پاکستان اور جرم ایک ساتھ نہیں چل سکتے ! 25-02-2014

kal-ki-baat
اپنے ذہن پر زور دے کر یاد کریں کہ وطنِ عزیز کے اس ” قومی رہنما “ کا نام کیا تھا جس نے اپنی بھارت یاترا کے دوران کہا تھا کہ ” تقسیم ہند “ بہت بڑی غلطی تھی جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ایسے معاملات میں اکثر لوگوں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ چند برس قبل کی یہ بات بہت سارے لوگوں کے ذہن سے نکل گئی ہو۔
چنانچہ ہم زیادہ پیچھے نہیں جاتے اسی ” قومی رہنما “ کے گزشتہ چند ہفتوں کے گرما گرم بیانات آپ کو یاد دلاتے ہیں۔ ایک موقع پر موصوف نے فرمایا: ” رینجرز اور پولیس ہمارے” معصوم“ کارکنوں کی پکڑ دھکڑ بند کریں۔ ہمارے جو کارکن غائب کئے گئے ہیں ان کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔ ورنہ ہم خوفناک نتائج کے ذمہ دار نہیں ہوںگئے۔“
دوسرے موقع پر موصوف نے اہل پاکستان کو متنبہ کیا کہ اگر مہاجر قوم پر ظلم وستم ڈھانے کا سلسلہ ختم نہ کیا گیا تو پھر وہ ہمارے قابو میں نہیں رہے گی اور بات الگ ہوجانے تک جاپہنچے گی۔
اگر آپ کو یہ بیانات یاد ہیں تو یہ بھی یاد ہوگا کہ متذکرہ قومی رہنما کی برہمی کس بات پر تھی۔ کراچی میں جو آپریشن جاری ہے اس کی زد میں آنے والے ملزموں اور مجرموں میں بہت بڑی تعداد موصوف کی جماعت کے ” عسکری بازو “ سے ہے جس نے ” بھتہ خوری “ اور ایسے دوسرے جرائم کو انڈسٹری کا درجہ دیا ہے۔
اگر اِن بیانات اور حالات کو سامنے رکھا جائے تو موصوف کا یہ اعلان بڑا خوش آئند ہے کہ ان کی جماعت دہشت گردوں کے خلاف ” محب وطن“ فوج کی ہر کارروائی کا ساتھ دے گی اور ضرورت پڑنے پر ایک لاکھ رضا کار بھی فراہم کرے گی۔ یقینی طور پر یہ رضا کار مسلّح بھی ہوں گے کیوں کہ یہ تاثر عام ہے کہ موصوف کی جماعت نے اسلحے کے انبار جمع کررکھے ہیں۔ یاد آیا کہ موصوف نے ایک ولولہ انگیز بیان یہ بھی دیا ہے کہ پاکستان اور طالبان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ وہ کہتے۔
’ ’جو لوگ بھی دہشت گردی ` قانون شکنی اور کرائم انڈسٹری سے منسلک ہیں ان کے لئے پاکستان کی سرزمین تنگ کردی جائے گی۔ پاکستان اور جرم ایک ساتھ نہیں چل سکتے!“

Scroll To Top