فاقہ کشی سے رگیں جوان رہتی ہیں، تحقیق

s

بی ٹا ہائیڈروکسی بیوٹائریٹ مالیکیول جسم میں فاقے کے دوران بنتا ہے جو خون کی رگوں کو جوان رکھتا ہے۔ (فوٹو: فائل)

جارجیا: تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ فاقے (یا روزے) سے جسم کی اندرونی وریدیں اور شریانیں طویل عرصے تک جوان رہتی ہیں۔

اگرچہ وقفے وقفے سے فاقوں اور روزوں کے وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ کئی فوائد سامنے آتے رہے ہیں لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ روزے سے جسم میں ایک خاص سالمہ (مالیکیول) پیدا ہوتا ہے جو رگوں اور شریانوں کی عمر رسیدگی کو روک کر انہیں تادیر جوان رکھتا ہے۔

جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے  ماہرین نے طویل مطالعے کے بعد کہا ہے کہ روزے اور کم کاربوہائڈریٹس والی غذاؤں کے استعمال سے جسم جس کیفیت میں آتا ہے اس میں اضافی چکنائیاں گلوکوز کے بجائے توانائی جمع کرنے لگتی ہیں۔ اس عمل میں ایک مالیکیول ’’بی ٹا ہائیڈروکسی بیوٹائریٹ‘‘ پیدا ہوتا ہے جو خلیات کے حیاتیاتی چکر (لائف سائیکل) پر اثرانداز ہوتے ہوئے ان کی عمررسیدگی کو روکتا ہے۔

اس کا انکشاف تحقیق میں شامل اہم سائنسدان ڈاکٹر مِنگ ہوئی زو نے کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فاقے سے خلیات میں مائٹوکونڈریائی سرگرمیاں بھی تبدیل ہوجاتی ہیں۔

خلوی سطح پر جاری یہ تبدیلی ان کی زندگی بڑھاتی ہے، عمر رسیدگی کو روکتی ہے اور یوں پورے بدن پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بی ٹا ہائیڈروکسی بیوٹائریٹ مالیکیول پورے جسم کی رگوں میں خلیات کی بے عملی کو درست وقت پر بریک لگاتے ہوئے خلوی تقسیم (سیل ڈویژن) بڑھاتا ہے اور انہیں بوڑھا ہونے سے روکتا ہے۔

جب اس مالیکیول کو چوہوں پر آزمایا گیا تو انکشاف ہوا کہ یہ اسٹیم سیل کو بھی تحریک دے کر خون کی رگوں کو جوان رکھتا ہے۔ یہ کوئی معمولی عمل نہیں کیونکہ شریانوں کا جوان رہنا امراضِ قلب سے لے کر الزائیمر جیسی خطرناک اور جان لیوا بیماریوں تک کو روکتا ہے۔ اسی لیے فاقے کی اس افادیت کو غیرمعمولی قرار دیا جاسکتا ہے۔

Scroll To Top