کیا وہ منفی پروپیگنڈے کے قیدی بن چکے ہیں؟ 100نہیں1825دن تاریخ بننے کے منتظر ہیں

  • تدبر، تفکر اور تعقل کے عمل میں گندھی پالیسی، کامیابی یقینی!
  • حقیقت اپنی جگہ مگر تصور(PERCEPTION) کی جادوگری مسلمہ،
  • ”خلائی مخلوق“ کی بجائے اب عمران اور نیب نون غنون کے نشانے پرہوں گے
  • چومکھی لڑائی، پیش آمدہ ضمنی انتخابات اور حکومتی اسلحہ خانے کا سازوسامان، احتیاط بہت احتیاط
  • حکومت حکم سے زیادہ حکمت کا نام ہے، مہنگائی آور فیصلے مﺅخر بھی ہو سکتے تھے۔

gulzar-afaqi
جناب خان
سہج سبھاو¿سو پھل میٹھا
100دن؟
کس نے کہا۔
نہیں جناب والا پورے1825دن۔ جی ہاں اتنے دنوں کے پورے5سال ہوتے ہیں جو آپ کے آئینی و قانونی اقتدار کی مدت ہے، دورانیہ ہے۔ آپ خاطر جمع رکھئے اور کسی عجلت اور شتابی کے بغیر تحمل کے ساتھ تفکر ، تدبر اور تعقل کے عمل کے ذریعے اپنے منشور کی روشنی میں پالیسیاں وضع کیجئے پھر ان پالیسیوں پر عمل داری کی غرض سے دستیاب وسائل کی روشنی میں حکمت عملی تشکیل دیجئے۔ اللہ رحیم وکریم آپ کا حامی وناصر ہے۔ اس کے رحم و کرم سے آخری کامیابی آپ ہی کا نصیبہ ہے۔ نوشتہ دیوار بھی یہی ہے۔
مخالفین خود کتنا ہی سر پیٹ لیں اور آسمان سر پر اٹھا لیں آپ اس قوم کی حقیقی آزادی یعنی کرپشن اور ظلم پر مبنی موجودہ نظام سے آزادی کی جو منزل متعین کر چکے ہیں۔ اس کی جانب درست راستے پر چلتے ہوئے بڑھتے چلے جائیے۔
یاد کیجئے22سال پہلے لاہو میں لب نہر زماں پارک میں اپنے گھر سے تن تنہا ہی پی ٹی آئی کا علم لے کر نکلے تھے اور یہ حقیقت پیشانی¿ وقت پر جھومر کی طرح ثبت ہو چکی ہے
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
راہ رو ملتے گئے اور کاررواں بنتا گیااور آج عالم یہ ہے کہ تمام تر نشیب و فراز کے باوجود آپ خالصتاً اللہ پاک کی رحمت اپنی جہد مسلسل اور فقا کی مصاحبت کے باعث دنیا کی ساتویں جوہری قوت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔
ساری دنیا اور اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ آپ اپنی بائیس سالہ جدوجہد کے جوہر یعنی کرپشن فری پاکستان کے داعی و حامی ہیں اور اب اقتدار و اختیار کی مسند پر بیٹھ کر آپ جلد از جلد، شتابی کے ساتھ اپنے خوابوں کی تعبیر چاہتے ہیں۔اور آپ کی اس خواہش آرزو اور نصب العین کو حریف قوتیں آپ کی کمزوری بناتے ہوئے آپ کو ایک سودن والے ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑا رہی ہیں۔ نتیجہ، آپ کو اپنے اکثر معاملات اور ترجیحات عجلت میں وضع کرنا پڑتے ہیں۔ مناسب تدبر، تفکر اور تعقل کے عمل سے گزارے بغیر ایسے فیصلوں سے بسا اوقات مرا جعت کرنا پڑتی ہے۔ جس سے مخالفین کو آپ کی بھد اڑانے کی تاویل میسر آجاتی ہے اور سچی بات ہے اس سے آپ کے ووٹرز سپورٹرز پر بھی اچھا اور مثبت اثر مرتب نہیں ہوتا۔
