پاک فوج کے خلاف نون لیگی غم و غصہ کیا رنگ لائے گا؟

مجھے یوں لگتا ہے کہ رانا افضل کو وزیراعظم میاں نوازشریف نے ضرورت سے کہیں زیادہ اعتماد سے سرشار کردیاہے۔ اُن کی سرشاری کا عالم یہ ہے کہ کچھ روز قبل انہوں نے ڈاکٹر دانش کے ایک پروگرام میں اپنے تمام سننے والوں کو ” انتباہ “ دے ڈالا کہ چپ چاپ ہماری جمہوریت کو صبر و شکر کے ساتھ قبول کئے رکھو ` اگر کوئی گڑ بڑ کی تو امریکہ ” تورا بورا“ کر ڈالے گا۔ اس بیان سے نون لیگی قیادت کی ذہنی کیفیت کے تین پہلوﺅں پر روشنی پڑی۔ ایک تو یہ کہ یہ حکومت میاں صاحب کو امریکہ کے وائس رائے کا درجہ دیتی ہے۔ اور وائس رائے کے خلاف کوئی بھی اقدام امریکہ کے لئے ناقابل قبول ہوگا۔ اس قدر ناقابلِ قبول ہوگا کہ ہمیں ” تورا بورا “ بنا ڈالا جائے گا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے جو خوفناک بمباری کی تھی اس کا سب سے ” لرزا“ دینے والا نشانہ ” تورا بورا“ کی پہاڑیوں کو بنایا گیا تھاکیوں کہ وہاں اسامہ بن لادن کے چھپے ہونے کا شبہ تھا۔ اُس زمانے میں جو رپورٹیں سامنے آئیں اُن سے یہ تاثر قائم ہوا کہ امریکی بمباری میں ایسے ایسے خوفناک بم استعمال کئے گئے تھے کہ پہاڑ سرمہ بن گئے تھے۔
ایک بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہ رانا افضل نے قوم کو متنبہ کیا تھا کہ اگر ’ ’ سرمہ “ نہیں بننا تو چپ چاپ میاں صاحب کو اپنا وزیراعظم مانتے رہو۔۔۔ اور دوسری بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہ رانا افضل فوج سے مخاطب تھے اور جنرل راحیل شریف کو متنبہ کررہے تھے کہ اسامہ بن لادن کا انجام یاد کرو۔۔۔
اس بروقت پیغام کو فوج اور قوم کے کانوں تک بڑے ” موثر “ انداز میں پہنچانے کے صّلے میں رانا افضل کو فرانس کے سفارتی دورے پر بھیجا گیا جہاں سے واپسی پر انہوں نے اپنی ” سرشاری “ کا مظاہرہ ایک اور نہایت ہی مدبرانہ بیان سے دیا ہے۔
” یہ سِرل المیڈاکی خبر کا معاملہ خواہ مخواہ بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیا ہے۔حکومتیں اکثر ایسی لیکس(leaks)کا اہتمام کیا کرتی ہیں تاکہ دنیا پر ان کا حقیقی موقف واضح ہوسکے۔ متذکرہ خبر میں جوباتیں کہی گئی تھیں وہ سب کی سب حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔ متذکرہ میٹنگ میں ’فریقین‘ کے درمیان ایسی باتیںہوئی ہوں گی اور اس خبر کی بدولت دنیا کو پتہ چل گیا کہ پاکستان کی حکومت نان سٹیٹ کرداروں کے بارے میں کس قدر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ اور اپنی فریق قوت یعنی فوج کو راہ راست پر لانے کے لئے کیسے کیسے جتن کررہی ہے۔“
یہ پورا بیان رانا افضل نے ایک سانس میں نہیں دیا۔ مختلف سوالوں کے جواب میں توڑ توڑ کر دیا۔۔۔ اتفاق ہے کہ اس مرتبہ بھی پروگرام ڈاکٹر دانش کا ہی تھا۔۔۔
اس بیان سے ایک انکشاف یہ ہوا کہ حکومت فوج کو اعلانیہ طور پر فریق سمجھتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ رانا افضل نے ان ” پُش اپس“ کو سخت جمہوریت دشمن قرار دے ڈالا ہے جو ہمارے کرکٹر ہر کامیابی کے بعد کرنے لگے ہیں۔ رانا افضل کو خیال آیاہوگا کہ کرکٹرز کی یہ حرکت تو فوج کو خراج تحسین پیش کرنے کے مترادف ہے کیوں کہ انگلینڈ کے دورے پر جانے سے پہلے ہمارے کرکٹرز کی جسمانی ٹریننگ ایبٹ آباد میں فوجیوں کی زیر نگرانی ہوئی تھی۔۔۔
” پاک فوج کے خلاف نون لیگی غم و غصہ کیا رنگ لائے گا ؟ “ یہ وہ سوال ہے جو ہر شخص کی زبان پر ہے۔۔۔
اس غم و غصہ کا کھل کر اظہار حال ہی میں طلال چوہدری نامی ایک نون لیگی نے بھی کیا ہے۔۔۔

Scroll To Top