اگر میں عمران خان ہوتا ! 22-02-2014

kal-ki-baat
اگر میں عمران خان کی جگہ ہوتا تو یقینی طور پر سینٹ کے سامنے پیش ہوجاتا اور کہتا:
” میں نے جو کہاہے اس کی صداقت کا فیصلہ ہم خدا پر چھوڑتے ہیں۔ درمیان میں ہم قرآن حکیم رکھتے ہیں۔ میں اس پرہاتھ رکھ کر کہوں گا کہ جو کچھ میں نے سینٹ کے فاضل اراکین کے بارے میں کہا ہے وہ صدقِ دل سے سچ سمجھ کرکہا ہے اور میرا مقصد دروغ بیانی سے کام لے کرکسی شخص پر جھوٹا الزام لگانا نہیں۔ اس بات کا فیصلہ یوں ہوسکتا ہے کہ آپ بھی باری باری کتاب الٰہی کو حاضر و ناظر جان کر کہیں کہ آپ نے ہمیشہ اپنے آپ کو لین دین کے معاملات سے دور رکھا ہے اور کبھی مالی فوائد اور معاونت کے نہ تو طلب گار رہے ہیں اور نہ ہی فیض یافتگان اگر آپ حضرات میں سے ایک قلیل تعداد بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ بیان دے دیتی ہے تو میں آپ سب سے معافی مانگ لوں گا۔ اگر میری طرف سے معافی آپ کی دلجوئی کا سبب بنتی ہے یا آپ صدقِ دل سے اس ایوان کے حقیقی تقدس کا احترام کرنے پر کمربستہ ہوجاتے ہیں تومیرے لئے یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔“
میں نہیں جانتا کہ عمران خان اس صورتحال سے کس طرح نمٹیں گے لیکن یہ تجربہ انہیں یہ سِکھانے کے لئے کافی ہوگا کہ ان کا سابقہ ایک دو یا دس بیس مخالفین کے ساتھ نہیں پڑا ` ان کے سامنے اس نظام کی اجتماعی قوت صف آرا ہوچکی ہے جسے تبدیل کرنے کا عزم انہیں اس میدانِ خارزار و خرابی میں لایا ہے۔

Scroll To Top