امیرالمومنین جارج فرنانڈس ! 26-12-2013

kal-ki-baat
صبح صبح دنیا نیوز کے پروگرام میں ممتاز صحافی و تجزیہ نگار جناب رﺅف کلاسرا جناب سعید قاضی سے بحث میں پی پی پی کے نوخیز رہنما جناب بلاول بھٹو کو اپنی ” انقلابی “ سوچ پر بڑے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کررہے تھے ` اور میں دم بخود ان کی ” گوہر فشانیاں “ سن رہا تھا۔
ٹویٹر پر جناب بلاول بھٹو کا ایک پیغام چلا ہے جس میں انہوں نے آئین میں ایک چونکا دینے والی ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ گڑھی خدا بخش میں زیڈ اے بھٹو مرحوم اور مرحومہ بے نظیر بھٹو دونوں کی قبروں میں زبردست ارتعاش یا زلزلہ محسوس کیا گیا ہوگا۔ خاص طور پر محترمہ بی بی بہت بُری طرح چونکی ہوں گی کیوں کہ بلاول بھٹو ان کا ہی لخت جگر ہے۔ یہ اور بات ہے کہ موصوف کی رگوں میں خون زرداری صاحب کا دوڑ رہا ہے۔
جناب بلاول بھٹو نے فرمایا ہے کہ 1973ءکے آئین میں جو سقم رہ گئے تھے ان میں سب سے بڑا یہ ہے کہ اس میں صدر اور وزیراعظم کے مسلمان ہونے کی شرط رکھی گئی ہے۔ بلاول بھٹو کی نظر میں یہ سراسر بے انصافی ہے ۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ایساوقت آناچاہئے جب پاکستان کاوزیراعظم کوئی رامچند یا کوئی الفریڈ براﺅن ہو۔
یہ خواہش اکیلے بلاول بھٹو اور رﺅف کلاسرا کی نہیں ۔ ہمارے بہت سارے لبرل دانشور پاکستان کو ” ڈی اسلامائز “ کرکے اسے اس کی اساس سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
ویسے ایک لمحے کے لئے آپ بھی سوچیں کہ اگر آپ کو پاکستان کے سربراہ حکومت یا سربراہ مملکت کو ” امیر المومنین جارج فرنانڈس“ کہنا پڑے تو آپ کیا محسوس کریں گے ؟
اللہ تعالیٰ ہمارے لبرل روشن خیال اور سیکولر دانشوروں کے حال پر رحم کرے !

Scroll To Top