سعودی عرب میں ایک لاکھ سال قبل کے آثار قدیمہ دریافت

v

چٹانوں پر پتھر کے دور کے نقش و نگار کندہ ہیں۔ فوٹو : سعودی پریس ایجنسی

ریاض: سعودی عرب کے پہاڑی علاقے میں ماہرین آثار قدیمہ نے ایک ایسی جگہ دریافت کی ہے جہاں پتھر کے دور کے نقش و نگار کندہ ہیں اور یہاں سے یادگار نوادرات بھی ملے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے جنوب پہاڑی سلسلے میں سعودی اور فرانسسی ماہرین آثار قدیمہ نے ایک لاکھ سال قدیم ’آرکیولوجیکل سائٹ‘ دریافت کی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آثار قدیمہ جنوبی پہاڑی سلسلے الخرج سے دریافت ہوئے ہیں۔ جہاں سعودی کمشنر برائے سیاحت اور قومی ورثہ کی سربراہی میں ریسرچ ٹیم فرانس کے محققین کے ہمراہ تحقیق میں مصروف تھے۔

سعودی کمشنر برائے قومی ورثہ کا کہنا ہے کہ یہ آثار قدیمہ پہلی مرتبہ الخرج سے دریافت ہوئے ہیں، یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس سے ہمیں اپنے ماضی کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ سائٹ پر کھدائی کا عمل جاری ہے اور مزید نوادرات کے دریافت ہونے کا امکان ہے۔

آرکیولوجیکل سائٹ میں پہاڑوں کی چٹانوں پر پتھر کے دور کے نقش کندہ ہیں۔ تحریر کو پڑھنے کے لیے ماہرین کو طلب کر لیا گیا ہے۔ ان تحریروں سے خطے کی تہذیبی روایت اور طرز معاشرت کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

Scroll To Top