ملک کس طرح اٹھتے ہیں اس کا فارمولا ہٹلر نے طے کردیا تھا!

aaj-ki-baat-new

قوموں اور ملکوں کے فرش سے عرش تک جانے کی داستانوں کو میں نے اپنی زندگی میںجنم لیتے دیکھا ہے۔ اگر آپ نے میکسیملین شیل `برٹ لنکا سٹر` سپنسرٹریسی ` مانٹو گومری کلفٹ اور رچرڈ و ڈمارک کی معرکتہ الارا فلم ” ججمنٹ اِیٹ نیورمبرگ“ دیکھی ہے تو آپ کو وہ جرمن کھنڈرات یاد ہوں گے جو جنگ عظیم دوم سے پہلے ہنستے بستے ترقی یافتہ شہر ہوا کرتے تھے۔۔۔
ہم نے اپنی آنکھوں سے ان کھنڈرات کو دوبارہ عظیم شہروں میں ڈھلتے دیکھا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جس جرمنی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی وہ کیسے ایک بڑی یورپی طاقت بن کر دنیا کے نقشے پرنمودار ہوا۔ بالکل ایسی ہی داستان جاپان کی ہے۔
یہ معجزے ہم نے اپنی زندگی میں دیکھے ہیں۔ مگر ان معجزوں میں جہاں متعلقہ قوموں کے ” عزم ِ تعمیر“ اور آ ہنی ارادوں کا تعلق ہے وہاں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جنم لینے والے نئے حقائق کی روشنی میں سوویت یونین کی بڑھتی ہوئی قوت کے مقابلے میں امریکہ کے لئے یہ بات ناگزیر تھی کہ جرمنی اور جاپان کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرکے انہیں اپنا اتحادی بنائے۔
میں جس معجزے کی بات کررہا ہوں وہ ہوا تو انسانی تاریخ کے اِسی عہد میں تھا لیکن اس معجزے کو ایک حقیقت بنانے میں جن عوامل نے کام لیا تھا میں انہیں اپنی قوم اور اپنی قیادت کی رہنمائی کے لئے سامنے لانا چاہتا ہوں۔
کون نہیں جانتا کہ پہلی جنگ عظیم میں عبرتناک شکست کھانے کے بعد جرمنی ذلت و رسوائی کی ایک پوری دہائی سے گزرا۔ 1927ءمیں ہونے والے ” وارسیلز کے معاہدے“ نے جرمنی کی آزادی کو بھی ایک لحاظ سے سلب کردیا۔1930ءمیں جرمن معیشت کا حال یہ تھا کہ ویانا کی مارکیٹ میں ایک ڈالر کے حصول کے لئے جرمن مارکس کی ایک پوری بوری درکار ہوتی تھی۔ تاریخ میں کسی بڑی کرنسی کی اتنی خوفناک تذلیل کبھی نہیں ہوئی۔
نازی ازم کا بانی ایڈولف ہٹلر ایسی ہی صورتحال کی پیداوار تھا۔
اپنے پہلے الیکشن میں اسے خاطر خواہ کامیابی نہ ہو سکی۔ مگر اس نے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ دوسرا الیکشن 1933ءمیں ناگزیر ہوگیا۔ اس کا نعرہ یہ تھا ۔ ” جرمنی کو اس کی عظمتیں واپس دلانے والی قیادت اسے مل گئی ہے۔ جرمن اپنے چہرے سے رسوائی کے تمام بدنما نشان کھرچ کر پھینک دیں گے۔۔۔“
1933ءکے انتخابات میں ہٹلر کو حیرت انگیز کامیابی حاصل ہوئی۔ اس زمانے میں جرمنی میں ایک طرف کمیونسٹ پارٹی کا زور تھا اور دوسری طرف سرمایہ کار اور صنعت کاریہودیوں کے زیر اثر تھے۔ صنعتوں میں یا تو ہڑتالیں ہوا کرتی تھیں یا پھر تالہ بندیاں۔
معیشت کا پہیہ رکا ہوا تھا۔
