اقتدار میں آنے کے لئے لیڈر کو سیاست کا سہارا لینا پڑتا ہے۔۔۔اور سیاست وہ کاروبار ہے جس میں سب سے زیادہ انویسٹمنٹ چور ` ڈاکو اور فراڈیئے کرتے ہیں۔۔۔

aaj-ki-baat-new

ایک رات سوچتے سوچتے یوں ہی میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ ” کہیں ایسا تو نہیں کہ ملک کے تمام بڑے چوروں اور ڈاکوﺅں نے سیاست کو بطور ایک پیشہ اختیار کرلیا ہو۔۔۔؟“
یہ خیال غیر ارادی طور پر آیا تھا۔ اب میں شعوری طور پر یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ سیاست ہمارے ملک کا سب سے منفعت بخش کا روبار یا پیشہ ہے۔ کہنے کو لوگ سیاست میں خدمت کے لئے آتے ہیں۔ مگر کیا خدمت کے لئے صرف سیاست باقی رہ گئی ہے؟ گھر میں ماں باپ کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ محلے میں پڑوسیوں کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ خاندان میں ضرورتمندوں کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ جہاں تک قوم کی خدمت کرنے کا تعلق ہے وہ ہمارے ادیب شاعر مفّکر مبلّغ اور سوشل ورکر بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔ یہ کون سی خدمت ہے کہ اس کے لئے کروڑوں کو داﺅ پر لگا کر الیکشن جیتا جاتا ہے۔؟ اورپھر خواہش مندانِ خدمت وہ سارے کام دھندے شروع کردیتے ہیں جو سیاستدانوں سے منسوب ہیں۔۔۔
ویسے یہ اصطلاح ۔۔۔ یعنی سیاست ۔ اب خدمت کے تعّفن سے کچھ ایسی بدبودار ہوچکی ہے کہ اس کے قریب سے گزرنے والوں کو ناک پر رومال تو رکھنا ہی پڑتا ہوگا۔
اگر سیاست خدمت گاروں کے لئے ہوتی تو عبدالستار ایدھی ایک بڑے سیاست دان ہوتے۔ آپ قائداعظمؒ کا نام یہاں مت لیجئے گا۔ وہ پاکستان بنانے آئے تھے۔ اور بنا کر چلے گئے جیسے ا سٹیفنسن انجن بنانے آئے تھے اور انجن بنا کر چلے گئے۔۔۔
ہاں لیڈر بننا اور بات ہے۔۔۔
اور لیڈر پیدا ہوا کرتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے پیغمبر پیدا ہوا کرتے ہیں۔ پیغمبر عظیم ہوتے ہیں کہ ان کا رابطہ براہ راست خدا سے ہوتا ہے۔ لیڈروں کے سامنے صرف ایک سوچ ہوتی ہے جس کو وہ ایک ” وژن“ کا روپ دے کر اس کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ یہ پرستش انہیں کبھی جناحؒ ` کبھی ناصر ` کبھی ماﺅ ` کبھی لینن ` کبھی ہٹلر ` کبھی خمینی تو کبھی اقبالؒ بنادیتی ہے۔۔۔
لیڈر بنیادی طور پر سیاست دان نہیں ہوا کرتے ۔ لیڈری اور سیاست کا جب بھی ملاپ ہوتا ہے لیڈری بھی سیاست کے تعّفن سے نہیں بچ پاتی ۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے لئے لیڈر کو سیاست کا سہارا لینا پڑتا ہے۔۔۔ اور سیاست وہ کاروبار ہے جس میں سب سے زیادہ انوسٹمنٹ چور ڈاکو اوراورفراڈئیے کرتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top