اقتدار نہیں اقدار کا قدر دان حکمران

  • اس مصلحت کی بجائے حقیقت کو اہمیت دی اور سیاسی مفاد پس پشت ڈال دیا
  •  پارلیمانی اداروں میں وفاداریوں کے بنتے مٹتے دائرے، اصل معاملہ کیا ہے
  • ان کا لوگوں سے وعدہ ہے کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا
  • مثالیت پسندی کے ساتھ عملیت پسندی کا تڑکا کہیں مہنگا نہ پڑ جائے
  • حکومت ہشیار باش! سارے لوٹ کھسوٹ مافیاز کا بھان متی کنبہ اکٹھاہو رہا ہے
  • ایک سٹیٹسمین کا اپنے عوام سے پیمان بھی جدا اور پیمانہ بھی۔

gulzar-afaqi
شہر لاہور، وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان کی پہلی پریس کانفرنس انہوں نے اس موقع پر جو کچھ کہا، جو لب ولہجہ اختیار کیا۔ اس پر بہت لے دے ہوگی، اس کی حمائت و مخالفت میں بہت کچھ لکھا پڑھا اور بولا جائے گا۔
وجہ؟ عمران خان اپنی حکومت کی نہیں بلکہ اپنی نسل اور اپنے عہد کی فکر کرتا ہے۔اقتدار کی بجائے اقدار کی قدر اس کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اپنے لوگوں سے عمران خان کا پیمانہ مختلف ہے اور پیمانہ جدا۔
14۔ اکتوبر کی گھڑی سر پر کھڑی۔
اس کے سامنے دو آپشنز دو راستے کھلے تھے۔ ایک مصلحت کا دوسرا حقیقت کا۔ وہ پہلا راستہ اختیار کرتا اور مصلحت کے تحت ناگزیر مگر نامقبول فیصلے کچھ روز کے لئے ٹال سکتا تھا۔ تا کہ پیش آمدہ ضمنی انتخابات میں انہتائی ناگزیر کا میابی یقینی ہو جاتی کہ پارلیمانی طرز حکومت میں وہ اور اس کی حکومت نمبر گیم کے حوالے سے بہت مفلسی میں مبتلا ہے۔
اس نے مگر اس ضرورت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ناگزیر مگر نا مقبول فیصلے کر ڈالے ملک بھر میں تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن کلین اپ اور گیس، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ان میں نمایا ہے اسے یہ سب کچھ اس لئے کرنا پڑا کہ جانے والی نونی حکومت ملک کو تاریخ کے سب سے زیادہ حجم والے قرضوں کے عذاب میں جھونک گئی ہے۔ ملکی معیشت انتہائی ناگفتہ بہ صورت حال کو چھو رہی ہے۔
غیر معمولی زبوں حال معیشت کی حقیقت سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ البتہ اس حقیقت کو بھی یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سیاست میں ٹائمنگ کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ملک بھر میں ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیاز کے خلاف آپریشن اور مختلف یوٹیلٹی سروسز کی قیمتوں میں اضافے کو چند دن کے لئے موخر بھی کیا جا سکتا تھا۔ کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کے غیر مقبول فیصلوں کے نتیجے میں آپ کی مقبولیت کا گراف نیچے بھی گر سکتا ہے جس کی بھارتی قیمت 14۔ اکتوبر کے ضمنی انتخابات میں کسی نہ کسی درجے کی شکست کی صورت میں چکانی پڑسکتی ہے۔
