پاک برطانیہ انصاف احتساب معاہدہ، اُدھر دستخط ہوئے اِدھر عمل شروع

gulzar-afaqi
پی ٹی آئی کی قیادت ایک بڑی کامیابی کو کیوں سینت سمیٹ نہ سکی
سوال یہ ہے ایان اور فرحان جیسے چہرے کن کی دھن پر ناچتے ہیں
وہ دن دور نہیں جب نون لیگ کے مغرور مجرمین بھی وطن واپس لائے جائیں گے

نرم ترین الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت عاقبت نا اندیش ثابت ہوئی وہ ایک بڑی کامیابی کو سینت (سمیٹ ) نہ سکی۔
پروجیکشن ندارد،عوامی حلقوں میں ابلاغ نہ ہونے کے برابر۔ حالانکہ حکومتوں کے پاس عوام میں اپنی ساکھ اجالنے کے ایسے ہی مواقع ہوتے ہیں۔ جائز ، مناسب اور حسب حال۔
پاکستان اور برطانیہ کے مابین انسداد منی لانڈرنگ ملزمان کی حوالگی اور لوٹی ہوئی دولت اور دیگر اثاثوں کی واگذاری بابت انصاف اور احتساب کا جو معاہدہ طے پایا ہے وہ ہماری تاریخ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کے طویل ادوار میں ایسا کیوں نہ ہو سکا۔ جواب بہت سادہ اور واضح ہے۔ ان حکومتوں اور ان کی قیادتوں کے ہاں سیاسی قوت ارادی کی کمی بلکہ معدومیت اور یہ کہ ان کے اپنے ہاتھ لوٹ کھسوٹ کی دولت میں رنگے ہوتے تھے۔
ایسا معاہدہ صرف ایسی قیادت ہی کے ساتھ ممکن تھا جو خود بے پناہ سیاسی قوت ارداری، پختہ عزم اور دیانت ، امانت اور اصابت کے اوصاف سے مالا مال ہو۔ عمران خان صاحب اس معیار پر ہر اعتبار سے پورے اترتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پچھلے ایک ماہ کے دورانیے میں نصف درجن سے زئد وزرائے خارجہ وداخلہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ اور تازہ ترین مثال برطانوی وزیر داخلہ پاکستان نژاد سجاد جواد کی ہے۔ جنہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصبوں اور وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر اور بطور خاص جناب عمران خان کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات کئے۔ ان دونوں رہنماو¿ں کی بدن بولی سے یہ حقیقت پورے طور پر عیاں تھی کہ وہ دونوں ملکوں کو لوٹ کھسوٹ کی دولت، منی لانڈرنگ کے ہر ذریعے اور مجرموں کی حوالگی کے اعبار سے ایک ہی پیج پر ہیں۔
یہاں اس حقیقت کا اظہار بھی ناگزیر ہے۔ کہ بہت کم ہوا ہے کہ ادھر کوئی معاہدہ ہوا ادھر اس پر فوری عملدرآمد بھی شروع ہوگیا۔ مگر ہمارے معاملے میں ایسا ہوا ۔ جس وقت اسلام آباد میں انصاف و احتساب کا دو ملکی معاہدہ طے پا رہا تھا عین اسی وقت لندن میں نیشنل کرائم ایجنسی ( این سی اے) منی لانڈرنگ کے ایک بڑے ملزم پر ہاتھ ڈال رہی تھی۔ سندھ کار ہنے والا ایک چالیس سالہ منی لانڈرر اور اس کی بیوی پابند سلاسل ہو چکے تھے۔ان پر فوری الزام 80لاکھ پاو¿نڈ منی لانڈرنگ کا ہے جس سے انہوں نے زرداری کے بدنام زمانہ سرے محل والے علاقے سرے کاو¿نٹی میں ایک عالیشان ولا خرید رکھا ہے۔ تفتیش پر وہ اس ولا کی خریداری رقم کا کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ ذرائع کے مطابق فرحان جونیجو نے یہ رقم ہنڈی اور حوالے کے ذریعے برطانیہ منتقل کی تھی۔ مگر اس کام میں پختہ ذہن مجرموں کاطریقہ واردات استعمال کیا گیا تھا۔ یعنی رقم پہلے یو اے ای بھیجی گئی۔ وہاں سے سوئٹرز لینڈ، پھر امریکہ اور آخر میں اسے لندن منتقل کر دیا گیا۔
