مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کےلئے حکومت کا پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان

  • عوام کے نمائندوں پر مشتمل بااختیار خصوصی کمیٹی بنائی جائے گی، جس کی سربراہی حکومتی جماعت کے پاس ہوگی
  • شفاف انتخابات جمہوریت کی ضرورت ہےں اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائےگا ، شاہ محمود قریشی، جو بھی کمیٹی بناو¿ں گا رولز کے مطابق بناو¿ں گا، اسد قیصر

انتخابات میں حصہ لینے والے 2ہزار سے زائد امیدواروں کو مقدمات کا سامنااسلام آباد (این این آئی) اپوزیشن کے مطالبے پر حکومت نے الیکشن 2018میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کےلئے پارلیمانی کمیٹی قائم کر نے کا اعلان کر دیا ہے ،کمیٹی کی تشکیل اور ٹی او آرز بنانے کےلئے تحریک قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ اپوزیشن کو 2018ءکے انتخابات پر شکوک و شبہات ہیں ،شفافیت کو یقینی بنانے کےلئے کچھ بھی پوشیدہ نہیںرکھیں گے ، عوام کے نمائندوں پر مشتمل بااختیار خصوصی کمیٹی بنائی جائےگی ، جس کی سربراہی حکومتی جماعت کے پاس ہوگی۔ منگل کو قومی اسمبلی کااجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تحریک پیش کی کہ الیکشن 2018ءمیں دھاندلی کے الزامات کی چھان بین اور ٹی او آرز کے تعین کےلئے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے خصوصی کمیٹی قائم کی جائے۔تحریک کے متن میں کہا گیا کہ کمیٹی تحقیقات کےلئے ٹی او آرز تیار کرےگی اور آئندہ دھاندلی کی روک تھام کےلئے مناسب اقدامات تجویز کرےگی۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کو 2018 کے انتخابات پر شکوک و شبہات ہیں ،ہم نے اپوزیشن کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا، ہم شفافیت کو یقینی بنانے کےلئے کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھیں گے، عوام کے نمائندوں پر مشتمل بااختیار خصوصی کمیٹی بنائی جائے گی، جس کی سربراہی حکومتی جماعت کے پاس ہوگی۔حکومت کی طرف سے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک پر احسن اقبال نے کہا کہ قرارداد میں یہ بات شامل کی جائے کہ یہ بااختیار ہو اور کسی کو بھی طلب کرنے کی مجاز ہوپیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے مطالبہ کیا کہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کو مساوی نمائندگی دی جائے اور شفاف تحقیقات کےلئے پارلیمانی کمیٹی کی چیئرمین شپ بھی حزب اختلاف کو دی جائے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں فیصلہ ہوا کہ جب تک کمیٹی میں اپوزیشن کی نمائندگی اور چیئرمین شپ کا فیصلہ نہیں ہوگا آگے بڑھنا مشکل ہوگا۔ اس معاملے پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی ٹیم اب بھی بات چیت میں مصروف ہے۔ ہم تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اس میں ووٹنگ کا عمل دخل اہمیت نہیں رکھتا۔ اسی طرح کا مطالبہ مسلم لیگ (ن) کے خرم دستگیر نے کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کی شفافیت پر سنگین تحفظات ہیں اس لیے پارلیمانی کمیٹی میں برابر نمائندگی اور چیئرمین شپ اپوزیشن کے پاس ہونی چاہیے۔ اور کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے ہونے چاہئیں اور اس کی کارروائی شفافیت سے آگے بڑھنی چاہیے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ خصوصی کمیٹی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری سیاست کا بڑا المیہ یہ ہے کہ 2013ءکے انتخابات پر آج کی حکمران جماعت کو بطور اپوزیشن اعتراض تھا۔ 2018ءکے الیکشن پر آج کی اپوزیشن کو تحفظات ہیں۔ یہ مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے۔ یہ انتخابات کا معاملہ ہے۔ مساوی نمائندگی کی بنیاد پر اگر فیصلہ ہوا تو اس کو کوئی چیلنج نہیں کر سکے گا۔ اگر حکومت کے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے تو مساوی بنیاد پر نمائندگی اور چیئرمین شپ اپوزیشن کو دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کی سربراہی اسحاق ڈار کو دی گئی‘ کمیٹی میں نمائندگی پارٹیوں کو عددی تناسب کے تحت دی جاتی ہے۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کی رکن شاہدہ اختر علی نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے بنائی جانے والی کمیٹی اپوزیشن کے مطالبہ پر بن رہی ہے اس لئے اس میں مساوی نمائندگی کا مطالبہ تسلیم کیا جائے۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شفافیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائےگا تاہم اپوزیشن کا حق ہے کہ وہ احتجاج کرے، ان کا نکتہ اعتراض رجسٹر ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف اپنا موقف پیش کریں ، اس کو سنا جائے گا، شفاف انتخابات جمہوریت کی ضرورت ہے ،ہم نے اپوزیشن کے موقف پر سر تسلیم خم کیا ہے ،جمہوری قدروں کی مضبوطی اصولی موقف ہے اور اختلافات کے باوجود آگے بڑھنا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک ہی مطالبہ سامنے آنے پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ جو بھی کمیٹی بناو¿ں گا رولز کے مطابق بناو¿ں گا۔

Scroll To Top