یہ فیصلہ ریفرنڈم میں ہوناچاہئے 03-01-2014

kal-ki-baat
جوبا ت میں آج کہناچاہتا ہوں اس کا مطلب یہ نہ لیاجائے کہ مجھے ” نظامِ جمہوریت“ کی ہتک یا تذلیل مقصود ہے۔
آج کل پاکستان میں جنم لینے والی ہر برائی کا رشتہ اُن آمریتوں کے ساتھ جوڑا جاتاہے جو فوجی حکمرانوں نے قائم کیں۔ میں اس امکان سے انکار نہیں کرتا کہ شاید ایسا ہی ہو ۔ لیکن حقیقت جاننے کے لئے میری تجویز یہ ہے کہ یا تو ایک ریفرنڈم کرایا جائے جس میں عوام سے پوچھاجائے کہ ملک کو زیادہ بُری حکمرانی ان جنرلز نے دی جو بندوق کے زور پر اقتدار پر قابض ہوئے۔ یا پھر ان سیاستدانوں نے جو انتخابی نظام کی کرشمہ سازیوں کی بدولت ایوان ہائے اقتدار میں پہنچے؟
میں ” بُری حکمرانی “ کی ترکیب یہاں اس لئے استعمال کررہاہوں کہ اچھی حکمرانی شاید ہمیں آج تک نصیب نہیںہوئی۔
جہاں تک ” آمریت “ کا معاملہ ہے ہم عوام سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ بڑا آمر کون تھا۔ ایوب خان یا زیڈ اے بھٹو۔۔۔؟
بدقسمتی یہاں یہ ہے کہ ایسے معاملات میں عوام کی رائے لینے کا یہاں کوئی فورم یا طریقہ ءکار موجود نہیں۔ دوسری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہم نے امرا ءاور اہلِ وسائل کی حکمرانی کو آنکھیں بند کرکے جمہوریت کا نام دے رکھاہے۔

Scroll To Top