاگیرداروں کے ساتھ ساتھ کٹھ ملائیت اور نو کر شاہوں کی ساجھے داری میں ڈاکو ڈکیتوں کا بھی بہت عمل دخل ہے۔ ماضی میں جب کراچی کے ایک مشہور آئی سپیشلسٹ کو ڈاکو اغوا کرکے کچے کے جنگلوں میں لے آئے تھے تو مختلف حلقوں کی بسیار کوشش کے بعد ایک معروف گدی نشین سیاستدان کی ضمانت پر ڈاکوو¿ں نے ڈاکٹر موصوف کو ریلیز کیا تھا اور ”خرچہ پانی“ کے نام پر کئی لاکھ روپے کی ادائیگی بھی کی گئی تھی۔
عدالت عالیہ کے حکم کے تحت متعلقہ اداروں نے پنجاب بھر میں انسداد تجاوزات اور قبضہ گردی کے خلاف جو آپریشن شروع کر رکھا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔
ذرا غور فرمایئے صرف لاہور میں قبضہ مافیا نے جن سرکاری املاک پر سال ہا سال سے اپنا تصرف اور اجارہ قائم کر رکھا تھا اس کی ایک ہلکی سی جھلک ملاحظہ فرمایئے۔محکمہ مال کی 31ہزار کینال زمین، ایل ڈی اے کی 636کینا، محکمہ جنگلات 280کنال، اندرون لاہور میں 8سرکاری عمارتیں اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی 32عمارتیں قبضہ مافیا کے اجارہ میں تھیں اور وہ سال ہا سال سے ان جائیدادوں پر مختلف طریقوں سے مال بنا رہا تھا۔ اسی طرح لاہور ہی میں ایل ڈی اے کے 73 پلاٹ قبضہ مافیا کے تصرف میں چلے آرہے تھے ان میں سے34پلاٹ صرف ایک شخص منشا بم کے بتائے جاتے ہیں۔ جس کا کسی نہ کسی درجے کا رشتہ و تعلق پنجاب میں متقدر پارٹی سے بتایا جاتا ہے۔
تازہ ترین خبر کے مطابق پنجاب کی تقلید میں سندھ کی پیپلز پارٹی حکومت نے بھی اپنے ہاں قبضہ مافیا کے خلاف کریک ڈاو¿ن شروع کیا ہے۔ اس ضمن میں پاک سرزمین پارتی کے مصطفیٰ کمال سمیت 37افراد کو شامل تفتیش کیا جا چکا ہے مگر اصل مجرموں اور بڑے قبضہ گروپوں کے سرپرستوں تک پہنچنے کے لئے تو لازم ہے کہ زرداری گینگ سے لپٹی ہوئی گفتنی نا گفتنی داستانوں کی تحقیق و تفتیش کی جائے اور سندھ بلڈنگ کنڑول اتھارٹی کے معروف کردار ” کا کاماما“ اور اس کے حواریوں پر ہاتھ ڈالا جائے اور ساتھ ہی فاروق ستار اینڈکمپنی کو دائرہ تفتیش میں لیا جائے تب معلوم ہوگا کہ بھٹو مرحوم کا نام ناجائز طور پر استعمال کرنے والازرداری گینگ کے اجرے میں سندھ کی کیسی کیسی زمینیں ، جائیدادیں اور شوگر ملیں ہیں۔
ذکر ہو قبضہ گروپوں کا تو میں اپنے نون غنوں کے گالم گلوچ گینگ کے دانیال عزیز کو کس طرح فراموش کر سکتا ہوں جس نے پچھلے18سال سے سرگودھا کی تحصیل سلانوالی میں 2600کینال سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ پچھلے روز قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اتنا بڑا رقبہ دانیا عزیز اور اس کے حواریوں کے قبضے سے آزاد کر الیا ہے۔
قبضہ گردی جہاں قانون شکنی کی مظہر ہے وہاں اس قبیح جرم سے ایک قوم کا تہذیبی تشخص بھی بری طرح مجروح ہوتا ہے کس قدر ستم ظریری کی بات ہے کہ اس گھناو¿نے جرم کے سرپرستوں میں ہمارا حکمران طبقہ بھی بوجوہ شامل ہے ۔ یہ اسی گٹھ جوڑ کا مکروہ نتیجہ ہے کہ آج میرے سوہنے دیس پاکستان کا قابل لحاظ حصہ قبضہ گروپوں کے ناجائز تصرف میں ہے۔ کون ہے جو اس ناجائز قبضے کو توڑے گا۔

Scroll To Top