جنگ کی گیڈر بھبھکی، بھارتیو! ہمت ہے تو آگے بڑھو ، موت تمہاری گھات میں ہے (قسط نمبر1)

  • بھارت کے دوچہرے، بغل میں چھری منہ میں رام رام
  • افیاز کی قیدی مودی سرکار،آئندہ الیکشن جیتنے کے لئے پاکستان دشمنی کا چورن تیار
  • راہول گاندھی کی منادی، بھارت واسیو تمہارا چوکیدار چور ثابت ہوا ہے
  • بوفورز کے بعد ریفائل لڑاکا طیاروں کا سکینڈل بی جے پی سرکار کو لے ڈوبے گا
  • مقبوضہ کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب بگاڑنے کے لئے شیطانی منصوبے
  • بھارت دوگنا لڑاکا طیارے بھی خرید لے پاکستان ایئرفورس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، بھارتی ایئرچیف کا اعتراف

عجب پتلی تماشہ
ایک روز پتلی کوٹ پتولن میں ملبوس بزبان انگریزی اقرار ہی اقرار
دوسرے روز مگر یہی پتلی کرتا پاجامہ زیب تن کئے ہندی زبان میں سراپا، انکار ہی انکار
پتلی کریکٹر کا نام رویش کمار، بھارتیہ جتنا پارٹی ، حکومت اور پس پردہ رہتے ہوئے نریندر مودی سرکار کی ڈوریاں ہلانے والے مقتدر مافیاز کا چہرہ اور چہرہ اور مہرہ اور بھارتی دفتر خارجہ کا ترجمان۔
پہلے روز کا تماشہ عالمی دنیا پر اپنی امن پسندی کا راگ الاپنے کے لئے، دوسرے روز کا ناٹک بھارتی جنتا کے لئے کہ جس کے ہاں پاکستان دشمنی کا نعرہ بکتا ہے۔2019الیکشن کا سال ہے۔اسی کو بھارتی برانڈ کہا جاتا ہے یعنی بغل میں چھری منہ میں رام رام۔
وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اور بعد میں قوم کے نام اپنے دو مکالموں میں پوری دنیا میں بالعموم اور اپنے ہمسائیوں کے ساتھ بالخصوص پرامن بقائے باہمی کو جو پہل کی تھی اور چند روز پہلے اپنے بھارتی ہم منصب کو اسی موضوع پر جو خط ارسال کیا تھا،اس کے نتیجے میں ہی پاکستان اور بھارت کے وزرا خارجہ کے مابین طے پایا کہ وہ 27ستمبر سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کے اجلاس میں یو این او کی راہداریوں میں ملاقات کریں گے۔دونوں ہمسایہ ممالک کے امن پسند حلقوں میں عمران خان صاحب کے حوالے سے ہونے والی اس پیش رفت پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔ مگر کیا کیجئے ابھی اس اظہار کی صدائے بازگشت فضا میں موجود ہی تھی کہ بھارت میں سرگرم عمل امن دشمن قوتوں نے اس پیش قدمی کو شروع ہی میں سبوتاژ کرنے کی ٹھان لی۔
مقتدر پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیر اظر یہ امن دشمن قوتیں درحقیقت بھارت سرکار کے لئے مروغ دست آموز کا کردار ادا کرتی ہیں یعنی حالات کے مطابق ان قوتوں کو کسی بھی مذموم ہدت تک پہنچنے کے لئے سڑکوں پر احتجاجی لاوے کی صورت میں بہایا جا سکتا ہے۔ کوئی بڑی ہنگامہ آرائی بھی نہ ہوئی۔ صرف نئی دلی اور گجرات میں چند ایک مقامات پر کچھ ٹھوں ٹھاہ کرائی گئی اور خطے میں فروغ امن کی پاکستانی خواہش و کاوش کو بھارت دیش کے لئے بزدلی کا طعنہ بنا کر پیش کر دیا گیا۔
