عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر کمیٹی کا قیام

zaheer-babar-logoریکارڈ پر ہے کہ 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت کو ملک کی بیشتر سیاسی جماعتوں نے قبول نہ کیا۔ پی پی پی اور پی ایم ایل این کی قیادت میں الیکشن کے فورا بعد ہی اپوزیشن پارٹیوںکا ”اتحاد “ سامنے آیا جس نے انتخابات میں ملکی تاریخ کی بدترین دھاندلی ہونے کا واویلا کرنا شروع کردیا۔ ادھر وزیر اعظم عمران خان نے عام انتخابات میںکامیابی کے فورا بعد کی جانے والی تقریر میں دوٹوک انداز میں کہا کہ اپوزیشن سے تعاون کیا جائیگا اور دھاندلی کے حوالے سے حکومت تحقیقات میں بھرپور مدد فراہم کریگی۔
یقینا اہم ہے کہ الیکشن 2018کے فورا اپوزیشن جماعتیںایک دوسرے کے قریب تو آئیں مگر” متحدہ اپوزیشن “ کا تاثر زیادہ دیر قائم نہ سکا نتیجہ یہ نکلا کہ اسمبلی کے سپیکر سے لے نئے صدرپاکستان تک سارے مرحلے پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی سے عبور کرلیے ۔ اپوزیشن جماعتوں میںپائی جانے والی تقسیم سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ مثلا پاکستان مسلم لیگ ن کا موجودہ نظام میںکوئی سٹیک نہیں۔ وفاق اور پنجاب میں ہی نہیںپی ایم ایل این کہیں بھی حکومت میں شامل نہیں چنانچہ لامحالہ طور پر مسلم لیگ ن کی کوشش یہی ہے کہ پی ٹی آئی کو ممکن حد تک ٹف ٹائم دیا جائے۔ دوسری طرف پی پی پی ہے جو اور تو نہیں البتہ سندھ کی حکومت پر براجمان ہے۔ لہذا پاکستان پیپلزپارٹی کسی طور پر نہیں چاہتی کہ جاری نظام میں ایسی رکاوٹ آجائے جس سے سندھ میں اس کے اقتدار کو خطرات لاحق ہوجائیں۔بعض حلقے یہ بھی دعوی کررہے کہ مسلم لیگ ن کی بجائے پی پی پی کی کوشش ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو حکومت کرنے کا پورا موقعہ دیا جائے تاک آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کی ناکامیوںکو بنیاد بنا کر اپنی سیاست چمکائی جائے۔ بظاہر پاکستان تحریک انصاف ایک طرف تو ملکی مسائل کو اپنے طور پر حل کرنے کے لیے کوشاں ہے تو دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتوں کے اعترضات بھی دور کرنے کی کوشش ہورہی۔ مثلا حکومت نے عام انتخابات میںدھاندلی کے الزامات کا جواب دینے کے لیے اپوزیشن پارٹیوں کے مطالبہ پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی گی جسے اکژیت نے منظور کرلیا۔ اس تحریک کے متن کے مطابق مذکورہ کمیٹی تحقیقات کے لیے ٹی اور آرز تیار کریگی اورآئندہ دھاندلی کی روک تھام کے لیے اقدمات بھی تجویز کیے جائیں گے۔ “
اس میں دوآراءنہیںکہ وطن عزیز میں شفاف انتخابات کا انعقاد تاحال خواب ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ تاحال قومی سیاسی جماعتوں نے سنجیدگی کے ساتھ ایسے اقدمات نہیں اٹھائے جس کے نتیجے میں شفاف و غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جاسکے ۔ بظاہر وجہ یہی ہے کہ سیاسی اشرافیہ سمجھتی ہے کہ جاری نظام ہی اس کی کامیابی میں معاون کا کردار نبھا رہا چنانچہ کسی طور پر اس سسٹم کو ختم نہ کیاجائے۔
دنیا کے ہر جمہوری ملک میں الیکشن میں شفافیت کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر عام انتخابات مشکوک قرار پائیں گے تو اس کے نتیجے میں جمہوری نظام عوام کی نظروں میں اپنی ساکھ بحال نہیں کرپائے گا۔وطن عزیز میں جمہوریت کا پودا تاحال تناور درخت نہیں بن سکا لہذا ایسے خدشات اور خطرات کا واویلا کیا جاتا ہے جس میں نظام کی کمزوری کی دہائی دی جاتی ہے۔ یہ سمجھ لینا چاہے کہ دنیا کے پختہ جموری نظاموں میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کبھی بھی کہیں بھی ایسے مسائل پیدا نہ ہوں جو ریاست میںعدم استحکام کے ماحول کو فروغ دیں۔ بدقسمتی کے ساتھ ہمارے ہاں ایسا نہیں سوچا جاتا۔
پاکستان تحریک انصاف کو اس بات کا کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہوگی کہ اس نے موجودہ نظام کی خرابیوں پر مسلسل تنقید کرکے اسے بری طرح بے نقاب کرڈالا ۔ عوام کو پیغام دیا گیا کہ ملک کی نمایاں سیاسی جماعتیں اندرون خانہ مک مکا کرچکیں کہ لوگوں کو کسی قیمت پر ان کے حقوق سے آشنا نہیں ہونے دینا۔ پی ٹی آئی اس لحاظ سے یہ تبدیلی ضرور لائی کہ خیبر تا کراچی عام پاکستانی اپنے حقوق کے حوالے سے نہ صرف آگاہ ہوچکا بلکہ اس پر بھی اصرار کررہا کہ اسے اس کا جائز آئینی قانونی حق دیا جائے۔
تازہ پیش رفت میں شبہازشریف اوربلاول بھٹو زرداری نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کے فیصلہ کو خوش کن قرار دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے بھرپور تعاون کریں گے اور حکومت سے بھی امید رکھی جائے گی کہ وہ معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اس کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔
اپوزیشن جماعتوں کو سمجھ چاہے کہ حزب اختلاف کے طور پر ان کی زمہ داری کئی گنا ہے۔ بعض مبصرین کا ہیہ کہنا غلط نہیں کہ اگر حکومت اپنی زمہ داری پوری نہیںکررہی تو اس کی ایک وجہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا بھرپور کردار ادا نہ ہونا بھی ہے ۔ آنے والے دن ایک طرف حکومت کے لیے اہمیت کے حامل ہیں تو دوسری جانب اپوزیشن کا بھی امتحان ہے کہ وہ عوام کوریلیف فراہم کرنے میں کب اور کیسے کامیاب ہوتی ہوتی ہے۔ یاد رکھنا چاہے کہ آج ملک میں الیکشن میں دھاندلی کے علاوہ بھی بہت سارے مسائل ایسے ہیں جن پر اہل سیاست کو پہلی فرصت میں توجہ دینا ہوگی ۔

Scroll To Top