قانون مکافات عمل، شہباز نیب کی کال کوٹھڑی میں بند

  • سابق وزیر اعلیٰ کے خلاف اربوں کی کرپشن، نیب نے نونی حکومت کے دور اقتدار میں تفتیش شروع کی
  • دونوں چہیتے بیوروکریٹس آل شریف کے خلاف سلطانی گواہ بن گئے
  • عوام سابقہ حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ سے سخت نالاں، ضمنی انتخابات میں مسترد کریں گے
  • خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے نام ای سی ایل میں شامل، گرفتاری کا قوی امکان
  • نون غنوں کی گالم گلوچ بریگیڈ اور پٹ سیاپا ٹولہ متحرک
    افتادگان خاک کو عمران خاک کے روپ میں اپنا مسیحا میسر آگیا ہے

gulzar-afaqi
قانون مکافات عمل
آخر کو شہباز شریف بھی اس کی پکڑ میں آہی گئے
اب زندان کی دیواریں ہوں گی اور جذباتی ، ہیجانی، شتابی مزاج رکھنے والے شوباز نا شریف کی تہمت رکھنے والے نا اہل اور مجرم نواز شریف کے برادر اصغر ہون گے۔
لوگ حیران ہیں کہ یہ ہونی تو بہت پہلے ہو چکی ہونی چاہیئے تھی کہ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کے چودرہ شہیدوں کا لہو بھی تو قانون مکافات عمل کا کوڑا بن کر شوباز شریف کے گرد منڈھلا رہا ہے۔ مگر کیا کیجئے اپنے ہاں مروجہ سست رفتار نظام عدل کا۔ جو سال ہا سال تک ایک سے دوسرے مقام تک ہی نہیں کھسکتا۔
یہ الگ بات ہے کہ نیب کا نسبتاً تیز رفتار قانون کام دکھا گیا اور آج جب شہباز شریف نیب لاہور آفس میں صاف پانی ( جیسے در حقیقت گدلا پانی کہا جانا چاہیے) سکیم میں ہونے والی اربوں کی کرپشن کے کیس میں پیشی پر آئے ہوئے تھے تو اس موقع پر ان کے خلاف ہونے والی آشیانہ ہاو¿سنگ سکیم کی تفتیش کے سلسلے میں انہیں گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے کچھ دیر بعد ہی انہیں نیب حوالات میں بند کر دیا گیا۔ آج جس وقت یہ سطور آپ کے زیر مطالعہ ہوں گی بہت ممکن ہے انہیں احتساب عدالت میں پیش کر دیا جائے۔ نیب قانون کے مطابق اگر پراسکیوشن چاہے تو ملزم کی تین ماہ تک ضمانت نہیں ہو سکتی۔
مجھے اپنے ذرائع سے خبر ملی ہے کہ ان دنوں آشیانہ قائداعظم اور آشیانہ اقبال ہاو¿سنگ سکیموں کے حوالے سے اربوں روپے کی بے ضابطگیوں اور کرپشن کی جو تفتیش ہو رہی ہے اس میں آل شریف کے دو از حد چہیتے بیوروکریٹس فواد حسن فواد اور احد چیمہ کے اقبالی بیانات کی روشنی میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور حال اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مذکورہ دونوں بیوروکریٹس کی بابت یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ وہ سلطانی گواہ بن گئے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیب آفس میں فواد حسن فواد اور شہباز شریف کا آمنا سامنا کرایا گیا اس موقع پر فواد نے اقرار کیا کہ اس نے جوکچھ کیا وہ شہباز شریف کے حکم پر کیا۔ کم و بیش ایسا ہی موقف احد چیمہ کی طرف سے متوقع ہے۔
یاد رہے یہ وہی احد چیمہ ہے جس کی گرفتار پر واقفان حال کے مطابق شہباز شریف کے ایماءپر پنجاب کی بیوروکریسی نے صوبہ گیر تالہ بند ہڑتال کر دی تھی۔اس حرکت کے ذریعے دراصل ”اوپر والوں“ کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ پنجاب بیوروکریسی پر ہاتھ ڈالا گیا تو انجام بہت برا ہوگا۔ مگر شوباز کے ہر ناٹک نوٹنکی کا سکرپٹ چونکہ بہت فرسودہ بودہ اور پھسپھا ہوتا ہے اس لئے یہ ناٹک ناکام ہو گیا تھا۔ اور بے لگام کھوڑے کی تہمت رکھنے والی نو کر شاہی بہت جلد اپنے ہی قدموں پر ڈھیر ہوگئی تھی۔
پچھلے کئی ماہ سے جاری تفتیشی سلسلے اور اس میں فواد حسن فواد اور احد چیمہ کے ممکنہ انجام سے بیوروکریسی کے ادارے کو ایک مضبوط پیغام گیا ہے کہ ملازمت اور دولت کی حرص و ہوس میں کبھی گمراہ نہ ہو اور کبھی حکمرانوں کی غلط کاریوں میں چھوٹے سے مفاد اور حصہ پتی کے لئے شراکت دار نہ بنو۔
