بلوچستان` پنجاب ` سندھ اور خیبرپختونخوا میں الگ الگ خدا نہیں

aaj-ki-baat-new
اگر کوئی سمجھتا ہے تو انہیں پاش پاش کرنے کے لئے ایک ضربِ غزنوی ہی کافی ہے۔۔۔

جناب عمران خان نے وزیراعظم بننے سے پہلے ہی مجھے پی ٹی آئی کا سنیئر میڈیا کنسلٹینٹ مقرر کردیا تھا۔ یہ تقرری ایک نقطہ نظر سے اُس ”رشتہ ءفکر “ کے اثبات کی حیثیت رکھتی تھی جو ہمارے درمیان ایک عرصہ سے قائم رہا ہے اور دوسرے نقطہ ءنظر سے خود میری اس خواہش کی تکمیل تھی کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ میں کہاں کھڑا ہوں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اس تقرری کی حیثیت علامتی ہے۔ کپتان نے بڑے خلوص اور بڑی فیاضی سے پوچھا کہ آپ ” کیا کردار چاہتے ہیں ؟“ میں نے بغیر سوچے جواب دیا۔ ” کوئی بھی کردار جس کا حکومت سے کوئی تعلق نہ ہو۔۔۔۔“
میری بات کو کپتان اس لئے جلدی سمجھ گئے کہ وہ مجھے ایک عرصے سے جانتے ہیں۔۔۔ میں کبھی ایسے نظام یا نظم و ضبط کا حصہ بننے والا آدمی نہ تھا اور نہ بن سکوں گا جس سے مجھے اتفاق نہ ہو اور جس کی گھٹن میرے وجو د کے اس حصے کو مار ڈالے جس سے مجھے بے پایاں پیار ہے۔۔۔
میں نے اِس معاشرے میں زندہ رہنے کے لئے بڑے سمجھوتے کئے ہیں لیکن اپنے وجود کے جس حصے کی بات میں کررہا ہوں وہ کبھی کسی سمجھوتے کی زد میں نہیں آیا۔۔۔
یہ میرے بس کی بات ہی نہیں کہ میں ” غیر اللہ “ کے سامنے جھکوں یا سجدہ کروں۔۔۔
جس خود ی کی بات علامہ اقبال ؒ نے کی تھی وہ یہی تھی۔۔۔
کپتان عمران خان کو میں ایک سچا کھرا اور بڑا لیڈر مانتا ہوں اور مجھے فخر ہے کہ وہ مجھے اکبر بھائی کہتے ہیں لیکن” وزیراعظم عمران “ ایک ایسے نظام کے اندر آکر ریاستِ مدینہ قائم کرنے کے لئے نکلا ہے جس کی کوکھ سے ہمیشہ عبداللہ ابن ابی کی نسل پیدا ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔۔۔
میرے نزدیک ریاستِ مدینہ کا مطلب ایک ہی ہے۔۔۔” ایسی ریاست جس میں حاکمیت خدا کی ہو۔۔۔ خدا قرآن حکیم میں بار بار ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ا لملک میں ہوں ” حاکم “ میں ہوں۔۔۔ ” بادشاہت “ میری ہے۔۔۔ جو میری بادشاہت کے راستے میں آئے گا وہ میرا باغی ہوگا اور جو میرا باغی ہوگا اس کا ایک ہی ٹھکانا ہے۔۔۔ جہنم!
خدائے ذوالجلال کی حاکمیت اور رب غفور و رحیم کی بادشاہت کیسے قائم ہوگی۔۔۔؟ وہ خود تو نہیں (نعوذ باللہ)بادشاہت کرنے کے لئے کوئی روپ دھار کراترے گا۔۔۔!
خدا کی بادشاہت آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں ہر مقام اور ہر دور کے لئے قائم کردی تھی۔ حاکم کسے کہتے ہیں ؟ جو فرمان جاری کرے اور اللہ کریم نے اپنا فرمان بصورت قرآن ہر دورہر مقام اور ہر فرد کے لئے جاری کردیا۔۔۔
جو لوگ اس ضمن میں تاویلیں پیش کرتے ہیں وہ خدا کے باغی ہیں۔۔۔
اور جو فرمانِ خداوندی کے سامنے سرجھکاتے ہیں وہ ایک قوم ہیں۔۔۔
جب تک یہ ” ایک قوم “ مختلف گروہوں `منتشر عقائد اور نسلی لسانی اور علاقائی امتیازات پر مبنی اکائیوں میں بٹی ہوئی ہے` خدا کی حاکمیت کیسے قائم ہوگی۔۔۔
بلوچستان ` پنجاب ` سندھ اور خیبرپختونخوا میں الگ الگ خدا نہیں۔۔۔ اگر کوئی سمجھتا ہے تو انہیں پاش پاش کرنے کے لئے ایک ضرب غزنوی ہی کافی ہے۔۔۔
یہ وہ خواب ہے جس کے تعاقب میں ` میں نے اپنی ساری زندگی گزاری ہے۔۔۔
اگر اس خواب کی تکمیل عمران خان کے ہاتھوں نہ ہوئی تو یہ ایک المیہ ہوگا۔۔۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خواب مرجائے گا۔۔۔
خواب زندہ رہے گا۔۔۔
اور اس کا پرچم نئی نسل اٹھائے گی۔۔۔

Scroll To Top