یہاں میں حال ہی میں مختلف یوٹیلٹی سروسز کی قیمتوں میں اضافے کے طریق کار کی نشاندہی کرنا چاہوں گا۔ گیس، بجلی، پٹرول اور ڈیزل ہی کو لیجئے بعد میں ہم ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا ذکر ہوگا۔ آپ واقعات ترتیب ملاحظہ کر لیجئے ابھی گیس اور بجلی کے ٹیرف میں اضافے کا کوئی فیصلہ بھی نہ ہوا تھا مگر ہمارے وزیر مشیربالواسطہ اور بلاواسطہ اسلوب میں ان سروسز کی قیمتوں میں اضافے کا ہوا کھڑا کر کے عوام میں خوف وہراس پیدا کرنے کے ذمہ دار بنتے رہے۔ تسلیم کہ خزانہ خالی ہے اور یہ بھی کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان موجود ہے مگر یہ بھی تو حقیقت ہے ناں کہ ہماری بیشتر سپلائیاں دو تین مہینے کے کریڈٹ پر آتی ہیں یعنی ادھار پر۔ اب اگر ہمیں مال ادھار پر مل رہا ہے اور فوری ادائیگیوں کے لئے ہم پر کوئی دباو¿ بھی نہیں توہم مصلحت کے تحت گیس بجلی وغیرہ کے ٹیرف اور نرخوں میں فوری اضافے کی بجائے اسے مﺅخر بھی کر سکتے تھے۔ تا کہ آپ کی حکومت کو کسی بھی درجے کی مخالفانہ آندھی کے بغیر یکسوئی سے اپنی ترجیحات اور حکمت عملی متعین کرنے کا موقع میسر آجاتا۔یاد رہنا چاہیے کہ حکومت حکم سے زیادہ حکمت کا تقاضہ کرتی ہے۔
وائے افسوس ایسا نہیں ہوا۔ آپ اپنی حریفوں اور اپوزیشن جماعتوں کے سودن کے پروپیگنڈے کے یرغمالی بن گئے اور1825دنوں کی طویل مہلت کہیں دور پس پشت چلی گئی۔ ظاہری بات ہے کہاں 1825دن اور کہاں100دن۔ گویاں 18گنا تناسب کا فرق۔ ظاہری بات ہے جب آپ طے شدہ رفتار کے بجائے 18گنا زیادہ رفتار سے گاڑی بھگائیں گے تو غلطیاں اور حادثات کا خدشتہ تو بڑھے گا۔ اور یہاں تو معاملہ خدشات سے زیادہ ان کے رونما ہونے کا ہے۔ جن کے باعث آج محض گیس کے حوالے سے بڑھی ہوئی قیمتوں نے گھر گھر ایک ہجان اور نتیجہً احتجاج کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔ بازار میں دس روپے والی تندوری روٹی کی قیمت میں کہیں کم اور کہیں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔جب کہی حقیقت یہ ہے کہ ابھی اضافی شدہ قیمت کے بل کافی دنوں بعد صارفین تک پہنچیں گے مگر ہمارے ناجائز منافع خور عناصر ایسے موقعوں کو اپنی ناجائز نفع (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر52
خوری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔تصور( PECEPTION) سے ہمیشہ زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں بطور خاص نون غنوں کو تو ایسے مواقع اللہ دے ۔ چنانچہ نون لیگ کے زیر اثر یونین کونسل کے عہدیدار اپنی آبادیوں اور محلوں میں پی ٹی آئی مخالف مہم جوئی میں جت گئے ہیں۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ تحریک انصاف کے صدر حلقوں اور بطور خاص خواتین اس مخالفانہ زہر یلے پروپیگنڈے سے بہت متاثر ہو رہی ہیں۔اور حکومت کے خلاف ہر کوئی دن میں ایک سے زائد بار تبصرہ آرائی ضرور کرتا ہے مثلاً تندور پر مہنگی روٹی خریدتے ہوئے، بیکری سامان لیتے وقت ، رکشے ، چنگچی کی سواری کے دوران اور پرچون سامان کی خریداری کرتے ہوئے، بڑھی ہوئی قیمتیںدر حقیقت ایک وائرس کی طرح نئی نویلی انصافی وعمرانی حکومت کی ساکھ کو مسخ کرنے میں پیش پیش ہیں۔
