یہ جنگ کسی فرد یا خاندان کے خلاف نہیں اس نظام کے خلاف ہے جس میں ” عوام “ کو برطرف کردیا جاتا ہے۔۔

ضمنی انتخابات میں برسراقتدار پارٹی کی کامیابی اسی قدر یقینی سمجھی جاتی ہے جس قدر یقینی یہ امر کہ طلوعِ آفتاب مشرق سے ہی ہوگا اور غروبِ مغرب میں ہی۔ اور مسلم لیگ (ن)کو ہر قسم کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے فن پر جو عبور حاصل ہے اس کا اعتراف نہ کرنا زمینی حقیقتوں سے انحراف کرنا ہوگا۔ مسلم لیگ (ن)پنجاب پر حکومت کئی دہائیوں سے کررہی ہے اور شاید ہی کوئی سرکاری اہلکار ایسا ہوگا جس پر حکمران خاندان کی نوازشات کا بوجھ نہیں ” لدا“ ہوگا۔ یا جسے یہ خوف نہیں ہوگا کہ ان نوازشات سے محرومی اس کے عرصہ ءحیات کو تنگ کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ گزشتہ روز کسی صاحب نے ایک ٹویٹ میں یہ سوال کیا کہ ” کیا جمہوریت میں ایک خاندان کی حکومت قائم ہوسکتی ہے ؟“ محترمہ مریم نوازشریف نے جواب دیا ۔۔۔
” کیوں نہیں ؟ اگر ووٹ ملتے رہیں تو ۔۔۔“
ووٹ حاصل کرتے رہنا شریف خاندان کے لئے اسی قدر ناگزیر ہے جس قدر ناگزیر مچھلی کے لئے پانی میں رہنا ہے۔ چنانچہ گزشتہ تین دہائیوں سے جو نظام بنایا اور مضبوط کیا گیا ہے اس کی لازمی خصوصیت ہی یہ ہے کہ حکمران خاندان کو ضرورت کے مطابق ووٹ ملتے رہیں۔۔۔
میں اس نظام کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے والے عوامل کا ذکر یہاں نہیں کروں گا ` لیکن اس معاملے میں مجھے ذاتی آگہی حاصل ہے۔ آپ اصغر خان کیس کے بارے میں تو جانتے ہی ہوں گے۔ اس کیس کا تعلق 1990ءکے عام انتخابات سے تھا۔ اُن انتخابات میں اصغر خان اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے اتحاد ” پی ڈی اے “ نے حصہ لیا تھا۔
مجھے دونوں کا مکمل اعتماد حاصل تھا اور اس اعتماد کی وجہ سے میرے سپرد بڑی اہم ذمہ داریاں تھیں۔
اُن انتخابات میں کیا کچھ ہوا اس پر ایک ضخیم وہائٹ پیپر میری نگرانی میں تیار ہوا اور اسے میں نے ہی کتابی شکل میں شائع کیا۔۔۔ اس کا انگریزی میں عنوان تھا۔۔
“How An Election Was Stolen?”
اور اُردو میںعنوان تھا ۔”لیکشن کیسے چرایا گیا۔۔۔“
الیکشن چرانے کے فن کا عملی مظاہرہ سب سے پہلے اُن ہی انتخابات میں ہوا تھا۔ 2013ءمیں یہ فن عروج کو پہنچ گیا۔
او ر اس کا تازہ ترین مظاہرہ بورے والا ` جہلم اور چیچہ وطنی کے ضمنی انتخابات میں ہوا ہے ۔۔۔
اِس نظام میں اُن طاغوتی قوتوں کو شکست دینا ناممکن ہے جنہوں نے اِس نظام کی بنیادیں بھی رکھی ہیں اور عمارت بھی کھڑی کی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ 30ستمبر کا مارچ کسی فرد کے گھر کی طرف نہیں ہوگا کیوں کہ قوم کی جنگ کسی فرد کے خلاف نہیں ہے۔ یہ مارچ اُس نظام کے خلاف ہوگا جس میں عوام کو اقتدار سے خارج کردیاجاتا ہے۔ ستم ظریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ ” عوام “ کی یہ برطرفی اُن ہی اختیارات کے تحت ہوتی ہے جو عوام کے ووٹوں سے حاصل کئے جاتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top