اسی دوران وزیر اعظم نریندر مودی کو اسی کے مشیروں وزیروں اور اندرونی و بیرانی ”اتالیقوں“ نے یہ پٹی پڑھائی کہ اگر نریندر مودی کو اپنی حکومت بچانی ہے، اور اپنے خلاف سیاسی و مالیاتی حوالوں سے امنڈھتے ہوئے طوفانوں سے محفوظ رہنا ہے تو عمران خان حکومت سے آنے والے پیغام امن اور فروغ دوستی کا جھٹکا کر دیا جائے اور آنے والے ایام میں پاکستان دشمنی کا چورن بیچنے کیلئے ایسا ماحول تیار کیا جائے جس کے نتیجے میں بھارتی عوام ایک طرف مودی کو چمٹے ہوئے مالیاتی بد عنوانی کے سکینڈلوں کو فراموش کردیں اور دوسری طرف ان کی سارتی توجہ پاکستان دشمنی پر مرکوز ہو کر رہ جائے۔ یاد رہے بھارت میںجتنا پارٹی، راشٹریہ سیوک سنگھ( آر ایس ایس) اور دیگر چھوٹے بڑے انتہا پسند پریشر گروپس پاکستان دشمنی کا سودا بہت اچھے بھاو¿ پر خرید لیتے ہیں۔ اور بھارت کے ظاہری اور غیر ظاہری ، پیشِ منظر پر رہنے والے اور پس منظر کو ترجیح دینے ولاے” مقتدر“ حلقوں کا سب سے بڑا مفاد یہی ہے کہ پاکستان دشمنی کی فضا پیدا کر کے عامتہ الناس کی توجہ کچھ مقتدر طبقوں کی چھوٹی بڑی حرام پائیوں سے مبذول کر ا کے اور مودی سرکار کی خامیوں کوتاہیوں اور کمیوں کجیوں پر پردہ ڈال کر2019کے الیکشن میں انتخابات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کر کے راہول گاندھی کی کانگریس اور اس کی اتحادی قوتوں کو شکست فاش سے دوچار کر دیا جائے۔
آگے بڑھنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ یہاں ہم مودی سرکار سے جڑے بالواسطہ اور بلا واسطہ مسائل، پیچیدگیوں اور گھمبر تاو¿ں کا ایک سرسری سا جائزہ لے لیں تا کہ بھارت سرکار کی عمران حکومت کی فروغ امن کی انتہائی دانش مندانہ پیش رفت کو ٹھکرانے کے تمام حقائق کھل کر ہمارے سامنے آجائیں۔علیحدگی کی تحریکیںبھارت کا ایک بڑا مسئلہ سے وہاں پھیلی ہوئی دو درجن سے زائد علیحدگی کی تحریکیں ہیں۔ جن میں سب سے متحرک اور موثر تحریک آزادی کشمیر کی ہے۔ جسے دبانے کے لئے بھارت ایک تک بیسیوں ناکام حربے اختیار کر چکا ہے۔ ان میں مقامی حریت پسندوں پر پیلٹ بلٹنگ جس سے خارج ہونے والی گیس انسانی بینائی ختم کر دیتی ہے۔ اب تک بیسیوں کشمیری نوجوان اس بھارتی ظلم سے بصارت سے محروم ہو چکے ہیں۔ مختلف وبائی بیماریوں سے بچاو¿ کے لئے بچوں میں ٹیکے لگانے کی سکیم شروع کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ماہرین طب کا کہنا ہے کہ بچوں میں تولیدی صلاحیت ماند پڑ جاتی ہے۔ اس سکیم کا ایک مقصد کشمیر میں مسلمان آبادی کا تناسب برباد کرنا بھی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت سرکار جموں اور گردونواح کی وادیوں میں جہاں ہندو آبادیاں موجود ہیں، افزائش نسل کے پروگرام شروع کر چکی ہے، مزید براں دوسرے علاقوں سے ہندووںکو نقل مقانی کرا کے کشمیر کے مختلف علاقوں میں بسایا جارہا ہے۔
ریفائل کرپشن سیکنڈل ، ماضی میں بغور توپوں کے سکینڈل کی مثل ان دنوں مودی سرکار اور ان کی ذات ریفائل طیارہ سکینڈل کے گرداب میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ ماضی میں کانگریس حکومت نے فرانس سے ریفائل فائٹر پر کرافٹس خریدنے کا معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اس وقت کے نرخوں کے مطابق 56ہزار کروڑ روپے میں بھارت کو126لڑاکا طیارے لینا تھے۔ تاہم کانگرنس حکومت کے خاتمے پر یہ سودا ختم ہو گیا۔