سپریم کورٹ : انورمجید ،عبدالغنی اورحسین لوائی کو جیل بھجوانے کا حکم

  • انور مجید کودل کا کوئی مسئلہ نہیں ،ڈیڑھ ماہ سے موجیں لگارکھی ہیں،کیا یہ سرکاری مہمان ہیں، کسی قسم کا کوئی دباو¿ برداشت نہیں کیا جائے گا،چیف جسٹس
  • جعلی بینک اکاﺅنٹس: مزید 4 33 افراد اور 33 مشکوک اکاو¿نٹس کا انکشاف ،جے آئی ٹی نے پیشرفت رپورٹ سیل شدہ لفافے میں سپریم کورٹ میں جمع کرادی

سپریم کورٹ

اسلام آباد(الاخبار نیوز)سپریم کورٹ نے انور مجید اور عبد الغنی مجید کی میڈیکل بورڈ کی طرف سے دی جانے والی میڈیکل رپورٹ کا مثبت قرار دیتے ہوئے انہیں ہسپتال سے واپس جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں ۔سپریم کورٹ میں انور مجید اور عبدالغنی کے میڈیکل بورڈ کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے انور مجید اور عبد الغنی مجید کی صحت سے متعلق قائم کردہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی ۔دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق انور مجید کا دل کا کوئی معاملہ تو ہے ہی نہیں،انکو جیل میں شفٹ کردیں،ڈیڑھ ماہ سے موجیں لگارکھی ہیں،کیا یہ سرکاری مہمان ہیں۔اس موقع پر وکیل اومنی گروپ نے کہا کہ وہ انور مجید کا ساﺅتھ سٹی ہاسپیٹل سے آپریشن کروانا چاہتے ہیں ۔ڈاکٹرز نے انور مجید کو ہیومورائڈ پر آپریشن تجویز کیا ہے ۔چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ ہیومورائڈ بیماری تو کریم سے بھی ٹھیک ہوجاتی ہے۔کیا ساو¿تھ سٹی ہسپتال ڈاکٹر عاصم کا تو نہیں؟ عبدالغنی کو دوبارہ جیل بھجنے میں کیا مسئلہ ہے۔عبدالغنی مجید اور انور مجید کو فوری جیل منتقل کریں، وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی میرا ایک پیغام دے دیں،اس کیس میں کسی قسم کا کوئی دباو¿ برداشت نہیں کیا جائے گا،اگر انور مجید اور عبدالغنی مجید کو سپرینٹینڈنٹ کے کمرے بٹھایا گیا تو اچھا نہیں ہو گا، چیف منسٹر صاحب اب یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ان کے لیے سپریٹنڈنٹ کا کمرہ حاضر ہے، اگر ہمیں پتا چلا تو ہم کاروائی کریں گے، ہو سکے تو مجبور ہو کر ہمیں پنجاب سے تحقیقات کروانی پڑیں،ہو سکتا ہے کہ یہ معاملہ سندھ سے لے کر پنجاب کے حوالے کر دیا جائے۔عدالت نے انور مجید کو آج ہی جیل منتقل کرنے احکامات دیتے ہوئے کاروائی غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی ہے۔دریں اثناء جعلی بینک اکاو¿نٹس کیس کی سماعت کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے پہلی پیشرفت رپورٹ سیل شدہ لفافے میں سپریم کورٹ میں جمع کرادی جب کہ اعلیٰ عدالت نے تمام ماتحت عدالتوں کو اومنی گروپ کے منجمد اکاو¿نٹس سے متعلق کسی قسم کا فیصلہ کرنے سے روک دیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاو¿نٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے پہلی پیشرفت رپورٹ جمع کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وقت کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا رہا اور اب تک کی ہونے والی تحقیقات کا جائزہ لیا۔ احسان صادق نے بتایا کہ مزید 33 مشکوک اکاو¿نٹس کا سراغ لگایا ہے جن کی اسکروٹنی کی جارہی ہے اور اب تک کی تحقیقات میں 334 ملوث افراد سامنے آئے ہیں اور تمام افراد اکاو¿نٹس میں ٹرانزیکشنر کرتے رہے۔جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ جعلی اکاو¿نٹس کے ساتھ 210 کمپنیوں کے روابط رہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘کیا ابھی لانچز کا معلوم نہیں ہوا، ذرا لانچ کے ذریعے رقم منتقلی کا بھی پتہ کریں’، احسان صادق نے کہا کہ ابھی لانچ تک نہیں پہنچے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے بڑے اعتماد کے ساتھ جے آئی ٹی کو ذمہ داری دی ہے، اکاو¿نٹس کا مقصد یہی ہے چوری اور حرام کے پیسے کو جائز بنایا جائے۔چیف جسٹس نے کہا ‘ایک اہم کردار عارف خان بھی ہے’ جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ وہ بیرون ملک ہے، کس ملک میں ہے ابھی ظاہر نہیں کر سکتا۔احسان صادق نے کہا کہ جو ملزمان باہر ہیں انہیں واپس لانے کے اقدامات کر رہے ہیں جس کے لیے ملزمان کے ریڈ وارنٹ کیلئے اقدامات کر رہے ہیں جب کہ تحقیقات کے لیے نیب ، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بنک سے ریکارڈ لے رہے ہیں۔جعلی اکاو¿نٹس سے متعلق کمپینوں میں 47 کا براہ راست تعلق اومنی گروپ سے ہے، سربراہ جے آئی ٹیسربراہ جے آئی ٹی نے مزید بتایا کہ جعلی اکاونٹس میں کنٹریکٹرز نے رقم جمع کرائی ہے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا ‘کیا رقم کراس چیک کے ذریعے اکاونٹس میں جمع ہوئی؟’ احسان صادق نے بتایا کہ جعلی اکاو¿نٹس کے معاملے کا جائزہ لینا پڑے گا، کمپینوں میں 47 کا براہ راست تعلق اومنی گروپ سے ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا اومنی گروپ کی کتنی شوگر ملز ہیں، سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا 16 شوگر ملز ہیں، چیف جسٹس نے پوچھا کیا اومنی گروپ کسی کا بے نامی دار تو نہیں جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے کہا کہ جعلی بینک اکاو¿نٹس میں رقم جمع کروانے والے ٹھیکیدار بھی تھے، سرکاری ٹھیکیداروں کے نام بھی رپورٹ کا حصہ بنا دیے تاہم تمام ٹرانزیکشنز کا جائزہ لینا مشکل کام ہے۔چیف جسٹس نے کہا جے آئی ٹی کا خرچہ اومنی گروپ پر ڈالیں گے، پیسہ کوئی کھائے اور خرچہ سرکار کیوں کرے۔اس موقع پر اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید و عبدالغنی مجید کے وکیل نے جے آئی تی اخراجات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تمام اکاو¿نٹس منجمد ہیں، ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی پیسہ نہیں۔چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کوئی گھر بیچ کر اخراجات کیلیے جے آئی ٹی کو پیسے دیں جس پر وکیل نے کہا اثاثے اور بینک اکاو¿نٹس منجمند ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ اومنی گروپ کے اکاو¿نٹس کھولنے کی درخواست پر فیصلہ نہ دے، آرٹیکل 184 کے تحت اسپیشل کورٹ کو حکم جاری کرنے سے روکتے ہیں اور خصوصی عدالت جعلی بینک اکاونٹس سے متعلق سپریم کورٹ کو آگاہ کئے بغیر کوئی حکم جاری نہ کرے۔عدالت نے جعلی اکاو¿نٹس کیس کی سماعت 10 روز کے لیے ملتوی کردی۔

Scroll To Top