بات میڈیا کے جرنیلوں کی 26-02-2014

kal-ki-baat
پاکستان کے چینلز پر جتنے بھی ٹاک شوز آج کل ہورہے ہیں انہیں دیکھ کر یہ تاثر پیدا ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ ہمارے تمام اینکرپرسن اورتجزیہ کار عسکری آگہی اور مہارت میں جنرل رومیل ` جنرل منٹگمری اور جنرل گیاپ جیسے شہرہ ِ آفاق جرنیلوں کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ہر اینکر پرسن دوسرے اینکر پرسنز پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ماہرانہ مشورہ دینے کا کوئی نہ کوئی نیا نکتہ اٹھا لاتا ہے۔
یوںلگتا ہے کہ جو جنگ پہاڑوں میں غاروں میں خفیہ کمین گاہوں میں دشوار گزار راستوں پر اور پوشیدہ مورچوں اور غیر واضح شناخت رکھنے والے گوریلا ہتھیار کا روں کے خلاف لڑی جانی ہے ` وہ پہلے ہی ٹی وی سکرین پر لڑی جارہی ہے اور اس کے ممکنہ نتائج بھی کوئی رﺅف کلاسرا ` کوئی کاشف عباسی ` کوئی ارشد شریف اور کوئی کامران خان اسی انداز میں نشر کرناشروع کردے گا جس انداز میں تصدیق شدہ کاﺅنٹنگ سے پہلے ہی انتخابی نتائج نشر کردیئے جاتے ہیں۔
ہمارے میڈیا کے رویے کی وجہ سے ہماری فوج اور ہماری سیاسی قیادت کتنے بڑے دباﺅ میں ہوگی اس کا اندازہ لگانا ان لوگوں کے لئے مشکل نہیں ہوگا جو دباﺅ کا مطلب جانتے ہیں۔
ایک روایتی جنگ اور ایک گوریلا جنگ میں جو فرق ہوتا ہے اس کو ہمارے جنرل اور عسکری ماہرین ہماری سیاسی قیادت اور ہمارے اینکر پرسنز سے بدرجہا بہتر سمجھتے ہوں گے۔
کبھی کسی نے اس امر پر غور کرنا مناسب نہیں سمجھا ہوگا کہ دنیا کی عظیم ترین سپرپاور امریکہ نے 1960ءاور1970ءکی دہائی میں ویت نام میں ویت کانگ کے خلاف جنگ کیوں ہاری تھی۔ مجھے یہاں جنرل ویسٹ مورلینڈ کا ایک بیان یاد آتا ہے جو انہوں نے امریکی پسپائی کے آغاز میں دیا تھا۔
” ہم اوسطاً چار ہزار فضائی حملے روزانہ کرتے رہنے کے باوجود ویت کانگ کی سپلائی لائن تباہ نہ کرسکے۔ جنگ کے دوران کبھی کبھی میں یہ سوچے بغیر نہیں رہتا کہ کاش میرے ہمراہ صدر جانسن اور صدر نکسن ہوتے جنہوں نے دنیا کی بہترین فوج کے لئے یہ میدان جنگ منتخب کیا۔۔۔“
میری حقیر رائے یہ ہے کہ مجوزہ آپریشن کب اور کس انداز میں ہونا ہے اس کا فیصلہ جنرل راحیل شریف اور ان کے ساتھیوں پر چھوڑ دینا چاہئے۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں ہماری سیاسی قیادت کو چاہئے کہ اسے اپنی اونر شپ دیں۔ جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے ` اسے کسی نہ کسی کو اسی انداز میں شٹ اپ کال دینی ہوگی جس انداز میں شٹ اپ کال برطانوی میڈیا کو وزیراعظم چرچل نے جنگ عظیم دوم کے آغاز پر دی تھی !

Scroll To Top