بہت ممکن ہے میری اس بات کو منافقت سے تعبیر کیا جائے۔ مگر میرا استدلال یہ ہے کہ ملک میں حقیقی تبدیلی، جو درحقیقت عمران خان صاحب کا بنیادی ایجنڈا ، مشن اور ہدف ہے، کے لئے عمران خان کا سیاسی منظر اور خاص طور پر اقتدار و اختیار کے مقام و منصب پر موجود رہنا بہت ضروری ہے۔ فی الوقت حقیقت یہ ہے کہ پارلیمانی اداروں اور بطور خاص قومی اسمبلی میں عددی قوت کے اعتبار سے ان کی برتری اپنے اتحادیوں کی حمایت کے باوصف درجن بھر سے زیادہ نہیں۔ ارکان اسمبلی کی روش میں بھی ان دنوں اتار چڑھاو¿ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس بات کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ خان صاحب کی مثالیت پسندی کے ساتھ عملیت پسندی کا جو تڑکا لگایا گیا ہے اس کے نتیجے میں پارٹی کی منصوبوں میں ایسے عناصر کافی تعداد میں داخل ہو چکے ہیں جو ہمارے معاشرے کے مختلف مافیاز سے بالواسطہ یا بلا واسطہ رشتہ و تعلق رکھتے ہیں اور سماجی تطہیر کی موجود ہ مہم میں ان کے مفادات کی عمارات زمین بوس ہو رہی ہیں۔ چنانچہ کچھ بعید نہیں کہ بازار سیاست میں ان میں سے کوئی ایک یا زیادہ اپنا ضمیر بیچ کر حریف جماعتوں میں سے کسی ایک کے پلڑے میں جا بیٹھے۔میں یہاں پنجاب اسمبلی میں چوہدری سرور(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر48
گورنر پنجاب کی سینیٹ میں چھوڑی ہوئی نشست پر منعقدہ ضمنی انتخاب کی مثال دینا چاہوں گا جس میں کامیابی تو بلاشبہ پی ٹی آئی کے امیدوار شہزاد وسیم کے حصے میں آئی مگر تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ تحریک انصاف کے تین ووٹ مخالف امیدوار کو چلے گئے۔
جناب خان مجھے خدشہ ہے آپ کے حالیہ ناگزیر مگر ”ٹائمنگ“ کے اعتبار سے بے وقت فیصلوں کے باعث جہاں ووٹرز اور عوام کا ایک قابل لحاظ حصہ اپنے پست سیاسی شعور کے سبب سے آپ سے دور نہ ہو جائے وہاں آپ کی اپنی صفوں میں پائے جانے والے ”الیکٹ ابیلز“اور دیگر ”مہنا اداکار“ کھسک کر حریف کے کیمپوں کا رخ نہ کر لیں۔ اس صورت میں خدانخواستہ آپ کو ضمنی انتخابات میں کوئی ناقابل تلافی نقصان پہنچا تو اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود آپ ہوں گے۔
آنے والے دنوں میں کسی بھی نا مطلوب صدمے سے محفوظ رہنے کے لئے کبھی کبھار تو مجھے پی ٹی آئی اور خان صاحب کے حریفوں کے اس طنزیہ طعنے میں خیر مستور کا ایک پہلو نظر آتا ہے جس میں وہ کہتے ہیں
” حضورت اب آپ کنٹینر سے نیچے اترآیئے اور یقین کر لیجئے کہ آپ حکومت میں آچکے ہیں اور ملک کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہیں“ جیس اکہ میں نے اس تحریر کے آغاز ہی میں عرض کر دیا تھا کہ پریس کانفرنس میں میرے ممدوں خانصاحب نے جو کچھ کہا جو لب و لہجہ اختیار کیا۔ اس پر بہت لے دے ہوگی۔ اس کی حمایت اور مخالفت میں بہت کچھ لکھا پڑا اور بولا جائے گا۔ خود میں اس حوالے سے دو آپشنز پر غور کر رہا ہوں۔ ایک یہ کہ عمران خان صاحب کو اب کنٹینر سے جڑے ہوئے سیاسی کلچر سے خود کو الگ کر لینا چاہئے اس کام کے لئے ان کے پاس فواد چوہدری اور فیاض الحسن چوہان موجود ہیں۔ ان کے سامنے فقط کرپشن فری پاکستان کا ہدف رہنا چاہیئے۔اور اس کے اظہار کے لئے اگر الفاذ کا زیادہ بہتر چناو¿ کر لیا جائے تو مناسب رہے گا وگرنہ لب و لہجہ یقینا بد لینا چاہئے۔ ان کے منصب کے تقاضے یکسر جدا گانہ ہیں۔ اور دوسر ا آپشن یہ کہ عوام از خود ان کے جذبات کی گاہے شدت اور لب و لہجے کی تندی کو گھر کے ایک پر خلوص مگر تند خو بزرگ کا طرز عمل سمجھ کر ہضم کر لیا کریں۔
