فنانس ترمیمی بل پیش:وزیر اعظم ،گورنرز، وزراء کی ٹیکس استثنیٰ ختم

  • ای او بی آئی پنشن کم از کم 10 ہزار روپے کرنے کی تجویز ،ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5ارب روپے کا ریلیف، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں اضافہ واپس،10ہزار مزدوروں کیلئے نئے گھروں کی تعمیر ، وفاق اور وفاٹا کیلئے صحت کارڈز سکیم متعارف کرانے کا اعلان، 4لاکھ روپے سالانہ تک آمدن پر ٹیکس ریلیف برقرار
  • نان فائلر کیلئے گاڑی اور پراپرٹی خریدنے پر عائد پابندی ختم موبائل فونز مہنگے، 1800CCاور زائد ہارس پاور کی گاڑیوں اور سگریٹس پر ڈیوٹی کا نفاذ، بینک ٹرانزیکشن پر نان فائلر 0.6 فیصد ٹیکس ادا کرےگا ،ٹیکس کا بوجھ صرف امیروں پرڈالا گیاہے ، مثبت نتائج سامنے آنے میں وقت لگے گا ، وزیر خزانہ اسد عمر
اسلام آباد:۔ وزیر خزانہ اسد عمر قومی اسمبلی میں ضمنی بجٹ پیش کر رہے ہیں

اسلام آباد:۔ وزیر خزانہ اسد عمر قومی اسمبلی میں ضمنی بجٹ پیش کر رہے ہیں

اسلام آباد(آن لائن)وزیر خزانہ اسد عمر نے فنانس سپلیمنٹری ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے 178 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں 312 پی ایس ڈی پی کی شرح میں 1030 ارب روپے سے کم کرکے 725 ارب روپے کردیا گیاجبکہ اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے جبکہ وزیر اعظم گورنرز وزراء کی ٹیکس استثنی ختم کردی گئی ہے وفاقی وزیر نے ٹیکس آرڈینس میں تبدیلی کے بعد ایوان کو بتایا کہ چار لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر انکم ٹیکس ریلیف برقرار رہے گی4 لاکھ سے 8 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ایک ہزار روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہےا ٓٹھ لاکھ روپے سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 2 ہزار روپے ٹیکس لگانے کی تجویز ہے 12 لاکھ روپے سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 5 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے24 لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 60 ہزار روپے ٹیکس کی تجویزچوبیس لاکھ سے زیادہ اور 48 لاکھ روپے سےکم رقم پر10 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز اڑتالیس لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن پر 3 لاکھ فکسڈ ٹیکس اور اضافی 15 فیصد ادا کی تجویز ہے تنخواہ دار طبقہ اور دیگر امدن پر الگ الگ ٹیکس سلیب ہیں900 درامدی اشیاء پر ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگائی جارہی ہے پانچ ہزار درامدی اشیاء ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی لگانے کی تجویز ہے نان فائلر کیلئے گاڑی خریدنے پر عائد پابندی ختم کردی گئی موجودہ صورتحال میں خسارہ 7.2 تک پہنچ سکتا ہے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی حساس موڑ پر کھڑے ہوگئے ہیںمعیشت کا استحکام، روزگاری ہماری اولین ترجیع ہے گزشتہ سال مالیاتی خسارہ 6.6 تک پہنچ گیا تھاروپے کی کمی میں عام آدمی بری طرح متاثر ہوتا ہے ملک پر بیرونی قرضے 95 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیںپنشن میں دس فیصد اضافہ فوری کررہے ہیں صحت کارڈ اسلام آباد اور فاٹا تک بڑھا رہے ہیںلگڑری آئٹمز سگریٹ وغیرہ پر ٹیکس بڑھا رہے ہیںعام آدمی والے نہیں مہنگے فون پر ٹیکس لگا رہے ہیں انہوان نے کہا کہ نان فائلرز گاڑی اور پراپرٹی خرید سکیں گے تنخواہوں والا پچھلا سلیب برقرار رکھ رہے ہیںدولاکھ ماہانہ لینے والوں کی پہلی پوزیشن برقرار رہے گیستر ہزار امیرلوگوں کے لئے ٹیکس بڑھانے جارہے ہیںپبلک ڈیبٹ 28 ہزار ارب روپے سے زائد ہے گیس کا گردشی قرضہ 150 اربچروپ سے زائد ہےگزشتہ آخری بجٹ میں 250 ارب روپے کے اخراجات کم دکھائے گئے ہیں۔گزشتہ بجٹ میں 890 ارب روپے خسارہ کم دکھایا گیاکل 1900 ارب کا خسارہ دکھایا گیا تھابجٹ خسارہ 2790 ارب روپے کا خسارہ بنتا ہےآخری بجٹ میں صوبوں کا 200 ارب روپے کا سرپلس دکھایا گیا تھاانکم ٹیکس فائلر کیلئے بینکنگ ٹرانزیکش کے ٹیکس کو بڑھا کر 0.6 فیصد کردیا گیا ہے1800 سی سی گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ دوچیزوں کی وجہ سے سپلیمنٹری بل پیش کررہے ہیں گزشتہ بجٹ میں جو فیگرز پیش کئے گئے وہ غلط تھے معیشت کی انتہائی بری حالت ہےگزشتہ برس اسٹیٹ بنک سے 1200 ارب روپے لئے گئے ہیں اسٹیٹ بنک کے ریزروائیرگرتے جارہے ہیں روائزبجٹ پیش کرنے کے علاوہ آپشن نہیں تھاایف بی آر میں بڑی تبدیلیاں لائی جائیں 50فیصد ان لوگوں پہ ٹیکس لگایا ہے جو بوجھ برداشت کرسکتے ہیں فائلرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا ہے گورننس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ایکسپورٹ آئے روز کم ہو رہی ہے،ہم قرض گزشتہ قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے لے رہے ہیں ،انڈسٹری پہ 5 ارب کی آرڈی ختم کردی ہے گیس کی قیمت میں پنجاب کی انڈسٹری کو 44 ارب روپے کا فائدہ دیا ہے بند فیکٹریاں جلد چلنا شروع ہوجائیں گی کھاد بنانے والی کمپنیوں کو سستی ایل این جی کی فراہمی شروع کردی ہے،بجلی گیس چوروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی،جاری کھاتوں کا خسارہ 18 بلین سے 21 بلین ڈالر ہے۔

Scroll To Top