اب مودی سرکار نے 36لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ البتہ اس سودے میں ڈنڈی یہ ماری ہے کہ ان طیاروں کی خریداری کے پروجیکٹ کو اپنے ایک قریبی دوست ریلائنس انڈسٹریز کے ٹائیکون انیل امبانی کی تحویل میں دے دیا ہے۔ماہرین کے مطابق امبانی اور اس کے ادارے کو اس سے پہلے لڑاکا طیاروں کے بزنس کا رتی بھر تجربہ نہیں ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس نے پورے بھارتی میں بغور توپون کے بعد ریفائل ایئر کرافٹس سکینڈل کو مودی کی ذات اور حکومت کے لئے وبال جان بنا کر رکھ دیا ہے ۔ کانگریس پارٹی کے سربراہ راہول گاندھی نے اس گھمبیر صورت حال اور کرپشن کے میگا سکینڈل کو مودی سرکار کی طرف سے بھارتی معیشت کے لئے زہر قاتل قرار دیا ہے اپنے عوام کے نام ایک پیغام میں راہول گاندھی نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ” بھارت باسیوں تمہارا چوکیدار چور ثابت ہوا ہے“ انہوں نے سابق فرانسیسی موسیو الاندے کا بھی حوالہ دیا جو مودی کو بددیانت اور کرپٹ حکمران قرار دے چکے ہیں۔
یہ ہیں وہ اہم عوامل جو مودی سرکار اور اس سے جڑی ان کی اپنی ذات اور اس کے سرپرست مافیاز کو ازحد پریشان کئے ہوئے ہیں۔چنانچہ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے بھارتی پالیسی سازوں نے اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں اپنے لئے بہتر نتائج حامل کے لئے پہلے سے ہی پیش بندی کے اقدامات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان دشمنی کا چورن بیچا جائے گا۔پاکستان دشمنی سے جڑے مختلف اقدامات بھی اسی مکروہ سلسلے کا حصہ ہیں۔ جن میں ایل اوسی پر جھڑپیں اور پاکستان کو دباو¿ میں لانے کے لئے دھونس دھاندلی کے بیانات بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے کا پہلا بیان بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کی ایک گیڈر بھبھکی ہے جس میں موصوف کا کہنا ہے کہ آئندہ ہم اپنے مطلب کی جگہ پاکستان میں سٹرائیک کریں گے اور پاکستان کے ساتھ اسی زبان میں بات کریں گے جو وہ سمجھتا ہے ۔ پاکستان کو درد محسوس کرائیں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ردیش کمار کا کہنا تھا عمران خان کا اصلی چہرہ پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے۔ پاکستان نہیں سدھرے گا۔
اس ہرزہ سرائی کے جواب میں افواج پاکستان کے ترجمان نے ببانگ دہل کہا کہ بھارت ہماری امن کی خواہش کو کمزور نہ سمجھے وہ جنگ کا شوق پورا کرنا چاہتا ہے تو کر لے اس لگ پتہ جائے گا اس کا واسطہ کس طاقت سے پڑا ہے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان اپنے ٹویٹ پیغام میں برملا کہا کہ انہوں نے چھوٹے لوگوں کو بڑے عہدوں پر دیکھا ہے وہ بصارت اور بصیرت سے یکسر محروم ہوتے ہیں۔
حرف آخر، بھارتی ایئر چیف برندر سنگھ ڈانوا کا بیان سن لیجئے ان کا کہنا ہے بھارت موجودہ تعداد سے دوگنے لڑاکا طیارے بھی خرید لے وہ کبھی پاکستان ایئر فورس پر سبقت نہیں لے جا سکتا، اس کا تفصیلی جائزہ کل کی قسط میں ملاحظہ کیجئے۔
(جاری ہے)

Scroll To Top