وزیر اعظم ہاوسنگ اتھارٹی کے قیام کا اعلان خوش آئند

  • پاکستان تحریک انصاف اپنے انتخابی منشور پر عمل درآمد میں تیزی دکھانے کے لیے کوشاں
  • پاکستان میں تقریبا 10ملیں گھروں کی قلت کا سامنا ہے۔عالمی ادارے تشویش کا اظہار کرچکے
  • عمران خان نے پھر قوم کو یقین دلایا ہے کہ موجود ہ حالات پر جلد قابو پاکر سرخرو ہوں گے
  • آنے والے دنوں میں اپوزیشن جماعتیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر دباو میں اضافہ کرسکتی ہیں

 

zaheer-babar-logoرواں سال عالمی بنک کی جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان کو 10ملین گھروںکی قلت کا سامنا ہے۔ یعنی پاکستان میںایک کمرے میں اوسط 3سے 5 افراد رہائش پذیر ہیں۔ عالمی بنک کے مطابق پاکستان میں گھروںکی تعمیر کے لیے فراہم کردہ قرضوں کی شرح خطے کے دیگر ممالک کی نسبت کم ہے۔ عالمی بنک نے تجویز بھی پیش کی تھی کہ پاکستان میں گھروںکی قلت پر قابو پانے کے لیے آسان شرائط پر قرض دیے جائیں تاکہ اس مسلہ پر قابو پانے میں مدد مل سکے ۔ اس پس منظر میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پارٹی منشور کے مطابق وزیر اعظم ہاوسنگ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اس منصوبے کی نگرانی خود کریں گے۔ وزیر اعظم کے بعقول کم آمدنی والے افراد کو یہ گھر دئیے جائیں گے اور اس کے لیے نادرہ سے مدد لی جائیگی ۔ عمران خان کا یہ بھی کہا کہ جاری معاشی صورت حال سے گھرانے کی ضرورت نہیں موجودہ حالات سے ملک کو جلد نکال لیا جائیگا۔
وطن عزیز میںکروڈوں شہری بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ ایک طرف انھیںروٹی ، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات دسیتاب نہیں تو دوسری جانب اپنے گھر کاحصول ان کے لیے مشکل تر ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو بہرکیف اس کا کریڈٹ دینا چاہے کہ انتخابی منشور میں جن پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ کیاگیا اسے عملی جامہ پہنانے کے منصوبے پرکام کا آغاز کردیا گیا۔ وطن عزیز کی جمہوری تاریخ میں یہ خوشگوار احساسات ظاہر ہورہے کہ اب سیاسی جماعتیں عوام سے کیے گے وعدوں کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف پہلی بار وفاق کی سطح پر حکومت بنانے میںکامیاب ہوئی ۔آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پی ٹی آئی برسرا قتدار ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں گیس ، بجلی اور پیڑویم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافے کے نتیجے میں عوام میں بے چینی محسوس کی جارہی چنانچہ یہی وجہ ہے کہ عمران خان پورے عزم کے ساتھ یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ حالات جلد بہتر ہونگے جس کے بعد عوام خود تبدیلی محسوس کرسکیں گے۔
گذشتہ دس سالوں میں پی پی پی اور پی ایم ایل این نے جس قسم کا طرزحکمرانی متعارف کروایا اس کے نتیجے میں اہل پاکستان کا مایوس ہونا سمجھ میں آنے والی بات ہے ۔سابق صدر پرویز مشرف کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد دونوں جماعتوں نے عوامی مسائل حل کرنے میں جو لاپرواہی برتی ہے اسے ملک وملت کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ مثلا دس سالوں میں پی ایم ایل این اور پی پی پی ایک بھی ڈیم نہ بناسکیں۔ اس عرصہ میں آبی زخائر تو دور کی بات عام لوگوں میں پانی کا ضیاع روکنے کے حوالے سے بھی شعور بیدار کرنے کی زحمت نہیںکی گی۔
ہماری سیاست قیادت تاحال یہ سمجھ نہیں پائی کہ ڈنگ ٹپاو اقدمات مستقل حل کا نم البدل نہیں ہوسکتے۔ عصر حاضر کی ہر زمہ ریاست سالوں نہیں بلکہ دہائیوں پہلے نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ اقدمات اٹھانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جاتی مگر ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں۔ اہل اقتدار بڑے اور خوش نما وعدے تو کرتے ہیں مگر عملا اپنی زمہ داریوں ادا کرنے میںکامیاب نہیں ہوتے ۔ وطن عزیز میں حالیہ سالوں میں یہ مثبت تبدیلی رونما ہوئی کہ اب جمہوری حکومتیں اپنی مدت پوری کررہیں ۔ پی پی پی کے بعد پی ایم ایل این نے پانچ سال پورے کیے تو اب پی ٹی آئی برسر اقتدار ہے۔ مقام شکر ہے کہ ملکی جمہوریت میںکارکردگی کی اہمیت بڑھ چکی ، خوش نما وعدوں سے کہیں زیادہ اب عام پاکستانی منتخب حکومتوں سے اپنے مسائل کا حل چاہتا ہے ۔ یہ بات کھلے ودل دماغ سے تسلیم کرنی چاہے کہ سیاست میں عوامی خدمت کا مطالبہ جس بھرپور انداز میں عمران خان نے اٹھایا وہ کسی دوسری رہنما کے حصہ میں نہیں آیا ۔ بطور اپوزیشن لیڈر عمران خان اپنے جلسے جلوسوں میں برملا کہتے رہے کہ سرکاری وسائل صرف اور صرف عوام کی ملکیت ہیں لہذا انھیں کسی طور پر اہل اقتدار کی عیاشی کے لیے استمال نہیں ہونے چاہیں۔
آج پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن پاکستان تحریک انصاف پر کڑی تنقید کررہی اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ عمران خان نے حکمران کے لیے ایسا کڑا معیار مقرر کیا جس پر ان سے بھی پورا اترنے کا مطالبہ کیا جارہا۔ وزیر اعظم پاکستان کا یہ موقف غلط نہیں کہ آئینی طور پر پی ٹی آئی کو پانچ سال حکومت کے لیے ملے ہیںلہذا ناکامی اور کامیابی کا فیصلہ کرنے کے لیے ابھی مخالفین کو انتظار کرنا ہوگا۔ یقینا اپوزیشن جماعتوں کا حق ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کریں مگر اس کے لیے بہرکیف انھیں صبر کا دامن تھامے رکھنا ہوگا۔
عمران خان نے پھر یقین دہانی کروائی ہے کہ ملکی مسائل پر قابو پاکر ان وعدوں کو سچا کرکے دکھائیں گے جن کا وعدہ انھوںنے پاکستانیوں سے کررکھا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو 100دن ہونے میں زیادہ مدت نہیں رہ گی ۔خیال کیا جارہا ہے کہ عمران خان حکومت آنے والے دنوں میں اپنی سمت اس انداز میں واضح کردی گی جو اس کے انتخابی منشور پر عمل درآمد کے آغاز کی گواہی دے گی۔کسی کو نہیں بھولنا چاہے کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل اسی وقت ممکن ہے جب اخلاص اور مسقل مذاجی سے کوشیش جاری رکھی جائے۔

Scroll To Top