پاک امریکہ تعلقات اب نئے سرے سے استوار ہونگے ؟

  • امریکہ کا بڑا شکوہ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کی شکل میں دوطرفہ تعاون کا فروغ ہے
  • روس افغانستان جنگ ہو یا نائن الیون کا واقعہ اہل اقتدار نے مکمل طور پر قومی مفاد ملحوظ خاطر نہیں رکھا
  • پاکستان تحریک انصاف کی منتخب حکومت ہر امریکی مطالبے کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرسکتی
  • امریکہ کو اخلاص ثابت کرنے کے لیے پاکستان پر آئے روز الزامات لگانے سے اجتناب کرنا ہوگا

zaheer-babar-logo

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نوید سنائی ہے کہ ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں نئے سرے سے دوطرفہ تعلقات کے آغاز پر اتفاق کیا ہوا ، وزیر خارجہ کے بعقول ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان کے لیے بھی نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ “
حالیہ سالوں میںپاکستان اور چین کے تعلقات جس تیزی سے آگے بڑھے اس کے پیش نظر امریکہ میں تشویش پایا جانا فطری عمل تھا۔ یقینا سمجھ میںآنے والی بات ہے کہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور ہونے کا دعویدار امریکہ نہیں چاہتا کہ روس کے بعد اب چین اس کی بالادستی کو چیلنج کرے۔ کہتے ہیں کہ خلا کسی بھی معاملے میں نہیں رہتا لہذا اگر گذشتہ صدی میں امریکہ کے مدمقابل روس تھا تو آج چین تیزی کے ساتھ علاقائی اور عالمی سطح پر امریکہ کے سامنے کھڑا ہوتا نظر آرہا ہے۔ باخبر حلقوں کے بعقول پاکستان کے لیے امریکہ اثر رسوخ سے نکلنا آسان نہیں۔(ڈیک) اسے کسی صورت پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد صرف اور صرف چین پرانحصار کرے ۔ عالمی تعلقات کی تھوڈی سی سمجھ بوجھ رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ملکوں کے تعلقات میںصرف اور صرف مفادات کو بالادستی حاصل ہے ، یعنی ایسا ممکن نہیںکہ علاقائی یا عالمی سطح پر کوئی دو ملک تادیر ایک دوسرے کے حلیف رہیں۔ (ڈیک)
اس کی جیتی جاگتی مثال پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ ہے۔ روس کے افغانستان پر حملے کے نتیجے میںجس طرح دونوں ملکوں میں قربتیں بڑھیں وہ ریکارڈ پر ہے۔ کابل پر روسی پیش قدمی کے نتیجے میں ابتدائی طور پر تو واشنگٹن نے پاکستان کے کردار ادا کرنے پر ”فراخدلی “ کا مظاہرہ نہ کیا مگر فورا ہی امریکہ بہادر کو اندازہ ہوگیا کہ یہ نادر موقعہ ہے کہ وہ اپنے روایتی حریف روس کو اس کی غلطی کا ایسا مزہ چکھائے جو تاریخی کہلائے۔
سابق صدر ضیاءالحق نہیں طویل عرصے تک پاکستان امریکہ کی آنکھ کا تارا رہا۔ یہی وہ دن تھے جب صدر ضیاءالحق نے تیزی کے ساتھ پاکستان کو ایمٹی قوت بنانے کا خواب سچ ثابت کرنے کے لیے کامیاب کوشش کی۔ اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان نے روس افغان جنگ کی بھاری قیمت ادا کی۔ پاکستان میںلاکھوں افغان مہاجرین ہی نہیں آبسے بلکہ ناجائز اسحلہ ، منشیات اور مذہبی وسیاسی تشدد کے فروغ میں بے پناہ اضافہ ہوا۔مبصرین کا یہ تجزیہ غلط نہیںکہ پاکستان روس افغان جنگ کے نتیجے میں امریکہ سے بے پناہ فوائد سمیٹ سکتا تھا مگر باجوہ ایسا نہ ہوا۔ پاکستان کو ملنے والی امریکہ امداد جس قدر بھی تھی بہرکیف ایسی نہ تھی کہ جسے روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی قیمت قرار دیا جاسکے۔ ایک طرف ہم نے روس افغان جنگ کے وقت ملک وقوم کے لیے بے پناہ فوائد سمیٹنے کا موقعہ کھو دیا تو دوسرا نائن الیون کے بعد جس طرح واشنگٹن سے سودے بازی کرنے کی ضرورت تھی وہ لمحہ بھی ضائع کردیا گیا۔
مقام شکر ہے کہ ماضی کے برعکس آج کا پاکستان کسی کو یہ اجازت دینے کے موڈ میں نہیں کہ وہ صرف اور صرف اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ہماری سرزمین کو استمال کرنے کی روش پر گامزن رہے۔ آج پاکستان میں ایسی منتخب حکومت ہے جسے بجا طور پر عوامی خواہشات کی ترجمان کہا جاسکتا ہے چنانچہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی علاقائی یا پھر عالمی طاقت پاکستان کو صرف اور صرف اپنے مفاد کے لیے کامیابی سے استمال کرنے میں کامیاب ہوجائے۔
حال میںہی سی پیک کے حوالے سے قومی میڈیا میں ایسی خبریں شائع ہوئیں جن پر بعض حلقوں نے تو تشویش کا اظہار کیا مگر بعض ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے سی پیک کے سب ہی معاہدوں کو عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہے۔ درحقیقت حقیقی جمہوری قیادت کا کام یہی ہے کہ وہ صرف اور صرف ملک وملت کے مفاد کے لیے کردار ادا کیا کرتی ہے۔ افسوس کہ پی پی پی اور پی ایم ایل این کے بارے تاثر یہی رہا کہ سی پیک سے متعلق دونوں ادوار میں ہر کام ایسا نہیں ہوا جس پر اطمنیان کا اظہار کیا جاسکے۔
اس پس منظر میںپاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو بھی نئے انداز میں ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن کو بھی سمجھ لینا چاہے کہ ماضی میں جو کچھ بھی ہوتا رہا مگر اب اس کی دال نہیں گلنے والی۔ پاکستان کے مسائل کا حجم تیزی سے بڑھ رہا چنانچہ اگر پاک امریکہ تعلقات کو بہتر انداز میں آگے بڑھنا ہے تو اس کے لیے پاکستان کے کندھوں پر بوجھ کم کرنا ہوگا ۔ واشنگٹن کو اس پالیسی سے اجتناب برتنا ہوگا کہ افغانستان میںاپنی ہر ناکامی کا ملبہ پاکستان پر لادھ دیا جائے۔نائن الیون کے بعد ضرب عضب اور پھر ردالفساد کی شکل میں ملکی سیکورٹی فورسز نے دو ایسی کاروائیاں کی ہیں جن کے موثر ہونے کا اعتراف خود امریکہ کی بعض ذمہ دار شخصیات کو کرنا پڑا۔ امریکہ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ دہشت گردی کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہتھیار بنانے والے مخصوص نظریات کے حامل ہیں۔انسانی جان کی حرمت کی پرواہ نہ کرنے والے مسلح گروہوں کا خیال ہے کہ وہ اس طریقہ سے اپنے ”نیک مقاصد “ کا حصول ممکن بنارہے ہیں۔ اب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی امریکی کی اعلی سرکاری حکام سے ملاقاتوں کے مثبت اثرات ظاہر ہونے چاہیں تاکہ مسقبل میں پاک امریکہ تعلقات حقیقت پسندانہ انداز میں آگے بڑھ سکیںِ۔

Scroll To Top