اس کالم کی تیاری کے لئے میں نے ہر ذہنی سطح کے کچھ افراد سے مکالمہ کیا اور عمران خان کنٹینر والے سیاسی کلچر بابت ان کی رائے لی۔ تیس میں سے بیس افراد نے عمران خان کے اخلاص عمل، کرپشن فری پاکستان اور ان کے لب و لہجے میں تندی و شدت پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ان میںزیادہ تر کا کہنا تھا کہ صدیوں سے ظالمانہ نظام میں جکڑے ہوئے معاشرے کو جھنجوڑنے اور متحرک کرنے کے لئے عمران خان کا طرز تخاطب اور لب ولہجے کی تندی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ صرف دس افراد کا کہنا تھا کہ عمران خان قدرے دھیمے لہجے میں خطاب کیا کریں۔ ہمیں نے جب ان کی توجہ خانصاحب کی پچھلے پچاس دنوں کی تقاریر وغیرہ کا حوالہ دیا جن میں وہ ایک مدبر کی طرح نہایت دھیمے اور مدلل اسلوب میں بات کرتے ہیں تو ان دس میں سے چھ لوگ میری بات سے اتفاق کرتے پائے گئے۔
اس اعتبار سے میرا اپنا تجزیہ یہ ہے پاکستانی عوام عمران خان کے اخلاص نیت، دیانت ، امانت اور اصابت کے جو اہر کے قائل ہیں اور وہ ہر حال میں ان کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر قدرت نے عمران خان کو پانچ سالہ دور حکمرانی دیئے رکھا تو وہ انشاءاللہ اس قوم کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
آج شہر کے مختلف حصوں میں لوگوں سے گپ شپ کرتے اور ان کے باہمی مکالمے سنتے سنتے میرا تاثر یہ ہے کہ خانصاحب کی گذشتہ روز والی پریس کانفرنس کے مندرجات ہی عامتہ الناس کے حلقوں میں موضوع دلچسپی رہے۔ مثلاً یہ کہ جتنا مرضی شور مچالو کوئی این آر او نیں ہوگا اور انہ ہی کسی کرپٹ کو چھوڑوں گا۔ لوگوں کو خان کی یہ بات بہت پسند آئی جس میں وہ اپنے عوام سے کئے گئے وعدے کی پاسداری کا ذکر کرتے ہیں یعنی انہوں نے کہا تھا کہ قوم سے میں یہ وعدہ کر کے آیا ہوں کہ میں کسی منفی اجتماع یا مظاہرے سے بلیک میل نہیں ہونگا۔ اپوزیشن لیڈر کے لئے شور مچانے والوں کا دراصل کرپشن میں اپنا نمبر آنے والا ہے۔ لوگ اس بات پر بھی عمران خان کو داد دے رہے تھے جس میں انہوں نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی لوٹ کھسوٹ کے کاروبار میں ملی بھگت بابت اشارہ کرتے ہوئے یہ طنزیہ جملہ کسا تھا ”دن کو لڑائی رات کو بھائی بھائی“
خلاصہ کلام، عمران خان اپنی سرشت میں عوام دوست اور کرپشن دشمن انسان ہیں۔ 22سالہ طویل سیاسی جدوجہد کے بعد اب وہ اقتدار و اختیار کے منبع یعنی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے ہیں ۔ ان کی شخصیت میں بیک وقت ایک بچے کی پر خلوث موصومیت اور ایک بزرگ کی شفیقانہ سرپرستی کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ جنہیں وہ اپنے اخلاص عمل، پختہ عزم اور بھرپور جوشش کا رکے ذریعے پاکستان کے بائیس کروڑ لوگوں کے حق میں جلد از جلد نتیجہ خیز بنانے کے خواہاں اور متمنی ہیں۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ہم عوام اپنے چھوٹے موٹے اختلافات کو پس پشت ڈال کر عمران خان کا ساتھ دیں۔

Scroll To Top