” ہر نئی تعمیر را تخریب ہے لازم تمام“ مطلب اس کا یہ ہے کہ تعمیر نو اگرمقصود ہے تو اس بوسیدہ عمارت کو گرانا پڑے گا جس میں ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتا 06-12-2009

پاکستان کو کئی مرتبہ اپنا نظام حکومت تلاش کرنے کا موقع ملا مگر میری حقیر رائے میں یہ تلاش ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ وطن عزیز آج بھی ایسے ” نظام حکومت“ سے محروم ہے جو اسے بابائے قوم کے خواب کے عین مطابق دنیا کے نقشے پر صف اول کی ایک مملکت کے طور پر لاسکے۔
کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کو اگر پھلنے پھولنے کا موقع دیا جاتا تو آج پاکستان کی تقدیر بڑی مختلف ہوتی۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں خود ایک عرصے تک اس سوچ کے ساتھ اتفاق کرتا رہا ہوں لیکن گزشتہ ڈیڑھ پونے دو سال کے عرصے میں ہم نے جس قسم کی ” جمہوری حکمرانی“ کا تجربہ کیا ہے۔ اور جو کچھ قوم نے اس تجربے کے نتیجے میں ” سہا“ اور ” جھیلا“ ہے ` اس کے بعد میں ” پارلیمانی نظام“ کو پاکستان کے آلام مصائب اور مسائل کا علاج اور حل سمجھنے کی سوچ سے مکمل طور پر منہ موڑ چکا ہوں۔پاکستان کو اگر لیاقت علی خان مرحوم کے دور میں آئین مل جاتا اور تب پارلیمانی نظام کی جڑیں گہرائی تک جاچکی ہوتیں تو شاید ہم ان بے شمار تجربات سے نہ گزرتے جن کی وجہ سے آج ہم پھر ایک دوراہے بلکہ چوراہے پر کھڑے ہیں اور نہیں جانتے کہ ہماری منزل کی طرف راستہ کون سا جاتا ہے۔
ایک تجربہ اس آئین کا تھاجو 1956ءمیں ہمیں دیا گیا۔ دوسرا تجربہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے آئین کا تھا۔ تیسرا تجربہ جنرل یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر کا تھا۔ چوتھا تجربہ زیڈ اے بھٹو کے آئین کا تھا جسے آج ہم اپنا حقیقی آئین سمجھتے تو ہیں لیکن نافذ کرنے کےلئے تیار نہیں۔ پانچواں تجربہ جنرل ضیاءکے آئین کا تھا۔ چھٹا تجربہ جنرل مشرف کے آئین کا تھا۔ اب ساتویں تجربے کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی غور و فکر میں مصروف ہے۔
اگرہم فوجی مداخلتوں کی تاریخ پر نظرڈالیں تو ایک بات واضح ہوتی ہے۔
ہر مداخلت کے ابتدائی دوبرس خاصے ” نتیجہ خیز“ رہے۔ اس وجہ سے کہ ” فوجی آمروں“ نے حکومت چلانے کے لئے مہارت اور اہلیت کے حامل افراد پر انحصار کیا۔ بگاڑ تب پیدا ہوا جب ان آمروں نے اپنے آپ کو ” جمہوریت“ کی سند دینے کے لئے اپنے بھروسے کے ” عوامی نمائندوں “ کو حکومت میں شامل کیا۔
یہاں میں صرف ایک بات کہنا چاہوں گا۔
اگر ایک ہسپتال ` ایک کارخانہ ` ایک صنعت ` ایک کمپنی اور ایک ادارہ انتخابات کے نتیجے میں کامیاب ہونے والے ” خوش قسمت“ اصحاب کی ” خدمات“ کے ساتھ نہیں چلایا جاسکتا ` تو ایک پورا ملک ” مہارت“ اور ” اہلیت“ رکھنے والے لوگوں کے بغیر کیسے چلایا جاسکتا ہے۔ آج کے دور میں ملکوں اور مملکتوں کو ماہر منصوبہ سازوں ` منیجروں ` اکنامسٹس ` اور مختلف شعبوں پر عبور رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے حکمرانوں کی نہیں جو انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے جعلی ڈگریاں لینے سے بھی گریز نہیں کرتے اور جن کی ساری ” صلاحیت“ ان کے مالی وسائل میں ہوتی ہے۔
یہ درست ہے کہ عوام کے اعتماد کے بغیر کوئی حکمران آگے نہیں بڑھ سکتا اور کوئی حکومت نتائج نہیں دے سکتی۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ جس نظام کا دفاع ہم اس لئے کررہے ہیں کہ وہ ” جمہوری“ ہے اس میں ” حکومت کا سربراہ “ عوام کے ووٹوں سے ہرگز منتخب نہیں ہوا۔ ” جمہوری نظام“ کی آڑ میں ایک گھناﺅنا کھیل کھیلا جارہا ہے جس کا واحد مقصد یا تو اقتدار کا دفاع یا اقتدار کا حصول ہے۔
میرے خیال میں ایک حقیقی جمہوری نظام دریافت کرنے اور اختیار کرنے کا جتنا سنہری موقع ہمیں آج حاصل ہے پہلے کبھی حاصل نہیں تھا۔
یہ بات میں پورے تیقن کے ساتھ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ” امور حکمرانی “ سے جڑے ہوئے بہت سارے معاملات ہمارے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ایسے فیصلوں کی تلاش میں جارہے ہیں جو ہمارے مستقبل پر دور رس اثرات مرتب کریں گے۔
خوش قسمتی کی بات ہمارے لئے یہ ہے کہ آج کے پاکستان میں کم ازکم دو قومی اداروں کو عوام کا بھرپور اعتماد حاصل ہے ۔ ایک ادارہ عدلیہ اور دوسرا ادارہ فوج۔ ان دو اداروں کی کاوش سے اگر ہمارا ” نظام حکمرانی“ ان بیماریوں سے نجات حاصل کرسکے جس نے پورے ملک اور پوری قوم کی صحت کو متاثر کررکھا ہے تو اسے ایک نئی صبح کی نوید کہا جاسکے گا۔
ویسے علامہ اقبال ؒ تو اس انتہا پر چلے گئے تھے کہ انہوں نے کہہ دیا۔
” ہر نئی تعمیر را تخریب ہے لازم تمام“
مطلب اس کا یہ ہے کہ تعمیر نو اگرمقصود ہے تو اس بوسیدہ عمارت کو گرانا پڑے گا جس میں ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔
پوری قوم کی نظریں17رکنی فل کورٹ ` اس کے اولوالعزم چیف جسٹس ` اور دفاع پاکستان کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں پر جمی ہوئی ہیں۔
پاکستان زندہ باد!

Scroll To Top