کون کرے گا ایسے فیصلے؟ 19-09-2008

امریکہ کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ایڈمرل مائیکل مولن حکومت پاکستان کو یہ یقین دلا کر گئے کہ امریکہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے۔ ابھی ان کا طیارہ فضاﺅں میں ہی ہوگا کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے باغزچینا کے مقام پر امریکی طیاروں سے میزائل داغے گئے جن سے سات افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔
اس واقعے سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ امریکہ ہمارے ”دعویٰ ہائے خودمختاری“ کا مذاق اڑا رہا ہے اوراس نے تہیہ کررکھا ہے کہ ہمیں ہماری حیثیت اور بے بسی کا احساس باقاعدگی اور تواتر کے ساتھ دلاتا رہے۔
اگر اس امکان کو مکمل طورپر مسترد کردیاجائے کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ کسی خفیہ سمجھوتے کے تحت ہو رہا ہے اور حکومت پاکستان کے تمام احتجاج صرف رائے عامہ میں پائے جانے والے غم وغصے کو ٹھنڈا کرنے کےلئے ہوتے ہیں، تو پھر شاید وہ وقت زیادہ دور نہ ہو جب پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے باضابطہ طورپر نکلنے کیلئے کوئی واضح حکمت عملی تیار کرنی پڑے۔
یہ حقیقت اب مزید کسی ثبوت کی محتاج نہیں کہ امریکہ افغانستان میں اپنے اڈے قائم رکھنا چاہتا ہے اوراس علاقے سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیںرکھتا۔
اس مقصد کی تکمیل ایسی صورتحال کو قائم رکھے بغیر ممکن ہی نہیں کہ ہمارے قبائلی علاقوں میں بارود کی گھن گرج ہمیشہ سنائی دیتی رہے، اور امریکی پالیسی سازوں کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد ہمیشہ موجود رہیں کہ پاکستان کرہ ارض کا ایک ایسا خطہ زمین ہے جہاں ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی ”مہذب دنیا“ کی سلامتی کے لئے کبھی خطرات سے خالی نہیں ہوگی۔
ہمیںاس دلدل سے اب نکلنا ہی ہوگا۔ اوراس دلدل سے نکلنے کے لئے بڑے ہی مضبوط اور انقلابی فیصلوں کی ضرورت ہے۔
کون کرے گا ایسے فیصلے؟

Scroll To Top