افغان پارلیمانیانتخابات پر مذید خون خرابہ ہوسکتا ہے

  • امریکہ اور طالبان دونوں ہی اپنے اپنے موقف میں لچک دکھانے کو تیار دکھائی نہیں دیتے
  • آج یہ فلسفہ دم توڈ رہا کہ پاکستان میں امن کا راستہ افغانستان سے ہوکر آتا ہے
  • افغانستان میں مسلسل بدامنی پاکستان ہی نہیںخطے کے دیگر ممالک پر بھی اثر انداز ہورہی
  • پاک افغان سرحد پر باڈ لگانے کا پاک فوج کا فیصلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ درست ثابت ہورہا

zaheer-babar-logo
افغانستان میں پارلمیانی انتخاب کے موقعہ پر دہشت گرد کاروائیوں کے خطرات سچ ثابت ہورہے ۔ دہشت گردی کی تازہ کاروائی میں امیدوار سمیت آٹھ افراد زندگی کی بازی ہار گے ۔خود کش حملہ آور نے افغانستان کے شہر لشکر گاہ میں صالح محمد آسکزئی کی انتخابی مہم میں خود کو دھماکہ سے اڑلیا۔ صالح محمد آسکزئی نے انتخابات میں پہلی بار حصہ لیا تھا اور انھوں نے” مثبت تبدیلی“ کا نعرہ لگایا تھا۔ یاد رہے کہ ایک دن قبل ہی طالبان نے انتخابی عمل کو بوگس قرار دیا ۔ گزرے ماہ وسال کی طرح ایک بار پھر افغانستان میں یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا کہ موجود حالات میں کس حد تک انتخابات کا انعقاد ہونا چاہے تھا ۔ یہ بھی پوچھا جارہا کہ اب تک اشرف غنی حکومت نے قیام امن کی کوشش کہا تک کامیاب ہوئی ۔ ادھر افغان طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد یہ بھی اعلان کرچکے کہ وہ انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دینگے ۔ یہ بھی اہم ہے کہ طالبان نے ان انتخابات کو امریکی سازش قرار د ے کر عوام سے ان انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرچکے ۔
دہشت گردی کی تازہ کاروائی اور اس کے نتیجے میں معصوم اور نہتے شہریوں کا جانی نقصان بتا رہا کہ آنے والے دنوں میں افغانستان کا کیا ہولناک منظر ہوسکتا ہے۔بدقسمتی کے ساتھ پڑوسی ملک میں قیام امن کا خواب تاحال شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا۔ایک طرف متشدد گروہ ہے جس کسی طور پر اپنے مطالبات میںلچک پید ا کرنے کو تیار نہٰیں تو دوسری جانب امریکہ مسقبل قریب میں جنگ سے تباہ حال ملک سے جانے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آرہا۔
افغانستان میںمسلسل جاری رہنے والی بدامنی نے پڑوسی ملکوں پر بھی منفی اثرات مرتب کررہی۔ خطے میں موجود ملک چاہے طالبان جنگجووں کے حامی ہوں یا مخالف بہرکیف متاثر ہورہے ۔ اس سوال کاجواب دینا آسان نہیں کہ آنے والے سالوں میں افغان مسلہ کا حل کیا ہوگا ۔ اب تو طالبان کے بعد داعش کے مسلح جتھے بھی پڑوسی ملک کے مختلف علاقوں میں اپنی حاکمیت قائم کرتے نظر آرہے۔ طالبا ن اور دولت اسلامیہ کے کارندے جہاں ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں وہی ان کا ہدف اففان حکومت اورعوام ہیں۔ دولت اسلامیہ کی موجودگی افغان سرزمین پر کس طرح پھل پھول رہی بلاشبہ اس پر ایک سے زائد آراءموجود ہیں۔ افغان جنگ کا المیہ یہ ہے کہ تاحال اس کے ختم ہونے کا امکان نہیں شائد یہی سبب ہے کہ ایک طرف امریکہ اور طالبان اپنی اپنی پالیسوں پر کاربند ہیںتو اس کے ساتھ خطے کے دیگر ممالک بھی اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے خاص حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی حد تک یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ افغان جنگ میں نقصان اٹھانے والوں میں نمایاں ہے۔ روس کے کابل پر حملے سے لے کر اب تک پاکستان کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ سابق صدر ضیاءالحق نے جو پالیسی اختیار کی ثابت ہورہا وہ سراسر نقصان دہ تھی۔افغان عوام کے لیے پاکستان کی قربانیوں کا شمار ممکن نہیں مگر آج کے افغانستان کے کئی شہروں میں پاکستان کو دوست نہیں دشمن سمجھا جاتا ہے۔ یقینا اسے امریکہ اور بھارت کی سفارتی کامیابی کہنا چاہے کہ افغانوں کو پاکستان سے بڑی حدتک متنفر کردیا گیا ۔ یعنی اب تک کابل میں براجمان ہونے والی ہر حکومت نے یہ تاثر دیا کہ حالات کی خرابی کے زمہ دار وہ نہیں پاکستان ہے۔
مقام شکر ہے کہ پاکستان نے افغانستان سے فاصلہ رکھنا شروع کردیا۔ اب وہ فلسفہ بڑی حد تک د م توڈ چکا کہ پاکستان کا امن افغانستان سے ہوکر آتا ہے۔ پاک افغان سرحد پر باڈ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے جس کے بہرکیف مثب اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان کا یہ موقف سچ ثابت ہوا کہ سرحدوں کے غیر محفوظ ہونے سے افغانستان نہیں پاکستان کو نقصان ہوا۔عصر حاضر میں اقوام عالم کے تعلقات میں تیزی سے تبدیلی آرہی مگر جو چیز نہیں بدلی کہ وہ ریاستوں کا مفاد ہے۔ ماضی کی طرح آج بھی کراہ ارض کا ہر ملک اپنے اور صرف اپنے مفادات کو اولیت دینے کے لیے کوشاں ہے۔ افغانستان کے معاملے میں بھی یہی ہورہا ۔ نائن الیون کے بعد کے افغانستان میں ایک طرف طالبان ہیں تو دوسری جانب امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیں موجود ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ ہر کوئی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے جس میں نقصان افغان عوام کے حصہ میں آرہا۔
پاکستان پر الزام تراشی کرنے والے امریکہ اور بھارت کو سمجھ لینا چاہے کہ افغانستان میں امن وامان کی بہتری کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوسکتا ہے ۔ ورلڈٹریڈ سنیٹر میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد پاکستان میں ایک ہی نہیں درجنوں ایسے متشدد گروہ نمودار ہوئے جن کا مقصد ارض وطن کو آگ وخون میں نہلانا تھا۔ خبیر تا کراچی پاکستان میں کم وبیش ستر ہزار افراد شہادت کے منصب پر فائز ہوئے جس میں ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں سمیت سیکورٹی فورسز کے افسران اور جوان کی بڑی تعداد شامل ہے۔ افسوس کہ پاکستان اپنا مقدمہ بھرپور انداز میںپیش نہیں کرسکا۔ اقوام عالم کو یہ باور کروانے میں ہم کامیاب نہیں ہوئے کہ ضرب عضب اور ردالفساد جیسی سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں پاکستان ہی نہیں خطے میں حالات بہتر بنانے میںمعاون ثابت ہوئیں۔ امکان ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہیگا اس کی ایک وجہ یہ کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان افغان طالبان کو اپنا گرو کہتے ہیں چنانچہ افغان صورت حال ماضی کی طرح آج بھی پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

Scroll To Top