خدا کرے کہ شاہ محمود قریشی اپنے لب ولہجے کی مٹھاس اقوام متحدہ کی فضاﺅں میں بکھیر کر واپس نہ آجائیں

aaj-ki-baat-new

میرے خیال میں لفظ ” ڈپلومیسی“ کا اُردو میں کوئی مکمل ترجمہ نہیں۔ سفارت کاری کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے مگر اس کا مفہوم وہ نہیں ہوتا جو ” ڈپلومیسی “ میں اضافی طور پر ہوتا ہے۔ وہ اضافی مفہوم کیا ہے اس کا اندازہ مجھے پہلی بار 1967ءمیں ہوا جب تب کے انفارمیشن سیکرٹری الطاف گوہر مرحوم اخبارات کے ایڈیٹرز کو ” اگر تلہ سازش “ کیس پر بریفنگ دے رہے تھے۔ یہ بریفنگ کچھ ایسی مہارت کے ساتھ دی گئی کہ اختتام پر میں الطاف گوہر مرحوم سے یہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔
” ایک سوال پوچھنے کی جسارت کرسکتا ہوں؟“
” ضرور پوچھئے۔۔۔ جناب الطاف گوہر نے جواب دیا۔
” آپ پورے چالیس منٹ بولے ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کہا کیا۔ اگر تلہ سازش اگر واقعی ہوئی ہے اور شیخ مجیب الرحمان اس کے مرکزی کردار ہیں اور اگر اس سازش کے پیچھے بھارت ہے تو کیا ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمان بھارت کے ایجنٹ ہیں۔۔۔؟“
” میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ آپ کوئی بھی نتیجہ اخذکریں اس سے میرا کوئی سروکار نہیں۔۔۔“ جناب الطاف گوہر نے جواب دیا۔
کوئی شک نہیں کہ جناب الطاف گوہر اعلیٰ پائے کے دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت زیرک ڈپلومیٹ بھی تھے۔۔۔
ڈپلومیسی کی دنیا کے گُرو ڈاکٹر کسنگر نے ایک مرتبہ کہا تھا۔ ” ڈپلومیٹ پالیسیاںنہیںبنایا کرتے ` بلکہ بنی بنائی پالیسیوں سے کھیلا کرتے ہیں ۔“
میں جناب شاہ محمود قریشی کو ایک اچھا ڈپلومیٹ سمجھتا ہوں وہ اپنی خطیبانہ صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کے لئے الفاظ او ر جملوں کو گھما پھرا کر استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کیا کرتے ہیں۔ اس کوشش میں اس بات کا امکان کافی کم ہوتا ہے کہ سامعین تک اصل بات اور اس کا مفہوم وضاحت کے ساتھ پہنچے۔
گزشتہ دنوں مودی نے ہمارے وزیراعظم کے بارے میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں اس کا مناسب جواب یوں تو خود وزیراعظم نے دیدیا ہے مگر شاہ محمود قریشی صاحب کے لئے بہترین موقع ہے کہ وہ ڈپلومیسی کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر وہ ” سچ“ کھل کر دنیا کے سامنے دہرادیں جسے دنیا خودقبول کرچکی ہے اور جس کا اثبات اور ثبوت سلامتی کونسل کی کم ازکم دوایسی قراردادوں میں موجود ہے جو بھارت نے قبول کی تھیں۔
وہ سچ یہ ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں ہونا ہے۔ اور اب جبکہ کشمیرکے لاکھوں مظلوم مسلمان بھارتی سنگینوں کے پہروں سے نکلنے کی جدوجہد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں نہ تو پاکستان اور نہ ہی باقی دنیا خاموش تماشائی بنی رہ سکتی ہے۔
کیا دنیا میں کوئی اور خطہ موجود ہے جس کی ایک کروڑ کے لگ بھگ آباد ی کو کنٹرول کرنے کے لئے آٹھ لاکھ باقاعدہ فوج متعین ہو ؟
دنیا کا ضمیر اس بات کو کیسے قبول کرسکتا ہے ؟
پاکستان کا کام دنیا کے ضمیر کو جگاناہے۔ خدا کرے کہ شاہ محمود قریشی اپنے لب ولہجے کی مٹھاس اقوام متحدہ کی فضاﺅں میں بکھیر کر واپس نہ آجائیں اور سمجھیں کہ انہوں نے ڈپلومیسی کا حق کردیا ہے۔۔۔

Scroll To Top