آج کے حالات میں میرا 2برس قبل کا کالم ضرور پڑھیں خواب اچھا ہے مگر جب بھی آنکھ کھلے گی تو ہم مودی کے دانتوں سے لہو بہتا دیکھیں گے

aaj-ki-baat-new

23ستمبر2016کو سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر سرینا ہوٹل اسلام آباد میں ایک استقبالیہ ہوا جس میں میری ملاقات چند پرانے کرم فرماوںاور دوستوں کے علاوہ کچھ مشہور شخصیات سے بھی ہوئی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود اور شیخ رشید کو میں ان مشہور شخصیات کی فہرست میں رکھوں گا۔ اگر چہ ڈاکٹر صاحب ایک بڑے اینکر پرسن، تجزیہ کار اور صحافی اور شیخ صاحب ایک بڑے سیاست دان اور متعدد مرتبہ وزارت کے مزے لوٹنے والے باغی ہیں مگر حالیہ پس ِمنظر میں ان کہ وجہ شہرت ٹی وی سکرین ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی ثابت قدمی کی بدولت ملک کے کروڑوں حب الوطنوں کے دل موہ لئے ہیں جس کی جو سزا میاں صاحب نے بدست ابصار عالم انہیں دی ہے وہ سب کو معلوم ہے۔
”ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں ڈاکٹر صاحب۔“ میں نے ان سے کہا۔ جواب میں انہوں نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔۔۔آپ کی نیک تمناوں کی بدولت بہت جلد۔“
شیخ رشید بڑے خوش وخرم نظر آئے۔
”آج کل آپ بڑے فارم میں ہیں شیخ صاحب“ میں نے کہا۔ ”خبر اچھی آنی چاہئے۔“
” اللہ تعالیٰ نے چاہا تو خبرضرور بنے گی۔ “ وہ قہقہ لگاکر بولے۔
راجہ ظفر الحق اور گوہر ایوب سے بھی ملاقات ہوئی۔ یہ دونوں اصحاب حقیقی شریف ہیں ” شریف دھڑے“ والے شریف نہیں۔ میں نے راجہ صاحب سے کہا۔“ آپ جیسے اچھے آدمی کا اس قسم کی سیاست میں موجود ہونا کمال کی بات ہے۔“
جواب میں وہ اِدھر ادھر دیکھنے لگے کہ کوئی سن تو نہیں رہا۔پھر بولے۔”آپ سے ایک عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی۔“
”اگر چہ میرا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہی ہے مگر رہائش اب لاہور میں اختیار کر چکا ہوں۔ “میں نے جواب دیا۔
جناب گوہر ایوب سے میں نے کہا۔ ”مجھے آپ کے مرحوم والد کے ساتھ انٹرایکٹ کرنے کا شرف حاصل ہے۔ تب آپ کی شخصیت کو بڑا متنازعہ بنا دیا گیا تھا۔ پھر آپ نے سٹیل ملیں اور شوگر فیکٹریاں وغیرہ کیوں نہ بنائیں۔؟“
وہ ہنسنے لگے اور بولے۔ ” ہمارا آپ کے ماموں کے گھر آنا جانا رہتا تھا۔ میں بھی اسی نسل سے ہوں جو نسیم حجازی کو پڑھ کر فوج میں گئی۔۔
“اسی جمگھٹے میں جنرل قیوم سے بھی ملاقات ہوئی جنہیں میں واہ آرڈی نس فیکٹری اور پاکستان سٹیل کے حوالے سے جانتا ہوں۔ اب وہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ہیں۔
وہ پاک بھارت کشیدگی پر گفتگو کر رہے تھے اور بجا طور پر ان کا فرمانا تھا کہ مودی کو اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ کس قوم کے ساتھ پنجہ آزمائی کر رہے ہیں۔
” قوم تو بڑی دلیرہے جنرل صاحب۔ بم برس رہے ہوں تو چھپنے کے لئے جگہ تلاش کرنے کی بجائے باہر نکل آتی ہے۔ مگر قوم کے رہنماوں نے بد قسمتی سے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انہوں نے تاریخ شاید پڑھی ہی نہیں۔ کبھی بھی پڑوسی ممالک ایک دوسرے کے دوست نہیں بنے اور بھارت تو ایک ایسا پڑوسی ہے جو ہمیں ہڑپ کرنے کے منصوبے روز اول سے بنا رہا ہے۔ ہمیں مغرب کی تھیوریوں سے متاثر ہونے کی بجائے زمینی حقائق کو سامنے رکھناہوگا۔ آج بھی اور آنے والی داہائیوں میں بھی۔“
”لیکن اگر قیام ِامن کی کوئی صورت پیدا ہو جائے تو اچھا نہیں ہوگا۔؟وہ بولے۔
”خواب اچھا ہے مگر جب بھی آنکھ کھلے گی تو ہم مودی کے دانتوں سے لہو بہتا دیکھیں گے۔“ میں نے جواب دیا۔۔۔

Scroll To Top