منی لانڈرنگ کیس:انور مجید کے اومنی گروپ کے دفتر پر چھاپہ ،اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا

  • جے آئی ٹی نے جعلی اور بے نامی بینک اکاو¿نٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے شواہد سامنے آنے پرکارروائی کی

سپریم کورٹ

کراچی(آن لائن) سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے جعلی اور بے نامی بینک اکاو¿نٹس کے ذریعے اربوں روپے منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں پیشرفت کے بعد گرفتار ملزم انور مجید کے اومنی گروپ کے کراچی میں قائم دفتر پر چھاپہ مار کر اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا، بے نامی اکاو¿نٹس میں منی ٹریل کے نئے شواہد سامنے آنے پرکارروائی کی گئی۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے اومنی گروپ کے چیف فنانس افسر اسلم مسعود اور اکاو¿نٹنٹ عارف خان کے کمروں کی تلاشی لی اور ان کے کمپیوٹر اور کمروں میں موجود اہم دستاویزات ضبط کر لیں۔ قبضے میں لیے گئے ریکارڈ کی فرانزک جانچ نئے مقدمات قائم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ ایف آئی اے سائبر کرائم اور اسٹیٹ بینک سرکل کے افسران پر مشتمل ٹیم نے دفتر سے ریکارڈ قبضے میں لیا۔ رینجرز کی بھاری نفری نے سیکیورٹی فراہم کی۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی ہدایت پر بننے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے نئے شواہد سامنے آنے پر اومنی گروپ کے کراچی میں ہاکی اسٹیڈیم کے قریب قائم دفتر پر چھاپہ مار کر کمپیوٹر اور بعض دستاویزات ضبط کی ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ اومنی گروپ کے ملک بھر میں قائم ہونے والے دفاتر میں یہ پہلا دفتر ہے جہاں سے انویسٹمنٹ کمپنی کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اس دفتر کو اومنی گروپ کے اکاو¿نٹنٹ سطح کے افسران چلاتے تھے جن کے نام سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی نے اپنی آخری رپورٹ میں دیئے تھے۔ ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ 29 بینک اکاو¿نٹس سے شروع ہونے والی تحقیقات میں 3 سو سے زائد نئے اکاو¿نٹس سامنے آئے ہیں اور ان افراد کو جے آئی ٹی کے توسط سے ایف آئی اے حکام مختلف دنوں میں نوٹسز کے ذریعے طلب کر رہے ہیں۔اس ضمن میں لانڈرنگ میں ملوث اومنی گروپ کے وکیل محمد جمشید کا کہنا تھا کہ ‘ہاکی اسٹیڈیم کے قریب قائم اومنی گروپ کے دفاتر میں چھاپہ مارا گیا’۔ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عہدیداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر دفتر کے گارڈز کو باہر نکال دیا اور بغیر سرچ وارنٹ کے اندر گھس آئے۔وکیل محمد جمشید کا کہنا تھا کہ ’اہلکاروں نے دفتر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا رابطہ بھی منقطع کردیا‘۔تاہم وکیل کی جانب سے سیکیورٹی کیمرے کی چند تصاویر بھی فراہم کی گئیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آدھی رات کے وقت سادہ لباس میں چند غیر مسلح افراد دفتر میں داخل ہو رہے ہیں۔وکیل نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اہلکاروں کی جانب سے چھاپہ مار کارروائی کی گئی اور دعویٰ کیا کہ یہ’کارروائی شواہد پلانٹ کرنے’ کے لیے بھی ہوسکتی ہے۔انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ ‘اومنی گروپ کے خلاف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو کوئی شواہد نہ ملنے پر حکام غصے کا شکار ہیں اسی لیے انہوں نے آدھی رات کو ہمارے دفاتر میں چھاپہ مارا ہے’۔اومنی گروپ کی جانب سے اس واقعے پر پولیس میں شکایت درج کرانے کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں پولیس کو شامل کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’جن معاملات میں ایف آئی اے ملوث ہو ان معاملات میں پولیس مداخلت نہیں کرتی‘۔واضح رہے کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی خواجہ انور مجید اور عبدالغنی مجید، اومنی گروپ کے 35 ارب روپے کے جعلی اکاو¿نٹ کیس میں ملزم نامزد ہیں۔ملزمان کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں ٹرائل کا سامنا ہے جس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کر رہا ہے۔

Scroll To Top