ایسٹ انڈیا کمپنی بھی ایک قبضہ گروپ تھا اور یہ بھی ایک قبضہ گروپ ہے

تقریباً تین سو برس قبل ایسٹ انڈیا کمپنی نے ” مغل انڈیا“ پر قدم رکھا تھا۔ 1757ءمیں پلاسی کی جنگ میں اس خطہ ءارض پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ 1799ءمیں سرنگاپٹم کی فتح کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کا قبضہ برصغیر کی تقدیر بن گیا۔
آج صبح صبح ٹی وی پر یہ خبر سنی کہ ایل ڈی اے نے جنت ٹرسٹ کے ایک سکول پر دھاوا بول دیا ہے۔دھاوا بولنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ جنت ٹرسٹ چوہدریوں نے قائم کیا تھا۔
اس خبر کی تفصیلات آپ اخبارات میں پڑھ لیں گے۔ میں نے اس کا ذکر یہاں صرف اس حقیقت کی نشاندہی کرنے کے لئے کیا ہے کہ ہمارا پاکستان ایک نئے انداز کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ” شوقِ کشورکشائی “ کی زد میں آیا ہوا ہے۔
شریف خاندان ایسٹ انڈیا کمپنی کا دیسی برانڈ ہے۔ وہ بھی ایک قبضہ گروپ تھا۔ اور یہ بھی ایک قبضہ گروپ ہے۔
اُس قبضہ گروپ سے جان چھڑانے کے لئے ہمیں ڈیڑھ سو برس انتظار کرنا پڑا تھا۔ او راِس قبضہ گروپ کا قبضہ اگرچہ دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے لیکن ہنوز برقرار ہے۔
اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ ہم ایک اور جدوجہدِ آزادی کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔
ہمارے وزیراعظم کی حیثیت برطانوی راج کے دور کے وائس رائے یا گورنر جنرل سے مختلف نہیں۔ اُس دور میں مختلف بات یہ تھی کہ برطانوی اقتدار کا سورج پوری دنیا پر اپنی کرنیں بکھیرتا تھا۔ آج کے دور میں برطانیہ امریکی سامراج کا بغل بچہ ہے۔ امریکہ نے ایشیائی معاملات کافی حد تک برطانیہ کو ” آﺅٹ سورس“ کررکھے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار امریکہ نے لندن کو دے رکھا ہے۔ اور لندن ہی شریف خاندان کی کاروباری سلطنت کا مرکز ہے۔۔۔
پاکستان کب آزاد ہوگا۔۔۔۔؟

Scroll To Top