شوباز نا شریف کی گرفتاری کے فوراً بعد نون غنوں کا گالم گلوچ بریگیڈاور پٹ سیاپہ ٹولہ حرکت میں آگیا۔سیاسی فتویٰ فروشی شروع ہو گئی۔ شوباز شریف کی گرفتاری کو جمہوری کے قتل عام قرار دے دیا گیا۔ مریم ، نثاءاللہ اور حمزہ جیسے بھونپوو¿ں کے نزدیک ”پاکستان کے عظیم سیاستدان“ کی گرفتاری ایک سفاکانہ انتقامی کارروائی ہے۔ اور اس کا سارا ملبہ عمران حکومت پر ڈال دیا گیا۔
اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ نیب نے ایک آزاد اور خود مختار ادارے کی حیثیت سے شہباز شریف حکومت کے متعلق مختلف منصوبوں میں ہونے والے مالی و انتظامی گھپلوں اور کرپشن کی تحقیقات و تفتیش نون لیگ کی اپنی حکومت کے دوران ہی شروع کر دی تھی۔ جواب اپنے اختتامی مرحلے تک پہنچ چکی ہے اس سارے عمل میں عمران خان حکومت یا اس کے وابستگان میں سے کسی ایک کا بھی کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔
شوباز نا شریف کی نیب کے ہاتھوں گرفتار کو جمہوریت کے خلاف ایک گھناو¿نی سازش قرار دینے کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ ملا فضل اور بے بی بلاول و زرداری نے اپنے اپنے تئیں نون لیگ والوں سے ”اظہار تعزیت“ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ نون لیگ ارکان قومی اسمبلی کے مطلوبہ دستخطوں کے ساتھ آج (ہفتہ) کو سپیکر آفس میں اسمبلی سشین بلانے کی درخواست جمع کرادے گی۔ اسی طرح شریف خاندان کے وکلاءکا پینل نون لیگ کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن کی حیثیت کی حیثیت سے شہباز شریف کی گرفتار کے خلاف پٹیشن دائر کرنے کا بھی ارادہ رکھتاہے۔
رات گئے حمزہ شہباز نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ۔ کہا کہ اس کے والد کی گرفتاری کی اصل وجہ پیش آمدہ ضمنی انتخابات ہیں جس میں تحریک انصاف کو اپنی کھلی شکست نظر آرہی ہے جس سے بچنے کے لئے شہباز شریف کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس استدلال پر سرہی پیٹا جا سکتا ہے۔ کہاں وفاقی حکومت ، کہاں نیب اور کہاں گرفتاری کو پی ٹی آئی کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے اس نوع کے رد عمل سے اس حقیقت کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نون لیگ اور اس کی نام نہاد قیادت کس قدر غیر حقیقی سوچ کی مالک ہے۔
ہاں بلاشبہ14اکتوبر کو ملک کے37حلقوں میں ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میں زیادہ تر سیٹیںپی ٹی آئی کی چھوڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں اب تک کی تاریخ سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی یہ انتخابات غالب پوزیشن کے ساتھ جیت جائے گی۔
پاکستان کے عوام کا سیاسی شعور اور فہم و فراست اب ماضی کے ہر دور سے کہیں زیادہ ہے انہیں اس حقیقت کا شدت سے احساس ہو چکا ہے کہ ماضی کے ماہ وسال میں کئی کئی عشروں تک حکمرانی کرنے والے طبقے انہیں محرومیوں کے سوا کچھ نہیں دے سکے۔
اب تحریک انصاف اور عمران خان کے روپ میں انہیں حقیقی تبدیلی کی منزل قریب نظر آنے لگی ہے۔ بلاشبہ انہیں یہ احساس بھی ہے کہ سابقہ حکومتیں اور ان کی عوام دشمن قیادتیں قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ کر کے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر گئی ہیں۔ ان حالات میں عمران خان بہت جلد عوام کو کوئی خاطر خواہ معاشی ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ مگر انہیں عمران خان کی دیانت ، امانت اور احسابت پر پورا یقین ہے اور یہی یقین عمران خان کے روپ میں ان کے سامنے ایک مسیحا کو لاکھڑا کرنا ہے ۔ جو یقینا ان کے مستقبل کو عزت و آبرو اور خوشحالی سے مالامل کر دے گا۔ انشاءاللہ

Scroll To Top