ٹریڈ یونینوں کو غیر معمولی طاقت حاصل تھی۔ ہٹلر کے دست راست روئم نے ٹریڈ یونینوں کی حمایت سے ہی نازی پارٹی کو واضح برتری دلائی تھی۔ اتفاق یہ ہوا کہ نازی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی ملک میں ایک بڑی ہڑتال ہوئی۔
ہٹلر نے فوری طور پر اعلان کیا کہ میں ٹریڈ یونینوں اور صنعت کاروں کے تمام مسائل فوری طور پر حل کرنا چاہتا ہوں چنانچہ ایک اجتماعی اجلاس ناگزیر ہے۔
یوں نازی ہیڈکوارٹر کی ساتویں منزل پر ٹریڈ یونین لیڈروں اور بڑے صنعتکاروں کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا جس کی صدارت ہٹلر نے خودکی تھی۔
اجلاس کا طے شدہ وقت گیارہ بجے تھا تمام شرکاءوقت پر موجود تھے۔ انتظار صرف ہٹلر کا تھا جو ٹھیک ساڑھے گیارہ بجے نمودار ہوا۔ اس کے ساتھ گسٹایو کے افسران تھے جن میں نمایاں ہملر تھا۔ ۔ ” حضرات مجھے تاخیر اس لئے ہوئی ہے کہ پارٹی کے دوسینئرارکان کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا جسے ختم کرنے کے لئے ایک فریق کا خاتمہ لازمی تھا۔ مجھے فیصلہ کرنے سے میں ذرا دیر لگ گئی ورنہ میں ایسے معاملات میں چند منٹ سے زیادہ نہیں لیا کرتا۔ اب آپ حضرات بتائیں کہ آپ کے مسائل کیا ہیں ۔ آغاز ` میں دائیں جانب بیٹھے لیبر لیڈر سے کرتا ہوں۔ کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ ہر چوتھے روز ہڑتال کیوں کی جاتی ہے ۔۔۔؟“ ہٹلر خاموش ہوگیا تو جن صاحب سے سوال پوچھا گیا تھا وہ اٹھا اور بولنے لگا۔۔۔
”فیوہرر۔۔۔ ہمارے مطالبات بالکل جائز نوعیت کے ہیں جو پورے نہیں ہوتے تو ہم ہڑتال پر مجبور ہو جاتے ہیں۔“
’ ’ اب آپ ایسا کرنے پر مجبور نہیں ہوں گے ۔ آپ کے مطالبات کا حل ابھی ہوجاتا ہے۔ “ یہ کہہ کر ہٹلر نے اپنے پیچھے کھڑے گسٹایو افسران کی طرف دیکھا۔ ان میں سے دو آگے بڑھے۔ اور انہوں نے متعلقہ لیبر لیڈر کو دبوچ کر اٹھا لیا اور سامنے کھلی کھڑکی کی طرف چل پڑے۔ شرکاءکے خواب و خیال میں نہیں تھاکہ کیا ہونے والا ہے۔ گسٹایو افسران نے نہایت پھرتی سے لیبر لیڈر کو کھڑکی سے باہر اچھال دیا۔ موصوف چیخا ضرور ہوگا مگر اس کی چیخ ساتویں منزل تک نہ پہنچ سکی۔
اس کے بعد ہٹلر صنعتکاروں کی طرف متوجہ ہوا۔
” آپ کا مسئلہ کیا ہے۔ ؟ آپ کیوں آئے دن تالہ بندی کرتے ہیں ۔۔۔؟“
” آپ کی قیادت میں ہم تالہ بندی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے فیوہرر۔۔۔ ‘ ‘ صنعت کاروں کے لیڈر نے جواب دیا۔
” نہایت دل خوش کن بات ہے۔“ ہٹلر نے جواب میں کہا۔ ” نہ صرف یہ کہ کبھی تالہ بندی نہیں ہو گی۔ کبھی چھٹی بھی نہیں ہوگی۔ فیکٹریاں دن رات چلیں گی۔ مزدوروں کی اجرت میں پچیس فیصد اضافہ کردیا جائے مگر ہر مزدور بارہ گھنٹے کام کرے گا۔ کسی کو کچھ کہنا ہے تو ابھی کہہ دے۔۔۔“
سب اٹھ کھڑے ہوئے اور نعرہ لگا ۔
” ہر ہٹلر ۔۔۔Herr Hitler“
عمرا ن خان کو اگر نیا پاکستان بنانا ہے تو بہت جلد ” عبرت“ کی کم ازکم ایک داستان کاجنم ناگزیر ہے۔۔۔

Scroll To Top