فرحان جونیجو بابت بہت دلچسپ شواہد سامنے آئے ہیں، جس سے بعض حلقوں میں ایان علی کی یادیں بھی تازہ ہوئی ہیں۔ یہ شخص کراچی میں انسداد دہشتگردی کے جج نبی شیر جونیجو کا بیٹا ہے جنہیں قتل کر دیا گیا تھا۔پیپلز پارٹی کے سنیئر رہنما مخدوم امین فہیم کے خانوادے سے قربت کے سبب سے اسے اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ ازاں بعد جب امین فہیم وفاقی وزیر صنعت وتجارت مقرر ہوئے تو انہوں نے فرحان جونیجو کو اپنا ڈائریکٹر مقرر کر لیا۔ یہاں سے اس کی دولت آفرینی کے قصے بہت نکلتے رہے۔ انہیں میں ایک کا تعلق سرکاری اراضی میں خر برد سے تھا ، فرحان گرفتاری سے بچنے کیلئے ملک سے راہ فرار اختیار کر گیا۔ 2013میں ایف آئی اے نے اربوں روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر منتقل کرنے کا سراغ لگایا اور دستاویزی ثبوتون کے ساتھ یہ کیس تیار کیا۔ اسی دوران ایک اور اہم جرم کا انکشاف ہوا۔ اس کا تعلق ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) سے تھا۔
ذرائع کے مطابق فرحان جونیجو نے اس ادارے سے وابستگی کے دوران کم و بیش پانچ ارب روپے کی منی لانڈرنگ کرتے ہوئے اہم مالی وسائل بیرون ملک منتقل کئے۔ ذرائع کے مطابق اس دوران فرحان نے برطانیہ کی شہریت بھی اختیار کر لی۔ اس نے ناجائز دولت کو چھپانے کے لئے کئی جعلی کمپنیاں بھی قائم کیں۔ جن میں کسی نوع کی تجارت نہیں ہوتی تھی۔ البتہ ناجائز دولت کو یہاں سے وہاں اور ادھر سے ادھر پہنچانے کے لئے ان کمپنیوں کو ایک آڑ کے طورپر استعمال کیا جاتا تھا۔
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوسط مالی حیثیت کا شخص اسقدر دولت کا مالک کیسے بن گیا۔ جواب بہت واضح ہے۔ فرحان جونیجو درحقیقت ایان علی اور اسی قبیل کے دوسرے گرگوں کے رکھیل، کارندے اور مہرے ہوتے ہیں جو حرص و ہوس سے مغلوب ہو کر جرائم کی دنیا کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر اس دلدل میں دھنستے ہی چلے جاتے ہیں۔ یہاں سے نکلنے میں بھی موت اور وہاں رہنے میں بھی موت، ذلت اور رسوائی۔
ایک ماہ عمر رکھنے والی حکومت میں بیرسٹر شہزاد کرکی وزیراعظم کے مشیر احتساب کی حیثیت سے تقرری کے فوراً بعد وہ لندن گئے اور 2013ءکو دائر کردہ مقدمے کی بنیاد پر لندن میں اپنے ہم منصوبوں سے مصروف مذاکرات تہے۔ بیرسٹر شہزاد کرکی کاوشیں اور وزیراعظم عمران خان صاحب کی آشیر باد کا نتیجہ یہ نکلا کہ پرسوں اسلام آباد میں برطانوی وزیر داخلہ کی آمد کے موقع پر نہ صرف دونوں ممالک کے مابین انصاف اور احتساب کا معاہدہ طے پاگیا بلکہ اس معاہدے کے شکنجے میں پہلا شکار فرحان جونیجو کی شکل میں آپھنسا۔امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے ایام میں برطانیہ میں مختلف بلوں میں گھسے ہوئے دیگر مجرمین بھی پاکستان پہنچ چکے ہوں گے۔ ان میں بڑے مجرم نواز شریف کا سمدھی اور سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار اور اس کے دو مفرار اور مجرم بیٹے حسن اور حسین بھی شامل ہوں گے۔
پر افوس اتنی بڑی کامیابی کو پی ٹی آئی حکومت عامتہ الناس میں مناسب طور پر پروجیکٹ نہ کر سکی حالانکہ یہ اس کا حق بھی تھا اور فرض بھی!

Scroll To Top