فوج ، عدلیہ اور حکومت ملکی ترقی کے ایجنڈے پر کارفرما ہیں، فواد چوہدری

  • نواز شریف نے اقتدار چھوڑا تو قرضہ 28ٹریلین تک پہنچا ہوا تھا، ہم بھی اسی تناسب سے قرضہ لیں تو یہ 40سے 45ہزار کروڑ تک پہنچ جائے گا
  • سارک کانفرنس کے لئے 33گاڑیاں 98کروڑ کی منگوائیں اور کانفرنس ہی نہیں ہوئی، وزیراعظم ہاﺅس کا خرچہ ایک ارب سے کم ہو کر چند لاکھ تک رہ گیا ہے
اسلام آباد:۔ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کابینہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں سے متعلق پریس کانفرنس کر رہے ہیں، عمر ایوب بھی ہمراہ ہیں

اسلام آباد:۔ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کابینہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں سے متعلق پریس کانفرنس کر رہے ہیں، عمر ایوب بھی ہمراہ ہیں۔۔فائل فوٹو

لاہور(صباح نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ فوج اورعدلیہ حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں جبکہ ادارے اور کابینہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ ہوں تو معاملات میں بہتری مشکل ہے۔اتوار کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاکہ ہماری سیاست پر تنقید بھی بہت ہوگی اور تعریف بھی، ہم تبدیلی کے عمل کے ذریعے یہاں تک پہنچے ہیں، تبدیلی کے لیے پی ٹی آئی حکومت نے کام شروع کردیا اور عمران خان کی ذات خود تبدیلی کا بہت بڑا استعارہ ہے، عمران خان کی تصویر کے بغیر تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے ملک کا متوسط طبقہ صحت، تعلیم اور سیکیورٹی کے موجودہ نظام سے مطمئن نہیں ہے، کرپشن کو ہمارا معاشرہ تسلیم کر چکا تھا جس کے خلاف عمران خان نے آواز اٹھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اقتدار چھوڑا تو قرضہ 28ٹریلین تک پہنچا ہوا تھا، ہم بھی اسی تناسب سے قرضہ لیں تو یہ 40سے 45ہزار کروڑ تک پہنچ جائے گا تاہم وزیراعظم نے عوام کو بتایا ہے کہ پہلی قربانی میں نے دی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سارک کانفرنس کے لئے 33گاڑیاں 98کروڑ کی منگوائیں اور کانفرنس ہی نہیں ہوئی، پی آئی اے 45ارب روپے کا نقصان کررہا ہے، پی ٹی وی اور ریلوے سمیت دیگر ادارے بھی خسارے میں ہیں جبکہ اب وزیراعظم ہاﺅس کا خرچہ ایک ارب سے کم ہو کر چند لاکھ تک رہ گیا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے دیگر ممالک کو سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے جس سے نوکریاں پیدا ہوں گی اور لوگوں کو روزگار ملے گا، ہم نیک نیتی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج اور عدلیہ حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں جبکہ ادارے اور کابینہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ ہوں تو معاملات میں بہتری مشکل ہے۔

Scroll To Top