اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ حیران کرگیا

  • ۔۔۔۔نوازشریف اور مریم نواز اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت مخالف تحریک چلاسکتے ہیں۔
  • ۔۔۔ مقدمات ختم نہیں ہوئے مگر پی ایم ایل این سزا معطل کرنے کو ”حق سچ “ کی فتح قرار دے رہی
  • ۔۔۔سوال یہ ہے کہ کیا نوازشریف ، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائر صفدر کی رہائی ڈیل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے
  • ۔۔۔کیا وجہ ہے کہ نیب حکام اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف پوری قوت کے ساتھ پیش کرنے میںناکام رہے

zaheer-babar-logo

میاں نوازشریف ،مریم نواز اور کیپٹن ریٹائر صفدر کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد رہائی عمل میںآنا بہت سارے لوگوں کو حیران کر گیا۔ چھ جولائی کو احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم کو گیارہ سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو آٹھ سال اور داماد کیپٹن ریٹائر صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے میاں نوازشریف پر 80 لاکھ پاونڈ ( ایک ارب دس کروڈ سے زائد ) اورمریم نواز پر 20لاکھ پاونڈ (30کروڈ روپے سے زائد ) کا جرمانہ کیا تھا۔ احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میںموجود ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ “
بظاہر میاں نوازشریف اور مریم نواز کی جیل کی رہائی سے ملکی سیاست پر اثرات مرتب کرنے جارہی ۔ محض چند ہفتوں کی قید کے بعد ہی باپ بیٹی کا باہر آجانا بتا رہا کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوا جس کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ یہ سوال بھی پوچھا جارہا کہ آخر کیوں نیب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے موقف بھرپور انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہی۔دوسری جانب توقعات کے عین مسلم لیگ ن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو اپنی قانونی ، سیاسی اور اخلاقی فتح قرار دی رہی ۔ پی ایم ایل این مسلسل یہ تاثر دے رہی کہ ” حق اور سچ “ کی فتح ہوئی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے بھی اپنی رہائی کے لیے عدالتی حکم کی اطلاع ملتے ہی اسے ” انصاف کی فتح “ قرار دے ڈالا ۔
ایک نقطہ نظر ہے کہ آنے والے دنوں میںمیاں نوازشریف اور مریم نواز دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت کے لیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ عام انتخابات سے قبل سابق اور ان کی صاحبزادی قومی اداروںسے متعلق جو موقف اختیار کرتی رہی امکان یہی ہے کہ ایک بار پھر اسی بیانیہ کو شدت کے ساتھ سامنے لایا جائیگا۔ مسلم لیگ ن کے اندرونی حلقوں کے بعقول سابق وزیر اعظم اس پر دل وجان سے یقین رکھتے ہیں کہ ان کی اصل قوت ہی محاذآرائی ہے مثلا ان کے بعقول اگر وہ بے نظیر بھٹو کے خلاف جارحانہ سیاست نہ کرتے تو شائد کبھی بھی قومی سطح کے لیڈر بن کر نہ ابھرتے۔ پانامہ لیکس کو بھی میاں نوازشریف ایک سازش سے تعبیر کرتے ہیں ان کے بعقول 25 جولائی کے عام انتخابات میں انھیں اور ان کی پارٹی کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ کھیل کھیلا گیا۔“
سیاسی پنڈت ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ بھی پوچھ رہے کہ کیا نوازشریف اور مریم نواز کی رہائی کسی ڈیل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یہ قیاس آرائی بھی کی جارہی کہ جس طرح جیل سے رہائی ممکن ہوئی اسی طرح ای سی ایل سے ان کا نام بھی ہٹ سکتا ہے جس کے نتیجے میں وہ بیرون ملک روانہ ہوسکتے ہیں۔یاد رہے کہ وطن عزیز میں سازشی تھیوریوں کی کسی صورت کمی نہیںمگر ان حالات میں یہ جاننا مشکل ہے کہ کب اور کیسے افواہیںسچ ثابت ہو جایا کرتی ہیں۔
ایک قیاس آرائی یہ ہے کہ اگر میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کی ضمانت کی مدد بڑھتی رہتی ہے تو غالب امکان ہے کہ وہ ملک کے مختلف شہروں بالخصوص پنجاب میںجلسے جلوسوں کا آغاز کردیں۔ سمجھ لینا چاہے کہ میاں نوازشریف جیل جانے سے قبل کئی بار کہ چکے کہ مخصوص سیاسی جماعت کو آگے لانے کے لیے ان کے خلاف سچے جھوٹے مقدمات قائم کیے گے۔“
ان دنوں ملک جن مسائل کا شکار ہے اس کی موجودگی میں کسی غلطی کی گنجائش موجود نہیں۔ ایک طرف داخلی طور پر ان گنت مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں تو دوسری جانب خارجہ محاذ پر بھی سب اچھا نہیں۔ بھارت ہی نہیں ایران اور افغانستان جیسے پڑوسی ملکوں سے دوستانہ تعلقات نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ یقینا یہ افسوسناک ہے کہ قومی سیاست تاحال پختگی کی اس معراج کو نہیں پہنچی جس کی بجا طور پر ضرورت ہے۔ہر جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتوں کی بالغ نظری کے نتیجے میں جہاں عام لوگوں میں اتفاق واتحاد کو فروغ ملتا ہے جس سے ریاست کی بنیادیں بھی مضبوط ہوا کرتی ہیں۔
نئی صورت حال میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر دباو بڑھ چکا ۔ وزیر اعظم عمران خان کے لیے 100دنوں میںبیشتر قومی مسائل حل کرنا پہلے ہی بڑا چیلنج ہے۔ اب اگر میاں نوازشریف مختلف حیلے بہانوں سے پی ٹی آئی حکومت کی مشکلات بڑھاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی حکومت کا مذید دباو میں آنا خار ج ازمکان نہیں۔
آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن کی سیاست میں جارحانہ پن آنے کی امید کی جارہی مگر پی ایم ایل این میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو میاںنوازشریف کو قومی اداروں سے تصادم کی بجائے تعاون پرآمادہ کرسکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل تو ہوتا نہیں مگر بعض حضرات کے بعقول آج کی آنکھ میں حیا بھی نہیں ہوتی جو اسے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے پر مجبور کردے۔ میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کی جیل سے رہائی پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا پر بہت کچھ لکھا جارہا۔ اس ضمن میں خود مسلم لیگ ن بھی سوشل میڈیا پر خاصی متحرک ہے جس کے نتیجہ میں جلد ہی بہت سارے رازوں سے پردہ اٹھنے کی امید ہے جس سے یقینا پی ایم ایل این کے خوشگوار اثرات مرتب نہیں ہونے والے۔

Scroll To Top