” حکومت نے اپنے پاوں پر کلہاڑی مار لی“

عمران خان پرعزم ہیں کہ 2نومبر کو اسلام آباد میں بھرپور احتجاج کیا جائیگا۔ پی ٹی آئی کے اعلی سطحی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا ان کا آئینی حق ہے جس سے انھیںکوئی نہیں روک سکتا۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک بار پھر پوری قوم کو دونومبر کے فیصلہ کن احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ ادھر اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے یوتھ کنونشن کے موقعہ پر پاکستان تحریک انصاف کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج مسلم لیگ ن کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوگیا جج صاحب آئیں اور دیکھے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ کیا کررہی ہے۔“
پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کی تاریخ یعنی دو نومبر جوں جوں قریب آرہی ہے توں توں حکومت کی بوکھلاہٹ نمایاں ہورہی ہے۔بظاہر حکمران جماعت اس تاریخی سچائی کو ماننے سے اعتراض برت رہی کہ کسی سیاسی تحریک کو طاقت سے دبانے کا نتیجہ اہل اقتدار کے لیے کبھی بھی سودمند نہیں ہوا۔پاکستان تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن میں نہتے مرد وخواتین کارکنوں کے ساتھ ہونے والی پولیس گردی سے سرکار کی جھنجلاہٹ کو بے نقاب کردیا جو قبل ازیں اس قدر نمایاں نہ تھی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹی وی کمیروں کے سامنے نہتے سیاسی کارکنوں پر ہونے والا تشدد یقینا اپنے اثرات مرتب کریگا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کارکنوں کو پولیس تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے یہ کام کرکے دراصل اپنے پاوں پر کلہاڑی مار ی ہے۔“ گماں یہی ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی سمیت کوئی بھی جمہوریت پسند جماعت اس سرکاری اقدام کی حمایت نہیں کرسکتی کہ پولیس کارکنوں پر بہیمانہ تشدد کرے۔ اس پس منظر میں قوی امکان ہے کہ دونومبر کے احتجاج کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکمران جماعت کو ایسی حمایت میسر نہ آسکے جس کی بجا طور پر وہ توقع کررہی۔پانامہ لیکس وزیراعظم اور ان کے خاندان کے لیے مسلسل سیاسی مشکلات پیدا کررہا۔ عالمی مالیاتی سیکنڈل کی غیر جانبدارنہ اور شفاف تحقیقات نہ ہونا شریف فیملی کے لیے ایسا درد سر بن گیا جس کی شدت میں ہر گرزتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا۔
اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کا باشعور شہری بڑی حد تک جان چکا کہ مسائل کی بنیادی وجہ کرپشن ہی ہے یعنی جو پیسہ اس کی بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی پر خرچ ہونا چاہے وہ سات سمندر پار منتقل کیا جارہا ہے۔کہا جاسکتا ہے کہ سیاست کا کاروبار بن جانا ارض وطن پر ایسی بدترین شکل اختیار کرچکا جس سے چھٹکارا پانا ناگزیر ہوچکا۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ عام آدمی جوں جوں بدعنوانی سے بیزار ہورہا توں توں ذمہ دار ادارے اپنے بنیادی فرائض منصبی سے اعتراض کررہے۔ اس تجزیہ کو مسترد کرنا ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہورہا کہ مملکت خداداد میں سٹیٹس کو کی حامی اور اس کی مخالف قوتوں میں تصادم اب ناگزیر ہوچکا۔ بظاہر ایسا ہونا اہل پاکستان کی مشکلات میںنمایاں کمی کرڈالتا کہ سیاسی محاذآرائی و کشدیگی کے بغیر تنازعات حل کرلیے جاتے مگر قومی تاریخ میں نہ ایسا ہوا اور نہ ہی اس بار امکان ہے کہ مفادات اٹھانے والے عناصر رضاکارانہ طور پر دستبردار ہوجائیں۔
ادھر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ ایک بار پھر ”سسٹم “کو بچانے کے لیے متحرک ہوچکے۔ اپنے تازہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی طور پر اس سسٹم کو ڈی ریل نہیں ہونے دینگے۔ سید خورشید شاہ طویل عرصے سے سیاست میںہیں۔ سرکاری ملازمت سے قومی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے سفرتک انھوں نے کئی نشیب وفراز عبور کیے مگر شائد بدلتے قومی منظر نامہ کا درست طور پر ادراک نہیں کر پارہے۔ کسی ہوشمند شخص کو قائد حزب اختلاف کوبتانا ہوگا کہ ملکی سیاست تیزی سے بدل رہی۔ پاکستان کے شہری علاقوں کے ساتھ دیہات میں رہنے والوں کے دلوں میں بھی خواہش انگڑائی لے چکی کہ انھیں ایسا انتظام چاہے جو خواص کی بجائے عوام کا مددگار ہو۔ سیاست کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال میں لانے والوں کو اب اچھے الفاظ میں یاد کرنے کی روایت دم توڑ رہی۔ اس میںکیا شک ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بدترین مخالف بھی عمران خان بارے یہ ثبوت نہیں دے سکے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مالی بدعنوانی میں ملوث ہے۔
رہنمائی کا دعوی کرنے والے اس آفاقی حقیقت کو نہیں سمجھ پار ہے جس کے بارے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ”ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں“۔ پاکستان کے حالات کیا عالمی صورت حال بھی توقعات کے عین مطابق بدل رہی۔ حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والی آئی ایم ایف کی سربراہ کا موقف تھا کہ جس انداز میں معلومات تک رسائی کے لیے جدید سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جاری ہے اس کے بعد مالی معاملات میںگڑبڑ کو چھپانا مشکل ہوچکا“۔ ان سیاسی حلقوں کو جو واقعتا اس ارض وطن میں مالی بدعنوانیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں ایسی تمام کاوشوں کی کامیابی میں اپنا کردار کھل کر ادا کرنا ہوگا جو کہیںنہ کہیں کسی نہ کسی شکل میںجاری وساری ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف دونومبر کو عمران خان احتجاج کے لیے پرعزم ہیں۔ حکومت نے 27 اکتوبر کو پی ٹی آئی کارکنوں پر تشدد کرکے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو جو پیغام دیا وہ عملًا خود حکومت کے حق میں نہیں گیا۔آنے والے دنوں میں حالات کیا شکل اختیار کرتے ہیں یہ کہنا قبل ازوقت ہے مگر شائد اتنا ضرور ہے کہ کرپشن کے خلاف عام آدمی کے دل میں پائی جانے والی نفرت میں مسلسل اضافہ ہورہا۔

Scroll To Top