پیٹ کاٹنے کا مطلب ! 24-12-2013

kal-ki-baat
بعض حقائق کو سمجھانے کے لئے لمبے چوڑے مضامین اور مقالوں کی ضرورت نہیں ہوتی چند جملے یا الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں۔مثلاً یہ حقیقت بیان کرنے کے لئے ہمیں کسی لمبی چوڑی تمہید میں جانے کی کیا ضرورت ہے کہ مہنگائی امراءکا مسئلہ نہیں ؟ 22دسمبر 2013ءکو تحریک انصاف نے لاہور سے مہنگائی کے طوفان کے خلاف جس مہم کا آغاز کیا ہے اس پرہمارے حکمران طبقے سخت سیخ پا ہیں۔
انہیں سیخ پا ہونا بھی چاہئے۔ انہوں نے مہنگائی کا لفظ صرف سنا یا پڑھا ہے۔ انہیں مہنگائی کا مفہوم سمجھنے کے لئے کسی ”عملی “ تجربے سے گزرنا نہیں پڑا ہوگا۔ اگر کوئی شخص کسی حکمران سے کہتا ہوگا کہ حضور ٹماٹر ڈیڑھ دو سو روپے کلو تک پہنچ چکے ہیں تو جواب ملتا ہوگا۔
” پھر کیا ہوا ؟ بی ایم ڈبلیو تو دو کروڑ میں ملتی ہے `دوسو کوئی بڑی رقم تو نہیں ۔“
کاش کہ بی ایم ڈبلیو والی کلاس کے لوگ جان سکتے کہ دو سو روپے واقعی کوئی بڑی رقم نہیں لیکن زندہ رہنے کے لئے ٹماٹر کافی نہیں اور مہینے میں تیس دن ہوتے ہیں۔
میں خوش قسمت ہوں کہ جینے کے لئے پیٹ کی ضرورت پوری کرنا میرا مسئلہ نہیں۔ میرا مسئلہ کپڑا بھی نہیں اور مکان بھی نہیں۔ مگر اس ملک کی نوے فیصد آبادی کے مسائل یہی ہیں۔ مہنگائی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بڑھنے سے ہر غریب کو اپنا پیٹ کاٹنا پڑتا ہے۔
پیٹ کاٹنے کا مطلب کیا ہے ؟ اور مسلسل پیٹ کا ٹتے رہنے سے زندگی پرکیا نتائج مرتب ہوتے ہیں اس کا تھوڑا بہت تجربہ ہمارے حکمرانوں کو ضرور ہوناچاہئے۔ جناب حمزہ شہباز کا فرماناہے کہ میں بزنس کرتاہوں جرم نہیں کرتا۔ لیکن وہ بزنس کریں یا جرم اس سے ملک و قوم کو کوئی سروکار نہیں۔ ملک و قوم کو دلچسپی صرف اس بات سے ہے کہ ان کے حاکم نہ تو جرم کریں اور نہ ہی بزنس ۔

Scroll To Top