پچھلے روز پیپلز پارٹی ، نون لیگ ، اے این پی اور جمعیت وغیرہ کے وابستگان بالمشافہ اور بذریعہ ٹیلی فون اینٹی عمران تحریک پر تیل چھڑکنے کی تدابیر پر غور کرتے رہے نون لیگ نے پچھلے روز جاتی عمرہ میں اپنی سنٹر ل ایگزیکٹو کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد کیا ہے جس کی صدارت نا اہل اور مجرم سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کی۔ جو سراسر خلاف ضابطہ و قانون ہے۔ کوئی جائے اور الیکشن کمیشن کی توجہ اصول پرستی کی دعویدار اس پارٹی کی مذکورہ واردات کی طرف مبذول کرائے۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ کل جس وقت رانا ثناءاللہ میڈیا کے روبرو بڑے طنطنے سے دعویٰ کر رہے تھے کہ کوئی کر لے جو کرنا ہے مسلم لیگ کی سی ای سی میٹنگ کی صدارت تو ان کے قائد میاں نواز شریف نے کی ہے تو برابر کھڑی مریم اورنگزیب ترت لقمہ دینے لگیں کہ ”نہیں کی“ نہیں کی۔ نہیں کی۔ مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اب الیکشن کمیشن جانے اور مسلم لیگ نون والے بھگتیں اس واردات کے نتائج کو
برے تنائج کی دھمکیاں تو سابق میٹر شاہ اور حال ارب پتی جیالا خورشید شاہ بھی بہت دے رہا ہے اور اس بار وہ براہ راست ذاتیات پر اتر آیا ہے۔ عمران خان کا نام لے کر اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کم و بیش چیختے ہوئے کہا کہ تم باز آجاو¿ ہوش کے ناخن لو، لڑائی بند کرو ورنہ مٹ جاو¿ گے، وغیرہ وغیرہ
خورشید شاہ جب عمران کو لڑائی بند کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو دراصل وہ بین السطور خان کو یہ پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ اس کے داماد اور بیٹے سمیت اس پر لوٹ کھسوت کے جو مقدمات نیب میں پڑے ہیں انہیں بند کراو¿۔ ورنہ مٹا دیئے جاو¿ گے۔ اب دھوپ میں بال سفید کرنے والے خورشید شاہ کو کون بتائے کہ بابا نیب کا بھلا عمران خان کے ساتھ کیا لینا دینا یہ ایک خود مختار ادارہ ہے۔ باقی رہی عمران خان کو مٹا دینے کی دھمکی تو وہ کب ایسی دھمکیوں کو خاطر میں لانے والا ہے۔
اور تازہ ترین خبر آج ہی نون لیگ نے اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی گن سُن دی ہے جس کے مطابق آئندہ نون غنے ”خلائی مخلوق“ کی مخالفت ترک کر دیں گے اور اس کی بجائے عمران خان کی ذات، نیب اور حالیہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی کو ہدف تنقید بنائیں گے ان کی کوشش ہے کہ اپنی اس عمران مخالف کمپین کو 14اکتوبر کے ضمنی انتخابات میں کیش کروائیں ۔
جناب عمران خان ہشیار باش ، آپ نے خود کو ایک چو مکھی لڑائی کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ کیا آپ کے اسلحہ خانے میں وہ سب کچھ ہے جو آپ کو اس معرکے میں سرخرو کر دے۔ اور آپ کا سب سے بڑ ہتھیار ہے آپ کا دیانت امانت اور اصابت پر مبنی اجلا کردار اور افتادگان خاک کی تائید وحمایت۔ اللہ کرے کہ آپ اس امتحان میں کامیاب ہوں۔ آپ کی کامیابی ہینئے پاکستان کی امین ہوگی۔

Scroll To Top